افغانستان میں طالبان کی آمد‘ آگے کیا ہو گا؟

افغانستان میں طالبان کی آمد‘ آگے کیا ہو گا؟
افغانستان میں طالبان کی آمد‘ آگے کیا ہو گا؟

  

افغانستان میں طالبان پھر آ گئے ہیں اور ایسے آئے ہیں کہ سارے امکانات‘ خدشات اور اندیشے‘ سارے تجزیے اور جائزے‘ ساری پیش گوئیاں اور امیدیں حتیٰ کہ تجربے بھی غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی خیال یہ تھا کہ امریکی افواج جس طرح نکلی ہیں اور اشرف غنی سمیت افغان حکومت کی ساری مشینری کے ہاتھ پاؤں جس طرح پھول رہے ہیں‘ اس کا نتیجہ افغانستان میں افراتفری پھیلنے اور وحشت انگیز خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا۔ 25 جون 2021ء کو واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات کے دوران اشرف غنی نے اسی خدشے کا اظہار کرتے ہُوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں خانہ جنگی کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ جس تیزی سے انخلا کے پروگرام پر عمل کر رہا تھا‘ اس سے اس سازشی تھیوری نے جنم لیا کہ امریکہ کی اپنی خواہش یہی ہے کہ افغانستان شدید قسم کی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آجائے تاکہ امریکہ کو افغانستان میں مزید قیام کا موقع مل جائے۔اسی دوران ایک اور سازشی تھیوری سامنے آئی کہ امریکی انخلا اور طالبان کے افغانستان کے بیشتر حصے پر قابض ہونے کے پیچھے کوئی ڈیل موجود ہے ورنہ ساڑھے تین لاکھ ٹرینڈ فوج ہونے کے باوجود طالبان کو کوئی رد عمل پیش نہ ہونا ممکن نہیں۔

اس سازشی تھیوری کو اس بات سے بھی تقویت ملی کہ امریکہ جاتے جاتے جہاں بہت سا اسلحہ اور جنگی سامان اپنے ساتھ لے گیا‘ وہاں کافی افغانستان میں ہی چھوڑ گیا‘ اور سننے میں آیا کہ وہ طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے‘ چنانچہ ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکہ یہ حربی سامان اس طرح نہتا کیوں چھوڑ کر گیا اور اسے افغان فوج کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟امریکیوں نے اربوں ڈالرز کی یہ گاڑیاں افغانستان میں کیوں چھوڑیں؟ کیا دانستہ یہ کام کیا گیا تاکہ یہ افغان طالبان کے ہاتھ لگ جائیں؟ اسی سوال سے ایک سازشی تھیوری یہ بھی پھوٹتی ہے کہ بیس سال امریکہ میں قیام‘ طالبان کے خلاف برسرِ پیکار رہنے اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ ایسی افغان فوج تیار کیوں نہیں کر سکا کہ وہ طالبان کو روک نہ سکتی تو کم از کم کچھ عرصے کے لئے مزاحمت ہی پیش کر سکتی؟ ایک سپر پاور‘ جو اگلے دس بیس نہیں پچاس سال کے منصوبے بنا کر اس پر عمل درآمد کر رہی ہے‘ کا یہ کہنا کتنا قابل قبول ہو سکتا ہے کہ اپنی ہی تیار کردہ افغان فوج کی اہلیت کا وہ ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگا سکی؟

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ سارا مسئلہ دو وجوہ کی بنا پر پیدا ہوا۔ پہلا یہ کہ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا جزوی طور پر ہوا ہے یعنی امریکہ نے تو اپنی فوجیں نکال لی ہیں، لیکن انٹرا افغان ڈائیلاگ کو کامیاب بنانے کی کوئی ٹھوس اور جامع کاوش نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایک غلط معاہدہ طے پایا۔ امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن دینے کے بجائے اسے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی کامیابی سے مشروط کیا جاتا تو آج افغانستان کی صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ 

وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے اس بار طالبان کے حوالے سے ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔ یہ ایک مثبت رویہ ہے کہ عالمی برادری کا رد عمل دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے، کیونکہ پچھلی بار یعنی 1996ء میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کی پاکستانی حکومت ان کو تسلیم کرنے میں سب سے سبقت لے گئی تھی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ دنیا نے سمجھا کہ ان کو لانے والے ہم ہیں‘ اس طرح ان سے جڑے معاملات میں ہمیں بھی شامل کیا جاتا رہا۔ طالبان کی جانب سے اب تک جو اعلانات کئے گئے ہیں، وہ تو بڑے مثبت ہیں۔یہ خوش آئند اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان اعلانات‘ حتیٰ کہ ان پر عمل درآمد کے بعد بھی عالمی برادری افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لے گی؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ اگر افغان طالبان اپنے اعلانات پر من و عن عمل کر بھی لیتے ہیں تو عالمی برادری کی خواہش ہے کہ افغانستان میں تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ اور متحدہ حکومت قائم ہو۔ اعلانات پر عمل درآمد سے یہ شرط تو پوری نہیں ہو گی چنانچہ ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ پھر آگے کیا ہو گا؟ دراصل ساری دنیا کی نظریں اسی سوال پر لگی ہیں، لیکن چند روز میں یہ واضح ہو جائے گا کہ افغانستان کی قسمت میں کیا لکھا ہے، فی الحال  تو ایک ابہام ہے جو چار سو پھیلا ہوا ہے اور ایک دھند ہے جو ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ اس وقت سبھی ٹیوے ہی لگا رہے ہیں، ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہے ہیں۔ میری نظر میں اس حوالے سے ایک درمیانی راستہ ہی اس چھائی ہوئی دھند کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ لچک طالبان دکھائیں،جیسے انہوں نے گزشتہ برسوں میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران دکھائی اور کچھ لچک کا مظاہرہ عالمی برادری کرے تو آگے بڑھنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ یہ کہ افغان طالبان افغانستان کی باقی سیاسی قوتوں کو بھی اقتدار میں شامل کریں اور عالمی برادری ایسی افغان حکومت کو تسلیم کر لے۔

مزید :

رائے -کالم -