کارکن تیاری کہاں کریں؟

کارکن تیاری کہاں کریں؟
کارکن تیاری کہاں کریں؟

  

الطاف بھائی نے شیخ الاسلام طاہر القادری کے ایجنڈے سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو تیاریاں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ الطاف بھائی نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے جسموں اور بازوو¿ں کو توانا کر لیں اور اگلے حکم کا انتظار کریں۔ الطاف بھائی کے علاوہ حضرت جنرل پرویز مشرف نے بھی طاہر القادری کے ایجنڈے سے اتفاق کرتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، تاہم جنرل پرویز مشرف نے اپنے کارکنوں کے نام کوئی پیغام نہیں دیا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں.... ایک تو یہ کہ ان کے کارکن ممکن ہے، جسمانی طور پر فٹ ہوں اور دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے کہ ان کی حمایت تو موجود ہے ،مگر کارکن نہ ہوں.... بہر کیف الطاف بھائی اور جنرل پرویز مشرف کے علاوہ کسی اورسیاسی رہنما یا جماعت نے ڈاکٹر طاہر القادری کے ایجنڈے سے اتفاق نہیں کیا۔ خود میرے گرائیں عمران خان بھی ان کے ایجنڈے سے نالاں نظر آتے ہیں اور شاید ان کا خیال ہے کہ یہ حضرت خود بھی ڈوبیں گے ، ساتھ ہمیں بھی ڈبوئیں گے۔

بہرحال الطاف بھائی نے اپنے کارکنوں کو خاصی مشکل میں ڈال دیا ہے، کیونکہ جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لئے ”واک“ کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، مگر پندرہ روزمیں بالکل فٹ ہوناتو بہت مشکل ہے۔ ہاں البتہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اگر 10 جنوری کے بجائے10 فروری کی ”ڈیٹ“ دی ہوتی تو الطاف بھائی کے کارکنوں کو مکمل طور پر فٹ ہونے کا وقت مل جاتا ....مگر بات یہیں تک ہوتی تو چلو کوئی حل نکل آتا، مصیبت یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کراچی پر قبضہ گروپ چھائے ہوئے ہیں اور انہوں نے سرکاری زمینوں، قبرستانوں اور پارکوں پر قبضے کر رکھے ہیں ،اگر کہیں کوئی ”پارک“ موجود ہے تو ان پارکوں پر ان لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے جو کراچی کے پارکوں کو قبضہ گروپوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ سو اس حالت میں کسی پارک میں ”واک“ کرنے کا مطلب اپنی جان گنوانا ہے۔ دوسرا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”یوگا“ کے ذریعے جسمانی پھرتی حاصل کی جائے، مگر کہا جاتا ہے کہ یوگا صرف خواتین کے لئے مناسب ہے۔ اب جو کام خواتین کے کرنے کا ہے، وہ ایم کیو ایم کے مرد جوان کرتے کیا اچھے لگیں گے؟.... واک اور یوگا کے علاوہ ”جم“ بھی ایک طریقہ ہے۔ خود کو فٹ رکھنے کا، مگر مصیبت یہ ہے کہ ”جم“ میں مختلف ایکسر سائز کے ذریعے صرف چھاتی اور بازوو¿ں کو نمایاں کیا جاتا ہے اور وہ نوجوان جو جم جوائن کرتے ہیں، کپڑوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں، کیونکہ جسم بنانے کے بعد اگر جسم نظر نہ آئے تو پھر کیا فائدہ؟

مثال کے طور پر بالی وڈ کے معروف اداکار سلمان خان ، شاید ہی کوئی فلم ہو جس میں انہوں نے اپنی شرٹ نہ اتاری ہو۔ سلمان خان کو دیکھتے دیکھتے شاہ رخ خان اور عامر خان بھی جسمانی نمائش پر اتر آئے.... اور تو اور ہمارے ملک کے نامور، دنیا کے تیز ترین کرکٹر شعیب اختر جب تک گراو¿نڈ میں سینئر کھلاڑیوں کے مشورے کے مطابق پریکٹس کرتے رہے، دنیا بھر کے بلے بازوں کے ہوش اُڑاتے رہے، مگر جب انہوں نے ”جم“ جوائین کیا تو پھر دنیا بھر کے کرکٹروں کے سامنے ہانپتے کانپتے نظر آئے اور پھر بے چارگی کے عالم میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے گھر بیٹھ گئے۔

سو ہمارے خیال میں جم مناسب نہیں ہے، البتہ جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لئے مالشیوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، کیونکہ کاریگر قسم کے مالشی ایک دو دن کے بعد بندے کو ایسا فٹ کرتے ہیں کہ پھر بندہ مالشیا مالشیا کرتا نظر آتا ہے۔ یہی طریقہ مناسب ہے۔ اس سے ایک تو تیل کا کاروبار کرنے والے لوگوں کا بھی فائدہ ہوگا، دوسرا ہزاروں مالشیوں کو بھی کام مل جائے گا۔ یہ مشورہ ہم نے مفت دیا ہے، مگرہمیں معلوم ہے کہ اگر آپ کسی کو بغیر معاوضہ مشورہ دیں تو یا تو دوسرا بندہ مشورے پر عمل نہیں کرتا، یا پھر آگے سے یہ کہہ دیتا ہے کہ بھائی جسم ہمارا، کارکن ہمارے ،تم مشورہ دینے والے کون ہوتے ہو؟.... مگر ہم چونکہ یہ طے کر بیٹھے ہیں کہ ہم اپنے الطاف بھائی کو مشورہ تو ضرور دیں گے، چاہے انہیں اچھا لگے یا بُرا۔

ہمارا مشورہ ہے کہ وہ کارکنوں کو لمبے چوڑے امتحان میں ڈالے بغیر ہی شیخ الاسلام کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ الاسلام موجودہ نظام کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ نظام کے تحت ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ نظام کے تحت صرف کرپٹ، بدمعاش، جاگیردار، سرمایہ دار اور ابن الوقت لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ شیخ الاسلام جس طرح کی تبدیلی کے خواہش مند ہیں، اس تبدیلی کو لانے کے لئے موجودہ نظام اور نظام کو چلانے والے لوگوں کو باہر نکالنا ہوگا، اب اگر موجودہ نظام اور اس سے وابستہ لوگوں سے جان چھڑانی ہے تو پھر الطاف بھائی سب سے پہلے وفاقی حکومت کے ساتھ مفاہمت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، اپنے قومی اسمبلی کے اراکین کو مستعفی ہونے کا حکم دیں۔ صوبائی سطح پر بھی اپنے اراکین سے استعفے دلائیں اور گورنر سندھ عشرت العباد خان، جنہیں اب طویل ترین گورنری کرنے پر ”ستارئہ امتیاز“ سے نوازا گیا ہے، انہیں بھی واپس بلائیں، کیونکہ الطاف بھائی کے ایک حکم پر موجودہ نظام زمین پر آجائے گا اور شیخ الاسلام کی آدھی سے زیادہ تحریک کامیاب ہو جائے گی۔ الطاف بھائی کے اس طرح کرنے سے ملک میں تبدیلی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد لوگوں کو طاہر القادری کے ایجنڈے کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے، مگر اس میں ایک احتیاط کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ طاہر القادری کے ایجنڈے کو پایہءتکمیل تک پہنچانے کے لئے، دو سے تین سال لگ سکتے ہیں اور الطاف بھائی چاہتے ہیں کہ جس ایجنڈے میں دو، تین سال صرف ہوں گے، وہ جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں ہے.... الطاف بھائی جمہوریت پسند آدمی ہیں۔ وہ ملک کے عوام کی رائے کو ہی حقیقی رائے سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے بیانات میں آمریت کے خلاف ڈٹ جانے کی بھی بات کرتے ہیں۔ اب ایک ایسی شخصیت کہ جو خود کو جمہوریت کا حامی کہلواتی ہے، اگر ایک ایسے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اپنے کارکنوں کو تیاریوں کا حکم دے رہی ہے تو پھر اس سے بڑی زیادتی کوئی ہوہی نہیں سکتی۔

الطاف بھائی کو چاہئے کہ اپنے کارکنوں کو کسی بھی طرح کی آمریت کے خلاف مزاحمت کے لئے تیار کریں، کیونکہ الطاف بھائی سب سے زیادہ آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں۔ وہ اگر جنرل پرویز مشرف جیسے آمر کے ساتھ دوستی بڑھاتے ہیں، تو اس کے پیچھے بھی ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ملک میں کہیں آمریت نہ آجائے۔ یوں بھی کسی طرح کی تبدیلی کے لئے چست و توانا جسموں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ کارکنوں کی ذہنی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کارکنوں کے سامنے مقاصد کی تکمیل کی منزل ہوتی ہے۔ دھونس، دھاندلی، گھیراو¿، جلاو¿ اور گرجنے برسنے سے تبدیلی نہیں آتی۔ یہ درست ہے کہ ملک کے حکمران پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ملک اور اس کے عوام کے خلاف کیا کیا کرسکتے ہیں، مگر عوام ہر طرح کی ذلت اور مسائل کے باوجود ملک میں جمہوریت کے خلاف جانے کو تیار نہیں ہیں۔ عوام، صدر آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی جیسے لوگوں کے ساتھ تو وقت گزار سکتے ہیں، مگر وہ کسی طور پر بھی جنرل ضیاءالحق، ایوب خان یا جنرل پرویز مشرف جیسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ صرف سیاستدانوں کا حوصلہ ہے کہ وہ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کا ساتھ نبھانے کے لئے دل و جان سے آمادہ رہتے ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں کہ کوئی پرویزمشرف ریاست بچانے کے لئے میدان میں آئے، مگر شایداب ایسا ممکن نہیں ہے۔ قوم شیخ الاسلام جیسے لوگوں کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں ہے اور قوم سمجھتی ہے کہ شیخ الاسلام جیسے لوگ عام سیاسی انداز سے آگے نہیں کر سکتے ....جبکہ شیخ الاسلام بھی سمجھتے ہیں کہ وہ سوائے چور دروازے کے حکمران نہیں بن سکتے۔ الطاف بھائی آپ تو ایک بہت بڑے طبقے کے نمائندے ہیں۔ لوگ آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ آپ حقیقی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، پھر مصنوعی تبدیلی لانے والے مصنوعی لوگوں کے لئے اپنے کارکنوں کو میدان میں اتارنے کی کیا ضرورت ہے۔ ٭

مزید : کالم