قوم اپنی حالت بدلنے کی جدوجہد کرے

قوم اپنی حالت بدلنے کی جدوجہد کرے
قوم اپنی حالت بدلنے کی جدوجہد کرے

  

امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان کو ایک دھمکی دئی گئی ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ ختم کرے ، ورنہ اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں گی، پاکستان کو معاہدہ ختم کرنے پر جو جرمانہ ہو گا، وہ بھی امریکہ ادا کرنے کو تیار ہے۔ واشنگٹن سے پاکستان کو جو دھمکی ملی ہے، یہ حیران کن یا پریشان کن نہیں ہے، چونکہ پاکستان میں حالات کو خراب کرنے، پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے اداروں کو تباہ و برباد کروانے میں کسی نہ کسی طرح مغربی طاقتیں ملوث ہیں۔ افغانستان کے حالات پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے سابقہ حکمرانوں نے اپنی خود غرضی اور مفاد پرستی کے لئے روس کے خلاف پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں ملوث کیا اور امریکہ نے انہی لوگوں کو جو اَب طالبان مشہور ہیں، آبیاری کی ، انہی لوگوں کے بڑوں کو مجاہدین بنا کر روس کے خلاف استعمال کیا، شاید اس وقت، موجودہ لوگ جو دہشت گردی میں ملوث ہیں، چھوٹے بچے ہوں گے۔ یہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے افغانستان کی طرف سے آتے ہیں یا روس افغانستان کی جنگ کے بعد پاکستان کے شمالی علاقوں میں آباد ہیں۔ اس طرف پاکستان افغانستان کی سرحد ملتی ہے۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کے دشمن ملک کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ وہ جس جگہ مرضی، جس وقت مرضی دہشت گردی کی کارروائی کر دیتے ہیں۔

اصلی موضوع کی طرف آتا ہوں۔ پاکستان میں بجلی کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے ملک ہر طرح کے شدید بحرانوں کا شکار ہے۔ گیس بھی شدید کم ہے، اس کی وجہ سے بھی ملک میں شدید بحران ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سوئی گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ابھی تک ان پر منصوبے کے تحت کام نہ کرنا بھی غیر ملکی مداخلت ہی ہو سکتی ہے۔ بہت پہلے سنتے تھے کہ ایران کے شاہ ایران اپنی سرحد کے نزدیک پاکستان کو گیس نہیں نکالنے دیتے، اس رکاوٹ کے تانے بانے بلوچستان کے بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے سے ملتے ہیں۔ جب بھی پاکستان کا خیرخواہ، پاکستانی عوام کے لئے درد رکھنے والا کوئی حکومتی اہل کار بجلی پیدا کرنے کے لئے کوئی ڈیم بنانے کا اعلان کرتا ہے تو مختلف حلقوں کی طرف سے اس پر شدید رد عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ڈیم بنانے کے لئے تو اتفاق نہیں ہو رہا، لیکن ایران سے گیس لینے یا اپنے ملک میں بلوچستان کے ایریا سے گیس نکالنے پر بھی سخت مزاحمت ہونا شروع ہو گئی ہے۔

پاکستان کے حکمرانوں کو اپنے عوام کے لئے امریکہ کے سامنے ڈٹ جانا چاہےے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ حکومت عوام کے سامنے اپنی عزت بحال کرے ۔ آخر کب تک ایک خود دار، غیرت مند اور آزاد ملک کے لوگ دوسروں کی بھیک پر گزارہ کریں گے۔ پاکستان کو امریکہ مجبور کر رہا ہے کہ وہ ترکمانستان سے گیس براستہ افغانستان حاصل کرے ۔ یہ بھی ایک بہت بے ایمانی کی چال اور شرارت ہے کہ ترکمانستان سے جو پائپ لائن پاکستان آئے گی، اس کو جب مرضی افغانستان کی طرف سے دھماکے سے اڑا دیا جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کی طرف سے آنے والے دہشت گردوں کو روکنے میں پاکستان کی کوئی مدد نہیں کر رہے، بلکہ چند واقعات میں اتحادی فوجیوں نے بھی پاکستانی فورسز کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ میرے خیال کے مطابق حکومت پاکستان کے لئے یہ بہترین موقع ہے، اگلے سال الیکشن بھی ہیں، شاید ملک میں الیکشنوں کا ٹرینڈ ہی بدل جائے۔ پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ کے خلاف ہے، بے شک پاکستانی عوام جنگوں سے تنگ آچکے ہیں اور جو لوگ ہر روز ملک میں مختلف طریقوں سے حالات خراب کرتے ہیں، جلوسوں او ہڑتالوں سے پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگ عاجز آچکے ہیں۔

بے شمار لوگ جذبات کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اگر ہم جذبات کا لبادہ اتار کر اپنے مسائل اور پریشانیوں کا تجزیہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم میں عمل کا فقدان ہے۔ دعوے تو ہم بڑے اونچے کرتے ہیں کہ سننے والے جوش سے نعرے لگانے لگتے ہیں، لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہم میں سے اکثر لوگ ٹھس ہو جاتے ہیں اور انتظار شروع کر دیتے ہیں کہ کسی طرف سے غیبی امداد آ جائے اور ہمیں فتوحات کی بلندیوں پر لے جائے، لیکن یہ محنت اور مقابلے کا دور ہے۔ زندہ دل لوگ، زندہ قومیں اپنے ملک و قوم کے لئے مشکل ترین فیصلے کرتے ہیں اور دنیا میں اپنی حیثیت کو منواتے ہیں۔ جیت اسی کی ہوتی ہے، جو اپنی ذہانت کو استعمال کرتے ہیں۔ ہم صرف خود کو ہر چیز کا وارث اور مالک سمجھتے ہیں، اپنی منشاءکے خلاف نہ سننا پسند کرتے ہیں، نہ بھوکے کو دیتے ہیں، نہ خوشخال کو خوش دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ہے، جبکہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح دینے کی وجہ سے دوسری قومیں ترقی کی منزلیں طے کر چکی ہیں۔ ہم بھی ترقی کی راہ پر چلنا اور خوشحال ہونا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ ہمارے حالات کس طرح ٹھیک ہوں گے؟

 ہم مسلمان اس کتاب کے ماننے والے ہیں، جس نے ساری دنیا پر ترقی کے راز کو افشاءکیا اور اسی کتاب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”مَیں اس قوم کی حالت نہیں بدلتا، جس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو“.... ہم حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہیں، بُرا بھلا کہتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہیں سمجھتے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تم لوگ جس طرح کے ہو گے، تم پر اسی طرح کا حکمران مسلط ہو گا“.... ہم اپنی غلطی اور کوتاہی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ”سوری اور تھنک یو“ کہنے کا رواج نہیں، حالانکہ غیر مسلم معمولی سی غلطی پر سوری اور چھوٹی سی اچھی بات پر تھنک یو کہتے ہیں۔

یہ جو لکھا ہے مغربی طاقتیں پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہیں، یہ لگ مسئلہ ہے، اس کی وجہ ہمارے حکمرانوں کی کمزوریاں اور غلط خارجہ پالیسیاں ہیں۔ پاکستان کے کچھ لوگ انقلابی نعرے لگا کر بھی پاکستانیوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ پاکستانی قوم اس لئے نہیں لکھا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں، مختلف مذہبی پارٹیوں، مختلف زبانوں کے نام اور مختلف علاقوں کے نام پر گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی اور علاقائی لیڈروں کو سینیٹر چودھری شجاعت حسین صدر پاکستان مسلم لیگ کی تجویز پر ملک کو بچانے کے لئے ایک نکتے پر متفق ہونے کی ضرورت ہے۔ اس میں کراچی کا سیاسی حل بھی نکل آئے گا۔ کراچی کا حل فوج یا مارشل لاءنہیں۔ بلوچستان میں بھی مارشل لاءسے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اگر کراچی میں قتل و غارت بند نہ ہوئی، بھتہ خوری بند نہ ہوئی، اغواءکے واقعات ختم نہ ہوئے، بلوچستان میں شر پسندوں کی نشان دہی صحیح طریقوں سے نہ ہوئی، بلوچستان کے سرحدی حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا، بلوچستان میں عوام کی محرومیاں ہی فساد کی جڑ ہیں۔ عوام کو بتانے میں سیاسی لوگ اور مذہبی لیڈر ناکام رہے ہیں کہ ان محرومیوں کے ذمہ دار کون ہیں۔

پنجاب میں بھی حالات اچھے نہیں ہیں، دوسرے صوبوں کے حالات کا اثر پنجاب کے عوام پر بڑھتا جا رہا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بہت ہو رہے ہیں، بے شک گاہے بگاہے سارے پاکستان میں دہشت ردی کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن افغانستان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ ان تمام حالات و واقعات میں ملک میں الیکشن مزید فسادات کا بہانہ بن سکتے ہیں۔ ملک میں کوئی بھی اچھی تجویز حالات کو سدھارنے کے لئے کوئی سیاسی لیڈر پیش کرتا ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جو سیاسی لیڈر یا مذہبی رہنما صرف الیکشنوں سے اقتدار حاصل کرنے کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں، ان کو اپنے ملک اور عوام کی سلامتی کے لئے پہلے سوچنا چاہیے۔ ملک کی سلامتی و یک جہتی اور عوام میں اتفاق و محبت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ الیکشن الیکشن کھیلنا کوئی دانش مندی نہیں، سیاسی لوگ الیکشن کو ہی ملکی سلامتی کی رٹ لگا رہے ہیں.... یاد رہے کہ الیکشنوں کے بعد ہی ملک دو ٹکڑے ہوا تھا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ ملک بھر میں ہر طرف نفسانفسی کاعالم ہے، کوئی گروپ لیڈر، کوئی پارٹی لیڈر، کوئی علاقائی لیڈر اپنے میں شامل چور، سمگلر، ڈاکو، کرپٹ آدمی کو بُرا نہیں کہتا، اپنے اپنے ساتھیوںکا سب ساتھ دے رہے ہیں۔ معاشرے میں، مختلف شکلوں میں، مختلف اداروں میں، مضبوط مافیا وجود میں آچکے ہیں، جو معاشرے میں تباہی اور بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہیں اپنا مفاد اور اغراض عزیز ہیں۔ انقلاب انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں، انقلاب سال دو سال میں نہیں آتے، نہ ہی راتوں رات معاشرے تبدیل ہوتے ہیں۔ انقلاب لانے والے کو عمل کے ذریعے لوگوں پر ثابت کرنا پڑتا ہے۔ دس دس پارٹیاں بدلنے والا عوام کو کیا انقلاب کی راہ دکھائے گا۔ اربوں کے محلات میں رہنے والے غریب عوام کی حالت کیا بدلیںگے؟ موجودہ حالات میں تمام پاکستانیوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ملکی حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے حالات کے لئے اگر نہ سوچ سکے تو پھر خدانخواستہ، خدانخواستہ گیس، بجلی، بے روز گاری، چوریاں، ڈکیتیاں، قتل و غارت ہمارا مقدر بن جائیں گے۔ اقتدار کی ہوس کے شکار لوگ شاید اپنے گھروں میں بھی لیڈر نہ رہ سکیں۔ پاکستان کو دشمن سے بچانا سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی ذمہ داری ہے۔ ٭

مزید : کالم