سب انجینئرز کا مطالبا ت کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ اور احتجاج ریکارڈ

  سب انجینئرز کا مطالبا ت کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ اور احتجاج ریکارڈ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)سب انجنیئرز ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان SEWA وبیچلرز آف ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن KPKکی جانب سے اپنے جائز مطالبات کے حق میں سینکڑوں انجینئرز نے پشاورمیں صوبائی اسمبلی چوک میں حتجاجی کیمپ لگا تے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز و بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے مظاہرین نےKPAGE اورPECکے خلاف شدید نعرے بازی کی،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملک بشیر خان صدر SEWA (سب انجنیئرز ویلفیئر ایسوسی ایشن) پاکستان اورBTECH انجینئرز کے عہدے داران  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ SEWAاورB.TECH کے گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے اسامیوں پر آئین و قانون کے مطابق انکی تعیناتی کی جائے اور انکو انکا سروس سٹرکچر دے دیا جائے انکا کہنا تھا کہ سندھ، بلوچستان، گلگت، وفاق نے  سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی  B.TECHاور ڈپلومہ انجینئرز کو پروموشنز دے رکھی ہیں جبکہ خیبر پختون خواہ میں  مبینہ طور پر سیکرٹری سی این ڈبلیو و KPAGEہمارے اس قانونی حق میں روڑے اٹکا رہے ہیں اس ضمن میں واضح ہو کہ ہم نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ،سیکرٹری لاء، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری سی این ڈبلیو کو متعدد بار درخواستیں  دی  ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں مگر سپریم کورٹ آف پاکستان و دیگر ھائی کورٹس اور واضح قوانین موجود ہونے کے باوجودانجینئرنگ ٹیکنالوجی و ڈپلومہ ہولڈرز کو نہ تو قانونی حق دیا جارہا ہے اور نہ ہی انکو ٹیکنیکل الاونس دیاجا رہا ہے دوسری طرف محکمہ ایری گیشن اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اس سلسلے میں SSRCمنعقد کرچکے ہیں جسکی منظوری  چیف سیکرٹری، اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور لاء ڈیپارٹمنٹ دے چکے ہیں لیکن سیکرٹری سی این ڈبلیو و KPAGEغیر قانونی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے اس ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں مزید انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے انجینئر مولا بخش کیس میں واضح فیصلہ دیا اورBTECH. اور ڈپلومہ ہولڈر انجینئرز کی گریڈ 18 اور اس سے اوپر کی ترقی کو برقرار رکھا ہوا ہے اس ضمن میں مزید عرض ہے کہ PECایک غیر سرکاری ادارہ ہے اور قانون کی رو سے نہ تو یہ کار سرکار میں مداخلت کرسکتا ہے اور نا ہی یہ کسی بھی سرکاری قانون کی مد میں حکومت کو کوئی مشورہ دے سکتا ہے اور نا ہی اسکا مشورہ حکومت پر حاوی ہوسکتا ہے مظاہرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ فوری انصاف کے حصول کے لئے تمام ٹیکنیکل و انجینئرنگ محکموں سے فی الفور انجینئر سیکریٹریز کو ہٹا کر انکی جگہ بیوروکریٹ سیکرٹری تعینات کیے جائیں اور اضح کیا ہے کہ سیکرٹری سی این ڈبلیو اور KPAGEکی ملی بھگت کی وجہ سے 5 اگست 2021 کو ڈپلومہ اور B.TEC انجینئرز کیحقوق پر ڈاکہ زنی کرتے ہوئے PEC انجینئرز کو ترقی دی جو کہ سریحا خلاف قانون اور توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -