منڈی احمد آباد میں اوپر تلے تین بچوں کے اغوا سے فضا سوگوار 

منڈی احمد آباد میں اوپر تلے تین بچوں کے اغوا سے فضا سوگوار 

  

(کرائم ڈائری)

(چوہدری راحیل جہانگیر نمائندہ پاکستان)

 عیدالاضحٰی پر منڈی احمد آباد سے تین بچوں کے یک بعد دیگرے غائب ہوجانے سے شہر بھر میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئے غائب ہونے والے بچوں میں 14 سالہ عبدالصمد، 7 سالہ علی حسنین اور 6 سالہ ریحان شامل تھے 14 سالہ عبدالصمد عید کے دن بازار سے سودا سلف لانے گیا اور غائب ہو گیا جس کو ایک ہفتہ کی تلاش کے بعد مقامی پولیس نے رائیونڈ اسٹیشن پر نیم بے ہو شی کی حالت میں برآمد کرلیا جو ابھی تک اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بتانے سے معذور ہے 26 جولائی کو علی حسنین اچانک گھر کے باہر سے غائب ہواوالدین نے ہر جگہ تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکا اگلے دن 27 جولائی کو اس کی نعش گھر میں آٹے والی مٹی سے برآمدہوئی اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا علی حسنین کے والدین نے اسے اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کرنے سے انکار کردیا علی حسنین کی درد ناک موت سے فضا سوگوارہو گئی اسی دن 27 جولائی کو 6 سالہ ریحان کو گھر کے باہر سے اغواء کرلیا گیا حیرت کی بات یہ ہے اس کو کسی کے ساتھ جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا ریحان کے والد نے مقامی تھانہ میں بچے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جس پر مقدمہ کا اندراج کرلیا گیا اگلی صبح ایک شخص اپنی بھینسوں کیلئے چارہ کاٹنے گیا تو اسے کھیتوں میں ایک بچہ کی نعش نظر آئی جس نے مقامی پولیس کو اطلاع کردی مقامی پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کرکے فرانزک ٹیموں کو بلا لیا ریحان کے والد کوبلا کر بچے کی نعش دکھائی گئی جس نے نعش کو شناخت کرکے بتایا کہ یہ اسی کا اکلوتا بیٹا ریحان ہے بچے کی نعش کھیتوں سے برہنہ حالت میں ملی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ بچے کو بداخلاقی  کے بعد قتل کیا گیا ہے یہ افسوسناک خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی کیونکہ یہ زیادتی کے بعد بچے کو قتل کرنے کا علاقہ بھر میں پہلا واقعہ تھا اس لئے کہرام مچ گیا ہر آنکھ اشکبار تھی بچے کی نعش کے پاس سے سلانٹیوں کے دو پیکٹ بھی ملے جس سے اس بات کو تقویت ملتی تھی کہ ریحان دکان سے سلانٹیاں لینے گیا اور کسی درندے کے ہاتھ چڑھ گیا یا اسے سلانٹیوں کے بہانہ کھیتوں میں لے جایا گیا وقوعہ کی اطلاع نہیں پاکر ڈی ایس پی شبیر وڑائچ موقع پر آگے بعد ازاں ڈی پی او اوکاڑہ فیصل شہزاد مقتول معصوم ریحان کے والدین سے تعزیت ان کے گھر گئے ڈی پی او فیصل ظفر نے ریحان کے والدین کو یقین دھانی کرائی کہ ان کے بچے کے اغواء اور قاتل میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا ڈی ایس پی شبیر وڑائچ اور دیگر قابل پولیس افسروں کی ٹیمیں سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کررہی ہیں بہت جلد ملزمان پولیس کی گرفت میں ہونگے میں آپ کے بچے کو واپس نہیں لا سکتا لیکن اس کو انصاف ضرور دوں گا ان کے علاوہ سابق ایم این اے راہنما تحریک انصاف خرم جہانگیر وٹو سابق ایم این اے روبینہ شاہین وٹو، سابق صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی،ایم پی اے چوہدری افتخار حسین چھچھر، ایم این اے میاں معین وٹو مقتول بچے ریحان کے گھر گئے ان کے والدین سے تعزیت کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ ریحان کے قاتل جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے بعد ازاں چوہدری افتخار حسین چھچھر نے صوبائی اسمبلی میں ریحان قتل کو اٹھایا جبکہ میاں معین وٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ریحان مرڈر کیس کو پیش کیا مقامی پولیس قابل تفتیشی افسر حساس ادارے سب ملکر اس کیس کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اس سلسلے میں درجنوں مشکوک اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی گی ان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی لئے گئے ہیں پولی گرافک ٹسٹ بھی لئے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی سراغ یا کلیو نیں مل سکا سمجھ نہیں آتی معصوم ریحان کے قاتلوں کو زمین کھا گئی کے آسمان مقتول ریحان کے والد نے اسی سلسلے میں شہر کے سیاسی عمائدین سول سوسائٹی صافی برادری، تجارتی تنظیموں کے صدور اور معززین کی ایک اہم میٹنگ اعظم میرج ہال میں بلائی اور بھرائی ہوئی آواز میں اپنے بچے کے قاتلوں کی گرفتاری میں مدد کی درخواست کی میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا قاتلوں کی گرفتاری تک ہر جمعہ شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگائی جائیں گی پولیس کے اعلی افسران اس کیس کو زینب کیس کی طرح ڈیل کریں تفتیش میں تیزی لائیں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے ملزمان کا سراغ لگایا جائے تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع جائے میڈیا ٹیم چوہدری راحیل جہانگیر،راؤ شاہد وسیم، حاجی محمد اعظم،باباقادری اصغر رحمانی، مہر ناصر بشیر کیس کو خبروں کے ذریعے اجاگر کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -