پاکستان کو نظر اندا ز کیا تو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا، دنیا افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی دوبارہ دہرا رہی ہے: فواد چودھری

    پاکستان کو نظر اندا ز کیا تو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا، دنیا ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے ہم افغانستان کومستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہیں،تاہم ملکی معیشت اس بات کی اجاز ت نہیں دیتی کہ ہم مزید افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا سکیں، ہم علاقائی وعالمی طاقتوں کیساتھ ملکرکام کررہے ہیں تاکہ افغانستان میں ایک منظم حکومت کا قیام ہوسکے، اگرمسئلہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کے مشوروں کو نظراندازکیا گیا تو دنیا کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ترک ٹی وی چینل ٹی آرٹی کوانٹرویودیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ا فغانستان کی کہانی بہت پرانی ہے، ہم افغانستان کی صورتحال کاسامنا کئی دہائیوں سے کررہے ہیں،1988ء میں جب سوویت یونین افغانستان سے گئی توہمیں ان مشکلات کا سا منا کرنا پڑا جوسوویت یونین افغانستان میں چھوڑکر گئی۔ اب جب امریکی اور نیٹو فورسز افغانستان سے جا رہی ہیں توہمیں پھر اسی دوراہے پر کھڑا کردیا گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے اگر افغانستان میں استحکام نہ آیا تو لاکھوں افغان پاکستان کا رخ کریں گے،جبکہ ہم پہلے ہی 35لاکھ افغانیوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ فواد چودھری نے کہا ماضی میں افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، دنیا ماضی کی غلطی کو پھر دہرا رہی ہے۔ امید ہے پاکستان کی قیادت میں ترکی اور علاقائی طاقتوں کی کوششوں سے بننے والی حکومت کی عالمی طاقتیں بھی حمایت کریں گی۔ پاکستان نے طویل عرصہ افغانیوں کیساتھ کام کیااور افغانستان کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور کر رہاہے۔ افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کے باعث جامع اور مخلوط حکومت اور مسئلے کے حل کیلئے عالمی برادری کی کوششیں ضروری ہیں۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں افغانستان کو شدت پسند تنظیموں کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ افغانستان میں بدامنی ناصرف پاکستان بلکہ دنیا کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس وقت مہاجرین کو کوئی بحران نہیں، ہماری سرحدوں پر معمول کے مطابق کام جاری ہے۔ ہم نے کابل سے غیر ملکیوں اور غیر ملکی اداروں میں کام کرنیوالوں کو نکالا ہے۔ پی آئی اے کے ذریعے 4500 افراد کا کابل سے انخلا کیا جاچکا ہے،وفاقی وزیر نے کہا مہاجرین کیلئے سرحد پر انتظامات کئے ہیں۔ افغان مہاجرین کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کی ہے، ماضی کی طرح صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ دنیا اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کیلئے آگے آئے۔ افغانستان کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے مشورے کو نظر انداز کیا گیا،اشرف غنی نے افغانستان میں عام انتخابات نہیں کرائے،جامع حکومت تشکیل نہیں دی گئی،یہ دو اقدامات نہ کرنے سے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ افغانستان میں جامع حکومت سازی کیلئے روس، چین، پاکستان اور افغانستان پر مشتمل ٹرائیکا پلس اہم ہے۔ اس حوالے سے خلیجی ممالک اور ایران کا بھی اہم کردار ہے۔ پاکستان اور ترکی اس معاملے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری

مزید :

صفحہ اول -