موجودہ دور حکومت میں گیس چوری کے کیسز میں اضافے کا تہلکہ خیز انکشاف 

 موجودہ دور حکومت میں گیس چوری کے کیسز میں اضافے کا تہلکہ خیز انکشاف 
 موجودہ دور حکومت میں گیس چوری کے کیسز میں اضافے کا تہلکہ خیز انکشاف 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ سابقہ دور حکومت کے مقابلے میں موجودہ دور حکومت میں سوئی سدرن گیس کمپنی لیمٹڈ کی گیس چوری ہونے کے کیسز بڑھ گئے ہیں، کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے آڈٹ بریف کے مطابق 2015-16ءمیں گیس چوری کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو 686ملین روپے کا نقصان ہوا جبکہ 2019-20ءمیں ایک ارب 17کروڑ سے زائد مالیت کی گیس چوری ہوئی،کمیٹی نے گیس چوری سے متعلق آڈٹ اعتراض پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جائزہ و عملدرآمد کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

تفصیلات کےمطابق پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی نوید قمر کی صدارت میں ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن کے سال 2010-11ءسے 2017-18ء تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی آڈٹ بریفنگ کے مطابق 2015-16ءمیں مختلف صارفین کی جانب سے گیس چوری کیئے جانے کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈکو686ملین روپے کا نقصان ہوا،1724 ڈومیسٹک صارفین،22صنعتی صارفین ، 149 غیر رجسٹرڈ صارفین اور 2سی این جی صارفین کی جانب سے گیس چوری کیئے جانے کے کیس رپورٹ ہوئے۔

آڈٹ بریف کے مطابق 2019-20ء میں ڈومیسٹک صارفین کی جانب سے گیس چوری کیئے جانے کے 14328کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ کمرشل صارفین کی جانب سے گیس چوری کئے جانے کے 295کیسز رپورٹ ہوئے، 2019-20ء میں 1173ملین روپے مالیت کی گیس چوری ہوئی۔ کمیٹی نے گیس چوری سے متعلق آڈٹ اعتراض پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جائزہ و عملدرآمد کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -