افغانستان سے آخری امریکی فوجی بھی روانہ، طالبان نے کابل ایئر پورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا 

  افغانستان سے آخری امریکی فوجی بھی روانہ، طالبان نے کابل ایئر پورٹ کا مکمل ...

  

 کابل،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلاء مکمل ہوگیا۔ پیر کی رات آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا۔ پیر کی رات 5 خصوصی طیارے امریکی فوجیوں کو لے کر روانہ ہوئے۔ دوسری طرف امریکی فوجیوں کا انخلاء مکمل ہوتے ہی طالبان نے کابل ائرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس موقع پر طالبان نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ 15اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی انخلاء میں تیزی آئی جو پیر کیرات ڈیڈی لائن سے چند گھنٹے پہلے ہی مکمل ہوگیا۔دریں اثنا وادی پنج شیر میں افغان طالبان اور  شمالی اتحاد کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات  بھی ملی ہیں۔افغان طالبان اور پن شمالی اتحاد کے درمیان افغان دارالحکومت کابل میں مذاکرات جاری ہیں اور گزشتہ دِنوں فریقین کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔۔اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے وادی سے متصل پہاڑوں اور چوٹیوں پر مورچے قائم کرلیے ہیں۔طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن امان اللہ کا کہنا تھاکہ وادی میں داخلے کے وقت کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ دوسری طرفطالبان کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں داعش کے حملے بند ہو جائیں گے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم افغانستان میں داعش کے حملوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد توقع ہے کہ یہ حملے ختم ہوجائیں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد  کا کہنا تھا کہ ’ہم اْ مید کرتے ہیں کہ وہ افغان باشندے  جو داعش  سے متاثر ہیں، غیر ملکیوں کے انخلا کے بعد اسلامی حکومت کا قیام دیکھ کر اپنی کارروائیاں ترک کردیں گے۔‘تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہ جنگ کی صورت حال پیدا کرتے ہیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو  ہم ان سے اسی حساب سے نمٹیں گے۔اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کابل میں بدانتظامی اورناکامی کا ملبہ جنرل مارک ملی پرڈال دیا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ امریکی فوج نے افغانستان سے پرامن انخلا کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ بگرام ائیربیس بند کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ فوج نے انخلا کیلئے بگرام ائیربیس کی بجائے کابل ائیرپورٹ کامشورہ دیاتھا۔اْدھر افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن کا آخری روز آگیا ہے، امریکا کے 20سالہ افغان مشن آج آخری روز ہے۔ 15 روز میں ایک لاکھ 90 ہزار افراد کا انخلا کیا گیا ہے۔ امریکا جانے والے ایک لاکھ 17 ہزار میں 5400 امریکی شہری شامل ہیں۔برطانوی حکام کے مطابق برطانیہ 15ہزار افراد کو افغانستان سے نکال چکاہے، 150شہری پروازیں حاصل نہیں کرسکے۔ پاکستان نے 22 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔ اٹلی 5 ہزار 11، جرمنی 5 ہزار 347، آسٹریلیا 4 ہزار ایک سو، کینیڈا 3 ہزار 700 شہری افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوا ہے۔ فرانس 3 ہزار، نیدرلینڈز ڈھائی ہزار اور سویڈن ایک ہزار شہریوں کو واپس لے گیا دریں اثناافغان دارالحکومت کابل میں ائیر پورٹ کے قریب ایک گاڑی سے ایئر پورٹ پر راکٹ حملے کی کوشش کی گئی جسے میزائل ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیا۔افغان تفتیشی حکام نے  بتایا کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب گاڑی سے 6 راکٹ داغے گئے، پانچ ہوائی اڈے کی جانب گئے جبکہ ایک راکٹ سے گاڑی تباہ ہو گئی۔امریکی حکام نے بھی کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میزائل ڈیفنس سسٹم سے راکٹوں کو روک دیا گیا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق مشیر قومی سلامتی اور چیف آف اسٹاف نے صدر جو بائیڈن کو راکٹ حملوں کے حوالے سے بریف کیا اور بتایا کہ راکٹ حملوں میں کابل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن میں خلل نہیں پڑا۔دوسری جانب ترجمان افغان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو دہشت گردی کا خدشہ ہے تو اس حوالے سے طالبان کو آگاہ کیا جائے۔دولت اسلامیہ نے  کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروہ نے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اس کے ’سپاہیوں نے کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چھ راکٹ داغے تھے۔ دریں اثناطالبان نے مذہبی امور پر افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے مشیر کو گرفتار کر لیا ہے۔ مولوی محمد سردار زدران افغانستان میں قومی کونسل برائے مذہبی امور کے سابق سربراہ تھے۔ یہ ملک میں مذہبی امور کے حوالے سے سب سے بڑا ادارہ تھا۔ان کے بیٹے نے کہا ہے کہ انھیں طالبان نے خوست صوبے میں حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری طرف طالبان  ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میں خواتین کو جامعات میں جانے کی اجازت ہوگی لیکن وہاں مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی اور طلبہ وطالبات کی الگ الگ کلاسز ہوں گی۔ اس بات کا اعلان طالبان کے اعلی تعلیم کے قائم مقام وزیر عبدالباقی حقانی نے روزقبائلی زعما کے لویہ جرگہ میں کیا۔افغانستان سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیے گئے انخلاء کے بیشتر مسافروں کو دو خصوصی پروازوں کے ذریعے اسلام آباد سے امارات منتقل کردیا گیا ہے۔ غیر ملکیوں کو امریکی ایئر فورس کی دو خصوصی پروازوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی ایئر بیس پہنچایا گیا۔سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے روانہ ہونے والی دونوں خصوصی پروازیں العید ایئر بیس پر اتریں، یو ایس اے ایف کی پرواز MOOSE25 گزشتہ شام اسلام آباد سے العید ایئربیس پہنچی، اسی طرح رات گئے اسلام آباد سے روانہ ہونے والی امریکی ایئر فورس کی دوسری پرواز LAWLS19 نے پیر کو صبح العید ایئر بیس پر لینڈ کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ 4 دن کے دوران امریکی ایئرفورس کی کم از کم پانچ پروازوں کے ذریعے افغانستان سے  مسافروں کو اسلام آباد لایا گیا تھا، ان مسافروں میں کافی تعداد امریکی فوجیوں کی بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کی درخواست پر پی آئی اے کا خصوصی طیارہ مزار شریف پہنچ گیا ، پی آئی اے کے افغانستان میں جاری انسانی ہمدردی  مشن پر طیارہ ضروری ادویات کی ترسیل کے لئے  پہنچا، خوراک و ادویات پی آئی اے کے خصوصی  بوئنگ 777 نے دبئی سے مزار شریف پہنچائیں،کارگو طیارہ کا مقصد افغانستان میں ادویات کی قلت کے سدباب کیلئے اقوام متحدہ کی ہر ممکن حد تک معاونت کرنا ہے، ادوایات کی کمی کے باعث افغان لوگ مشکلات کا شکار تھے ،افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد کابل کے علاوہ یہ پہلی بین القوامی کمرشل پرواز تھی،مزار شریف میں پرواز کی لوڈنگ اور زمینی انتظامات کیلئے پی آئی اے کی آپریشنز ٹیم جہاز کے ساتھ روانہ ہوئی،ٹیم نے سی ای او پی آئی اے کے معاون خاص ائیروائس مارشل عامر حیات کی سربراہی میں سفر کیا اور زمین پر متعلقہ انتظامات سنبھالے،

انخلا مکمل

مزید :

صفحہ اول -