دانتوں کی صفائی سے متعلق پائی جانے والی من گھڑت باتیں، جڑواں ڈینٹسٹ بھائیوں نے حقیقت بیان کردی

دانتوں کی صفائی سے متعلق پائی جانے والی من گھڑت باتیں، جڑواں ڈینٹسٹ بھائیوں ...
دانتوں کی صفائی سے متعلق پائی جانے والی من گھڑت باتیں، جڑواں ڈینٹسٹ بھائیوں نے حقیقت بیان کردی
سورس: Pxhere (creative commons license)

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دانتوں کی صحت و صفائی کے متعلق کئی طرح کی من گھڑت باتیں پائی جاتی ہیں جن پر لوگ اعتبار بھی کرتے ہیں۔ اب برطانیہ کے معروف جڑواں دندان ساز بھائیوں نے ان من گھڑت باتوں کی قلعی کھول دی ہے۔ دی سن کے مطابق یہ جڑواں ڈینٹسٹ حسین دالغوث اور حسن دالغوث ہیں جو یارکشائر ڈینٹل سوئٹ (Yorkshire Dental Suite)کے بانی ہیں۔ انہوں نے دانتوں کی صحت و صفائی اور ان کی سفیدی کے متعلق پائی جانے والی مندرجہ ذیل باتوں کی حقیقت دنیا کو بتائی۔

ٹوتھ برش کی سیٹنگز

کئی الیکٹرک ٹوتھ برشز بنانے والی کمپنیاں کہتی ہیں کہ ان برشز کی ایک خاص سیٹنگز ہے، جسے ’وائٹنگ موڈ‘ کہا جاتا ہے اگر الیکٹرک برش اس موڈ پراستعمال کیے جائیں تو یہ دانتوں کو سفید کرتے ہیں۔ حسن اور حسین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کا یہ دعویٰ ایک حد تک درست ہے۔ اس موڈ پر برش دانتوں پر لگے داغوں کو صاف کرتا ہے۔ تاہم دانتوں کی قدرتی پالش میں کسی طرح کا اضافہ نہیں کرتا۔

دانت سفید کرنے کے لیے دو سے زائد بار برش کرنا

ڈاکٹر حسن اور حسین کا کہناتھا کہ دن میں دو بار برش کرنا کافی ہوتا ہے۔ کافی یا چائے پینے کے بعد پانی سے اچھی طرح کلی کر لینا کافی ہوتا ہے۔ ان کے بعد دانتوں کو برش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

دندان ساز سے دانتوں کی صفائی کرانے سے دانت سفید نہیں ہوتے

ڈاکٹر حسن اور ڈاکٹر حسین کا کہنا تھا کہ ”اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر چھ ماہ بعد ڈینٹسٹ سے دانت صاف کرانا فائدہ مند نہیں ہوتا تاہم یہ غلط ہے۔ اس سے دانتوں پر لگے داغ اور پیلاہٹ ختم ہو جاتی ہے اور دانتوں کی سفیدی برقرار رہتی ہے۔“

دانتوں کی سفیدی وقت کے ساتھ ماند پڑ جانا

ڈاکٹر حسن اور حسین کا کہنا تھا کہ دندان ساز سے ایک بار دانت صاف کرا لینے کے بعد وقت کے ساتھ ان کی سفید ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہے چنانچہ ہر چند ماہ بعد دانتوں کی صفائی کرانا لازمی ہوتا ہے۔

ہر شخص دانت سفید نہیں کرا سکتا

کون لوگ دانت بلیچ کرا سکتے ہیں اور کون نہیں، اس حوالے سے بھی کئی طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ اس معاملے میں ڈاکٹر حسن اور حسین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین اور بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں اپنے دانت بلیچ نہیں کرا سکتیں۔باقی لوگوں میں اگر مسوڑوں سے خون آتا ہے یا دیگر عارضے لاحق ہیں تو پہلے ان کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

دانت سفید کرنے والی ’ہوم کٹس‘ کا زیادہ مو¿ثر نہ ہونا اور نقصان دہ ہونا

کئی لوگ کہتے ہیں کہ دانت سفید کرانے کے لیے آپ کو ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ یہ کام ہوم کٹس سے خود بھی کر سکتے ہیں۔تاہم ڈاکٹر حسین اور حسن کا کہنا ہے کہ ہوم کٹس نہ تو اتنی مو¿ثر ہوتی ہیں اور نہ ہی محفوظ۔ ان سے دانتوں کی اوپری تہہ خراب ہو جاتی ہے، جو کہ دانتوں کی سفیدی اور چمک کا سبب ہوتی ہے۔ ہوم کٹ میں سٹرپس ہوتی ہیں جو اس تہہ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

بیکنگ سوڈے سے دانت سفید کرنا

بیشتر لوگ کہتے ہیں کہ بیکنگ سوڈے اور مائع ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کو ملا کر دانتوں پر لگایا جائے تو دانت سفید ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر حسن اور ڈاکٹر حسین کا کہنا ہے کہ یہ آمیزہ دانتوں سے داغ اتارنے کے لیے تو مفید ہے تاہم انہیں سفید نہیں کر سکتااور اگر اسے غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو الٹا نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

دانتوں کی سفیدی کے حوالے سے کافی سے زیادہ چائے خطرناک ہے

کہا جاتا ہے کہ کافی کی نسبت چائے زیادہ دانتوں کی رنگت خراب کرتی اور انہیں داغدار کرتی ہے تاہم ڈاکٹر حسن اور ڈاکٹر حسین کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں ٹینینز پایا جاتا ہے جو دانتوں کو یکساں داغدار کرتا ہے۔ کافی میں اگرچہ ٹینین کم ہوتا ہے تاہم کافی آپ کے منہ کی پی ایچ (pH)کو تبدیل کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں آپ کے دانت دیگر اشیاءخورونوش کے داغوں کا زیادہ نشانہ بننے لگتے ہیں۔

مزید :

تعلیم و صحت -