صادق ویمن یونیورسٹی میں آن لائن بین الاقوامی کانفرنس

صادق ویمن یونیورسٹی میں آن لائن بین الاقوامی کانفرنس

  

بہاولپور(بیورورپورٹ)دی گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں شعبہ اردو کے زیر اہتمام دو روزہ(آن لائن)بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر(بقیہ نمبر52صفحہ7پر)

 ڈاکٹر صاعقہ امتیاز آصف وائس چانسلر دی گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی نے کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کانفرنس کی صدارت کی۔پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، ڈاکٹر سرور الہدی جامعہ دلی انڈیا، ڈاکٹر علی کاوسی نژادتہران یونیورسٹی ایران، پروفیسرڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر اصغر ندیم سید، پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر نجیب جمال،  پروفیسر ڈاکٹر روبینہ رفیق چیئرپرسن شعبہ اردو اسلامیہ یونیورسٹی بہاوپور، ڈاکٹر سلیم ملک ، نامور سماجی و سیاسی کارکن بشری رحمان سمیت دیگر نامور ادیبوں نے بطور مہمان سکالرز   نے بذریعہ آن لائن اپنی شرکت کویقینی بنایا۔کانفرنس کا باقائدہ آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سائرہ ارشاد لیکچرر شعبہ اردونے ادا کیے۔دو روزہ کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر صاعقہ امتیاز آصف نے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں جہاں مردوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے وہیں عورتوں کے حقوق بھی واضح ہیں اور خود رسول خدا نے آخری خطبہ میں عورت کے حقوق کو واضح کردیا۔ جب ہم اپنے ادیبوں اور دانشوروں کو دیکھتے ہیں تو ان سب نے اپنے قلم کے ذریعے خود کو ایک عورت کے روپ میں ڈھال کر عورت کے حقوق اور معاشرے میں اس کے مقام کو بیاں کیا ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ہمارے ادیبوں، اساتذہ اوربڑوں کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کو عورت کے مقام و حقوق سے آگاہ کریں۔  انہوں نے طالبات کو نصیحت کی کہ ہمیں ابھی اور راستے طے کرنے ہیں تاکہ معاشرے  میں موجود عوامل کو بدل سکیں۔  کانفرنس سے نامور ادیب و مصنف پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو وہی علم سیکھنا چایئے جو اسے مستقبل میں فائدہ دے سکے اور اساتذہ کو طالبعلموں کو ایسا علم دینا چایئے۔ انہوں نے کہا کہ اردو میں تانیثیت کے اثرات مغرب سے آئے ہیں۔ اس دور میں تانیثیت کی جدید لہر میں عورت نے ریڈیکل تانیثیت کو پسند کرتے ہوئے مرد کو عورت کیلئے فساد کی جڑ قرار دیا۔خواتین اب دنیا بھر میں اپنے حقوق کو باور کرارہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مذہب، سیاست اور عورت کو موضوع ِ بحث بنایا جاتا ہے اور یہ تینوں چیزیں آپس میں باہم جڑی ہیں۔ اگر آپ نے کسی سے سیاسی رائے لینی ہو تو اس سے آپ کو عورت کے متعلق رائے بھی معلوم ہو جائے گی۔ جنسی جرائم میں مین سٹریم میڈیا پر بحث معاشرے کو بگاڑ کی طرف لے جارہی ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ سفید نسل پرستانہ رویہ بھی تانیثیت میں س سرائیت کر گیا ہے۔ تانیثیت کا حقیقی مقصد بحران کا شکار عورت کی مدد کرنا ہے۔نامور ڈرامہ نگار و ادیب ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے خیا لا ت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ تانیثیت تحریک کامقصد مرد سے آزادی نہیں بلکہ عورت کو اس کے حقوق دلانا ہے۔ عورت کو امپاور کرانا اور اسے مضبوط بناناہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عورت کو مشرقی سماج کی ترجمانی میں ڈال دیا گیا ہے۔ سب سے بڑا پیغام قرآن سے اور اسوہ رسول سے ملتا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سرور الہدی معلم دہلی یونیورسٹی انڈیا نے کہا کہ تانیثیت کا تعلق صرف موضوع سے نہیں بلکہ ادب سے ہے۔ تانیثیت کو زنانہ پن کہنا تانیثیت کے اصولوں کی نفی ہے۔بہاولپور کی نامور سیاسی و ادبی خاتون بشری رحمن نے اس موقع پر کہا کہ عورت کو سب سے بڑی فضیلت یہ ملی ہے کہ  اس نے مرد کو پیدا کیا۔  انہوں  نے  کہا کہ بہاولپور ہی وہ پہلی ریاست ہے کہ جس کی مشرقی تہذیب میں میری والدہ کی صورت میں پہلی نعت گو شاعرہ کا  نام سامنے آتا ہے۔ میرے لئے بطور عورت یہ اعزاز کسی سے کم نہیں کہ مجھے میرے شہر بہاولپور کے عوام نے ہی اعلی ایوانوں تک پہنچایا۔ انہوں نے  بطور سابقہ طالب علم ویمن یونیورسٹی اپنی مثال دیتے ہوئے  طالبات کو کہا کہ وہ بھی اس ترقی یافتہ دور میں اچھی تعلیم کے حصول کے ساتھ اپنا لوہا منواسکتی ہیں۔  نامورادیب پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال نے کانفرنس سے اظہار خیال کرتیہوئے کہا کہ  دنیا نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے ۔ جب دنیا  میں نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی تو ہمیں معلوم بھی نہیں تھا کہ ہمارے ہاتھ کی ہتھیلی میں سمارٹ فون کی صورت  پوری دنیا سما جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید دور میں عورت یہ نہیں چاہتی کہ اسے جینڈر کے طور پر دیکھا جائے بلکہ وہ  خود پر ہونے والے استحصال اور  عدم اطمنان پر سوال کرتی ہے۔  اس موقع پر انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1928 میں  کیمبرج یونیورسٹی میں ایک خاتون معلمہ نے بھرے مجمع سے یہ کہا۔

خطاب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -