افغان نیشنل آرمی کے ایک جنرل کی آہ و بکا (2) 

افغان نیشنل آرمی کے ایک جنرل کی آہ و بکا (2) 
افغان نیشنل آرمی کے ایک جنرل کی آہ و بکا (2) 

  

یہ سپیشل فورسز، ملک کی ایک طرح کی کمبٹ کریم کہی جا سکتی ہیں۔ میں نے بادل نخواستہ اپنے ٹروپس کو الوداع کہی اور 15اگست کو کابل چلا گیا۔ لیکن اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ صورت حال کس قدر خراب ہے۔ مسٹر غنی نے مجھے کابل کی سیکیورٹی کا چارج بھی دے دیا۔ لیکن میں اس نئی صورتِ حال کا سامنا نہ کر سکا۔ طالبان آگے بڑھ رہے تھے اور مسٹر غنی ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے تھے!

یہاں کابل میں دھوکہ دہی اور بے وفائی کا دور دورہ ہے۔ مسٹر غنی کے اتنی سرعت سے فرار ہو جانے کی وجہ سے وہ کوششیں ختم ہو گئیں جن کو بروئے کار لا کر طالبان سے کوئی عبوری معاہدہ کیا جا سکتا تھا، جس کے توسط سے ہم شہر (کابل) پر اپنا ہولڈ برقرار رکھ سکتے اور لوگوں کے انخلا کا کوئی بندوبست کر سکتے۔ لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ ایک افراتفری کا عالم پیدا ہو گیا اور وہ مناظر دیکھنے کو ملے جو کابل ائرپورٹ پر دیکھے گئے۔ 

اسی افراتفری اور بدنظمی کو دیکھ کر مسٹر بائیڈن نے 16اگست کو یہ بیان داغا کہ افغان فورسز ڈھیر ہو گئی ہیں اور ساتھ ہی اس جملے کا اضافہ بھی کیا کہ ”بعض حالات میں تو بغیر لڑے سرنڈر کر دیا“۔…… لیکن ہم نے آخر تک نہائت دلیری اور بہادری سے مقابلہ کیا۔ گزشتہ 20برسوں میں ہم نے 66000ٹروپس کی قربانی دی۔ یہ تعداد ہماری لڑاکا فورس کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ افغان ملٹری یکا یک کس طرح ڈھیر ہوئی؟…… اس سوال کا جواب تین نکات کو محیط ہے۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2020ء میں دوحہ (قطر) میں جو معاہدہ کیا اس نے ہمیں برباد کرکے رکھ دیا۔اس معاہدے نے اس خطے میں امریکی مفادات کی آخری تاریخ متعین کر دی……

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم اس کرٹیکل سپورٹ سے محروم ہو گئے جس کو ”کنٹریکٹر لاجسٹک سپورٹ“ کا نام دیا جاتا ہے اور جو ہمارے کمبٹ (لڑاکا) آپریشنوں کے لئے انتہائی ضروری تھی……

اور تیسرا نکتہ یہ ہے جسے غنی حکومت کی کرپشن کا نام دیا جا سکتا ہے، جو سینئر ملٹری لیڈر شپ میں عام تھی اور جس نے ہماری فورسز کو ناکارہ اور معذور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹرمپ۔ طالبان معاہدے نے ہی موجودہ صورتِ حال کو جنم دیا۔ اس معاہدے کی رو سے وہ ناگزیر جارحانہ آپریشنز کم ہو گئے جو امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے روبہ عمل لائے جا رہے تھے۔ افغان سیکیورٹی فورسز کے لئے قوانین گویا راتوں رات تبدیل کر دیئے گئے جس سے طالبان کے حوصلے بڑھ گئے۔ ان کو اپنی فتح کے آثار سامنے نظر آنے لگے۔ وہ امریکیوں کے انخلا کا انتظار کرنے لگے اور ان کو یقین ہو گیا کہ:

خزاں چمن سے ہے جاتی، بہار راہ میں ہے

اس ڈیل (Deal) سے پہلے طالبان نے افغان آرمی کے خلاف کوئی ایک بھی قابلِ ذکر لڑائی نہیں جیتی تھی۔ لیکن اس معاہدے کے بعد ہم روزانہ درجنوں ٹروپس سے محروم ہونے لگے۔

لیکن اس کے باوجود ہم نے لڑائی جاری رکھی۔ پھر اپریل (2021ء) آ گیا اور مسٹر بائیڈن نے کنفرم کر دیا کہ وہ مسٹرٹرمپ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی پاسداری کریں گے اور ساتھ ہی امریکی ٹروپس کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل بھی دے دیا…… یہی وہ لمحہ تھا کہ ہر چیز روبہ زوال ہونے لگی۔

افغان فورسز کو امریکیوں نے اپنے امریکی فوجی ماڈل پر ٹریننگ دی تھی جس کی پشت پر ٹیکنیکل ریکی یونٹیں، ہیلی کاپٹرز اور فضائی آپریشن تھے۔ طالبان پر افغان آرمی کی برتری اسی ٹریننگ میں تھی۔ لیکن یہ برتری اس وقت ختم ہو گئی جب ائر سپورٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی اور ہمارا ایمونیشن ختم ہو گیا۔ اس تمام جنگ کے دوران امریکی کنٹریکٹرز ہمارے بمباروں اور اٹیک اور ٹرانسپورٹ طیاروں کو برقرار (Maintain) رکھتے تھے۔ یہ 17000 سپورٹ کنٹریکٹر جولائی 2021ء کے آتے آتے واپس امریکہ سدھار گئے۔ اگر ان طیاروں میں کوئی ذرا سا بھی ٹیکنیکل نقص پیدا ہوتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر یا ایک C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ یا ایک سروے لینس ڈرون گراؤنڈ کر دیا ہے!

یہ کنٹریکٹرز اپنے ساتھ ان طیاروں کا سافٹ ویئر اور ویپن سسٹم بھی امریکہ لے گئے۔ وہ سافٹ ویئر کہ جس کی مدد سے ہم اپنی گاڑیوں، اسلحہ جات اور ٹروپس کو ٹریک کیا کرتے تھے وہ بھی غائب ہو گیا۔ رئیل ٹائم انٹیلی جنس عنقا ہو گئی۔ ایک طرف طالبان کے پاس سنائپر اور خانہ ساز بارودی آلات (IED) موجود تھے اور دوسری طرف ہمارا دار و مدار جن فضائی اور لیزر گائیڈڈ ہتھیاروں پر تھا وہ ازکار رفتہ ہو گئے تھے۔ جب ہیلی کاپٹر نہ رہے تو ہم اپنے ٹروپس کو ان کے ذریعے جو ہتھیار مختلف مستقروں پر بھجواتے تھے، وہ سسٹم ختم ہو گیا۔ جب سپاہی کے پاس ہتھیار ہی نہ ہو تو کیا وہ لڑے گا؟

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان نے ہماری بہت سی بیسز (Bases) روند ڈالیں اور کئی اور مقامات پر پوری کی پوری یونٹوں نے سرنڈر کر دیا۔

مسٹر بائیڈن کے مکمل انخلا کے حکم نے صورتِ حال بد سے بدتر کر دی۔ انہوں نے گراؤنڈ پر ہماری حالتِ زار کا اندازہ نہ لگایا۔ طالبان کے پاس امریکی ٹروپس کی افغانستان سے واپسی کی حتمی تاریخ آ چکی تھی اس لئے انہوں نے اس عبوری مدت (فروری 2020ء تا حال) میں امریکہ کی طرف سے کسی عسکری جوابی وار کی پرواہ نہ کی۔ ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ امریکہ جنگ لڑنے کا حوصلہ کھو چکا ہے۔ چنانچہ طالبان ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کرتے چلے گئے۔

ہم (میں اور میرے ٹروپس)نے صوبہ ہلمند میں جولائی اور اگست 2021ء کے پہلے ہفتے میں طالبان کی طرف سے یکے بعد دیگرے سات کار بم حملوں کا سامنا کیا۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود ہم ڈٹے رہے…… میں تیسرے نکتے اور پہلو کو نظر انداز نہیں کر سکتا…… میرا اشارہ کرپشن کی طرف ہے…… اگرچہ امریکیوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ کرپشن کا دور دورہ ہے اور اس کا دستاویزی ثبوت بھی ان کے پاس موجود تھا۔ لیکن اس کے باوجود غنی حکومت اور فوج نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی…… درحقیقت یہی ہمارا قومی المیہ تھا!……

ہمارے بہت سے سویلین حکام اور ملٹری کمانڈروں کو ذاتی سفارشات کی بنا پر بھرتی کیا گیا۔ ان کی کوئی پروفیشنل کوالی فیکیشنز نہیں تھیں۔ ان تقرریوں اور تعیناتیوں نے فوج کی کارکردگی پر تباہ کن اثرات مرتب کئے۔ ان کمانڈروں کا کوئی عسکری تجربہ نہ تھا کہ جو ماتحت ٹروپس کو اپنے ان افسروں پر اعتماد کا سبب بنتا جن کے حکم پر ان کی زندگی اور موت کا دار و مدار تھا۔ میری سپاہ کو جو راشن ملتا تھا اور جو ایندھن ایشو کیا جاتا تھا وہ کرپشن کی نذر ہو جاتا تھا۔ اس صورتِ حال نے میرے ٹروپس کے مورال کو برباد کرکے رکھ دیا۔

جنگ کے آخری ایام غیر حقیقت پسندانہ تھے۔ ہم گراؤنڈ پر طالبان کے ساتھ گھمسان کی جنگ میں مصروف ہوتے تھے اور ہمارے سروں کے اوپر امریکی جیٹ طیارے چکر لگا رہے ہوتے تھے۔ وہ گویا فضائی تماشائی تھے۔ ان کی طرف سے مکمل دستبرداری اور دھوکہ دہی اگرچہ واشگاف تھی لیکن ہمارااضطراب بھی اسی سکیل کا تھا۔ امریکی پائلٹ یہ سب کچھ اپنے طیاروں سے دیکھتے تھے لیکن ہمیں گراؤنڈ پر ریلے نہیں کر سکتے تھے، اور ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ جب طالبان کا غلبہ ہوتا تو میرے ٹروپس پوچھتے کہ ہمارے سروں کے اوپر جو امریکی طیارے / بمبار اڑ رہے ہیں وہ طالبان پر فائر کیوں نہیں کرتے؟…… لیکن امریکی پائلٹوں کو معلوم تھا کہ اگر ان کے طیاروں میں کوئی ذرا سا بھی ٹیکنیکل فالٹ آ گیا تو اس کی مرمت کرنے والا کوئی کنٹریکٹر پورے افغانستان میں موجودنہیں ہوگا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر میرے ٹروپس کا مورال بالکل برباد ہو گیا تھا۔ افغانستان کے طول و عرض میں افغان آرمی نے جنگ بند کر دی۔ خونریز جنگ کے دنوں میں بھی ہم نے لشکرگاہ پر قبضہ برقرار رکھا۔ لیکن جب باقی ملک میں افغان آرمی نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم بھی ایسا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ میری کور کہ جس نے میرے کابل جانے کے بعد بھی جنگ جاری رکھی تھی، وہ آخری کور تھی جس نے سرنڈر کیا…… جب دارالحکومت کا سقوط ہو گیا تو پھر اور کیا باقی رہتا؟

ہمیں سیاست اور صدور نے دھوکا دیا۔ یہ صرف ”افغان وار“ نہ تھی بلکہ ایک بین الاقوامی وار تھی جس میں دنیا کی بہت سی افواج حصہ لے رہی تھیں …… یہ ایک فوجی شکست تھی جو سیاسی ناکامی کا نتیجہ تھی!(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -