کراچی میں پی ڈی ایم کا کامیاب شو، خطرے کی گھنٹی؟

 کراچی میں پی ڈی ایم کا کامیاب شو، خطرے کی گھنٹی؟
 کراچی میں پی ڈی ایم کا کامیاب شو، خطرے کی گھنٹی؟

  

پی ڈی ایم اپنی تحریک کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، کراچی میں اس نے ایک کامیاب جلسہ کیا ہے۔ اس جلسے کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ اس میں پیپلزپارٹی شریک نہیں تھی، اس کے باوجود ایک بڑا جلسہ اس بات کا اشارہ ہے۔ پی ڈی ایم آج بھی ایک مقبول سیاسی اتحاد ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے، وہ حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔ کراچی کے جلسے میں مقرین نے بڑے سخت پیغامات دیئے ہیں اور انقلاب لانے کی باتیں بھی کی ہیں۔ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی دھمکی بھی دے دی ہے اور سڑکوں پر احتجاج کو مزید تیز کرنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا ہے۔ ایک سیاسی تحریک کے لئے جو ایندھن چاہیے ہوتا ہے، وہ اس وقت موجود ہے اور یہ خود حکمرانوں نے فراہم کیا ہے۔ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں خراب معاشی حالات کسی بھی تحریک کا سب سے بڑا ایندھن بنتے ہیں۔ اس وقت یہ ایندھن پی ڈی ایم کو بڑی آسانی سے اور بڑی مقدار میں دستیاب ہے۔

عوام کے مسائل سے بے پروا حکومت اس بات کو بھول چکی ہے کہ حالات چنگاری کو شعلہ بنانے کے مرحلے میں ہیں۔ آپ کراچی کے جلسے میں کی گئی باتوں کو جتنا بھی جھٹلائیں اس ایک بات کو نہیں جھٹلا سکتے کہ موجودہ حکومت نے پاکستانی معیشت ڈبو دی ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اب ان وزرا کا سکہ تو نہیں چل سکتا جو کہتے ہیں کہاں ہے مہنگائی، کون مرا ہے بھوک سے دکھاؤ، سامنے لاؤ؟ نجانے کتنے لوگ روزانہ بھوک سے مرتے ہوں گے، جسمانی طور پر نہ سہی، کڑھ کڑھ کے، دکھی ہو کے، وہ روزانہ اس عذاب سے گزرتے ہوں گے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے جانا، دوائیوں تک کو سستا نہ رہنے دینا حکومت کا ایک ایسا ظالمانہ عمل ہے، جس پر احتجاجی تحریک سوکھے پتوں کو لگنے والی آگ کی طرح زور پکڑ سکتی ہے۔

پیپلزپارٹی کے نکل جانے سے پی ڈی ایم ایک فطری اتحاد بن گیا ہے۔ پی ڈی ایم میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی موجودگی ایک نیام میں دو تلواروں کے مترادف تھی۔ پھر پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت تھی جس کے پاس سندھ کی حکومت بھی ہے۔ وہ کھل کے اس نظام کے خلاف سامنے آ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس طرح خود اس کے پر بھی جلتے تھے۔ استعفوں کے معاملے پر بھی سب سے زیادہ مخالفت پیپلزپارٹی نے ہی کی، کیونکہ اس طرح اسے سندھ حکومت سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے۔ پھر حکومت اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اقتدار کے لئے ایک ہو گئی ہیں، حالانکہ ماضی میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں، پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں موجودگی کے باعث اس اتحاد پر ایک دباؤ تھا، شکوک و شبہات کے سائے تھے، مسلم لیگ (ن) کو تو اس اتحاد میں رہنا تھا کیونکہ اس کے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں، پھر نوازشریف کی سزا اور جلاوطنی بھی دو ایسی چیزیں ہیں، جن کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتی، جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو وہ بھی پیپلزپارٹی کی موجودگی میں کچھ زیادہ مطمئن نہیں تھے۔ جب یہ جمہوری سیٹ اپ 2018ء میں شروع ہوا تھا تو اس وقت بھی مولانا فضل الرحمن کی اس تجویز کوکہ اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھایا جائے، سب سے آگے بڑھ کر پیپلزپارٹی ہی نے روکا تھا۔ اس لئے آج پی ڈی ایم پیپلزپارٹی کے بغیر زیادہ واضح طور پر اپنے ایجنڈے پر کھڑی ہے۔ کراچی کا جلسہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہاں پیپلزپارٹی کے بغیر ایک بڑا جلسہ ہو سکتا ہے تو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کتنے بڑے جلسے ہوں گے، جہاں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) کی مقبولیت مسلمہ ہے۔

اگر سیاسی درجہ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو حکومت کے لئے مشکلات بھی بڑھتی جائیں گی، حکومت مضبوط بنیادوں پر نہیں کھڑی، اس کے پاس قومی اسمبلی میں بمشکل سادہ اکثریت ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے رائے عامہ بڑی تیزی سے اس کے خلاف ہو چکی ہے اور اس کا بنیادی سبب اس کی معاشی حوالے سے بُری کارکردگی ہے۔ یہ افواہیں تو پہلے سے گردش کر رہی ہیں انتخابات قبل از وقت ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا مرحلہ آتا ہے، جس کی طرف پی ڈی ایم کے جلسے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ لاکھوں افراد لے کر اسلام آباد کا رخ کریں گے، تو اس صورت میں بھی حکومت پر دباؤ بڑھے گا، نہ صرف حکومت بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی حالات کو سدھارنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جولوگ کہتے ہیں پی ڈی ایم نے تین سال میں حکومت کا کیا بگاڑ لیا جو اب تحریک کے نئے مرحلے میں بگاڑلے گی، وہ اس حقیقت کو فراموش کر جاتے ہیں تین سال پہلے جب حکومت مخالف تحریک شروع کی گئی۔ اس وقت عوام کی اس حکومت سے کچھ کچھ امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ سمجھتے تھے عمران خان نے جو وعدے کئے ہیں انہیں پورا کریں گے۔ آج تین سال بعد عوام کی امیدوں کی سطح وہ نہیں رہی، بہت نیچے آ چکی ہے بلکہ مایوسی میں ڈھل رہی ہے۔ اب عمران خان کی باتیں انہیں خوشنما وعدے لگتی ہیں، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، کل تک پی ڈی ایم کے جلسوں میں جو کہا جاتا تھا عوام کے لئے وہ اس لئے بے معنی تھا کیونکہ ان کی توقعات عمران خان سے وابستہ تھیں،آج جو کچھ جلسوں میں کہا جا رہا ہے۔ عوام اسے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ ہے وہ بنیادی فرق جو پی ڈی ایم کی تحریک کو کامیاب بنا سکتا ہے اور حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

اس بار پی ڈی ایم کی تحریک کا توڑ کرنے کے لئے وہ روائتی بیانیہ کام نہیں آئے گا، جو حکمران جماعت تین سال سے اپنائے ہوئے ہے۔ یعنی پی ڈی ایم کی تحریک کو چوروں اور لٹیروں کی طرف سے اپنا مال بچانے کی تحریک قرار دینا اور اس کا جواز این آر او نہ دینے کو بنانا، کیونکہ عوام جان چکے ہیں ان تین برسوں میں کسی کو سزا ہوئی ہے اور نہ ہی لوٹی دولت واپس لائی گئی ہے۔ نیب پکڑ دھکڑ کرتی رہی  اور لوگ عدالتوں سے ضمانتوں پر رہا ہوتے رہے۔ زیادہ تر نشانہ اپوزیشن والے بنے اور جن حکومتی شخصیات کے مالی سکینڈلز سامنے آئے، انہیں بچا لیا گیا۔ اب حکومت کے پاس پی ڈی ایم کی تحریک کو ناکام بنانے کا ایک ہی راستہ ہے، وہ اپنی باقی ماندہ مدت میں کارکردگی بہتر کرے، عوام کو مہنگائی کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دے۔ ان کی مشکلات کو کم کرے، اندھا دھند ایسے فیصلے کرنے کی بجائے جو عام آدمی کی زندگی کو مشکل سے مشکل بنا رہے ہیں، اپنی سمت تبدیل کرے۔

عام آدمی پر ٹیکس  لگاناسب سے آسان ہوتا ہے، کیونکہ اس کی کوئی اجتماعی آواز نہیں ہوتی، جبکہ خواص پر ٹیکس لگانے سے ملک کی اشرافیہ ناراض ہو جاتی ہے، مگر حکمران ایسا کرتے ہوئے یہ بات بھول جاتے ہیں۔ اشرافیہ کی ناراضی کسی انقلاب کا باعث نہیں بنتی، البتہ عوام ناراض ہو جائیں  تو تخت و تاج اُلٹا دیتے ہیں۔ عوام کے استعمال کی اشیا کو مہنگا کرکے یا ان پر ٹیکس بڑھاکے حکومت چلانے کی حکمت عملی آج حکومت کو اس مقام پر لے آئی ہے، جہاں اسے ایک طرف اپنے سیاسی مخالفین اور دوسری طرف عوام کے منفی ردعمل کا سامنا ہے۔ اگر وزیراعظم اور ان کے وزراء اب بھی یہی سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم ناکام جماعتوں کا اتحاد ہے اور عوام حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس خوش فہمی میں رہنا ان کی مرضی ہے، وگرنہ تین سال میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکاہے اور حالات بڑی تیزی سے دوسری سمت کی طرف جا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -