بلوچ پہاڑوں سے اُتر آئیں، کیوں؟(2)

بلوچ پہاڑوں سے اُتر آئیں، کیوں؟(2)
بلوچ پہاڑوں سے اُتر آئیں، کیوں؟(2)

  

ہم اس مسئلے کا تجزیہ اس لئے کررہے ہیں تاکہ ان تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھا سکیں۔ یہ جملہ اپنے اندر بے شمار کہانیاں لئے ہوئے ہے۔ اس کا ایک خاص پس منظر ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلوچوں کو آخر کیوں کسی راستے کے انتخاب پر مجبور کیا گیا؟.... آئیے تاریخ کے کچھ اوراق پلٹتے ہیں تاکہ اس کا کھوج لگا سکیں.... جب پاکستان اپنی تخلیق کے مراحل سے گزر رہا تھا تو ریاست قلات کے والی خان میر احمد یار خان بھی کشمکش کا شکار ہوگئے تھے، حالانکہ انہوں نے بلوچستان میں مسلم لیگ کی آبیاری اور کھل کر حمایت کی تھی۔ وہ پاکستان کی تشکیل کے لئے بھی کام کرتے رہے۔ تقسیم سے قبل ریاست قلات برطانوی ہند سے مختلف معاہدوں کے بعد اپنی حقیقی حیثیت کھو چکی تھی، بعض حصے اس سے علیحدہ کردیئے گئے تھے۔ برطانوی اقتدار پوری طرح اُبھر چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور بر صغیر ہند سمیت کئی ریاستیں اس کی باجگزار بن گئی تھیں ۔برطانیہ ایک سپر پاور کی حیثیت سے کئی ریاستوں کو زیر نگیں کر چکا تھا۔ افغانستان اس کی زد میں آیا اور ڈیورنڈ لائن اور گڈامک کے معاہدوں پر مجبور کردیا گیا، وہاں ریاست قلات کی فوجی قوت برطانوی بھیڑیئے کے مقابل ایک چڑیا سے زیادہ نہیں تھی۔ افغانستان جیسی طاقتور ریاست معاہدے پر مجبور ہوگئی تھی تو ریاست قلات کہاں ٹھہر سکتی تھی؟ خان میر احمد یار خان (مرحوم) نے جو خواب دیکھا تھا، وہ ان کی نگاہوں میں بکھر رہا تھا۔ انہوں نے کچھ ہاتھ پاﺅں مارنے کی کوشش کی، مگر پاکستان سے الحاق کے سوا ان کے سامنے کوئی اور راستہ نہیں تھا، لہذا انہوں نے شمولیت کا اعلان کردیا، کیونکہ مزاحمت کی قوت موجود نہیں تھی ۔

 1958ءمیں خان مرحوم نے مزاحمت کا سوچا تو کوئی طاقتور مزاحمت نہ کرسکے۔ اپنی کتاب ”تاریخ بلوچستان“ میں وہ خود رقمطراز ہیں کہ.... چند لوگوں نے مزاحمت کی تو وہ مارے گئے، ان کی تعداد 10 بھی نہیں تھی۔ نواب نوروز خان کی حمایت میں بغاوت کا علم بلند کیا اور انجام تاریخ کا حصہ ہے۔ جب پھانسی پانے والوں کی لاشیں ٹرین کے ذریعے کوئٹہ لائی گئیں تو نواب خیر بخش مری سٹیشن پر موجود تھے اور چند ہی لوگ ان کے ساتھ تھے، اس سے دہشت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک لحاظ سے پاکستان بننے کے بعد یہ پہلی مسلح مزاحمت تھی۔ اس وقت نواب نوروز خان کا مطالبہ خان کی حمایت میں تھا۔ نواب نوروز خان کے ذہن میں اس وقت وہ نقشہ موجود نہیں تھا جو آج نواب خیر بخش مری کے ذہن میں موجود ہے۔ ایوب خان کے مارشل لاءمیں یہ پہلی بغاوت تھی اور بغاوت کرنے والوں کے ذہن میں کوئی واضح نقشہ موجود نہیں تھا۔ نو روز خان کو گرفتار کیا گیا، جیل بھیج دیئے گئے، رہا ہوئے تو یہ بھی اب تاریخ کا حصہ ہے۔ جب جنرل ایوب خان نے جنرل موسیٰ کو گورنر (مغربی پاکستان) بنایا تو خان قلات کو جنرل موسیٰ کا مشیر بنادیا، ان کا دائرہ کار بلوچ مسائل سے متعلق تھا ۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ریاست قلات کا حکمران کتنا مضمحل ہوچکا تھا اور پشتون مسائل کے لئے سردار نذر محمد ترین کے بیٹے کو جنرل موسیٰ کا مشیر بنایا گیا۔

قارئین محترم! ہم آج جب ریاست قلات کے حکمرانوں کے طرز حکومت کا تجزیہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں قدم رکھنے کے باوجود اپنی ریاست کا طرز حکمرانی قبل از مسیح کے دور کا اختیار کرلیا تھا، حالانکہ ان کے ہمسایہ میں ایران جیسی جدید ریاست موجود تھی، جو تہذیب و تمدن کا شاندار ماضی رکھتی تھی، اس کے ساتھ افغانستان کی حکومت موجود تھی۔ ایک فاتح قوم کی حکمرانی تھی۔ دونوں ریاستوں میں دستور تھا، پارلیمنٹ تھی، باقاعدہ فوج تھی، سکہ رائج تھا، ایک سسٹم موجود تھا ، جبکہ قلات کے خان صاحبان ڈھاڈری بندوق سے آگے کا نہ سوچ سکے اور نہ انہوں نے کبھی اس کا جائزہ لیا کہ ایران اور افغانستان کس طرف جارہے ہیں اور کیسے حکمرانی کررہے ہیں؟

قلات کے حکمرانوں کے پاس گوادر جیسی قیمتی بندرگاہ موجود تھی، لیکن وہ اسے اپنی ریاست کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ والیءقلات اس دور میں تاج برطانیہ سے براہ راست معاہدے کرتے اور ایک خود مختار ریاست کی طرح اسے جدید خطوط پر استوار کرتے تو ایک طاقتور اور شاندار ریاست وجود میں آسکتی تھی، لیکن جب تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھا تو پھر تاریخ نے سبق سکھا دیا اور ایک خود مختار ریاست کا وجود مٹ گیا۔ اب وقت تاریخ کا پہیہ پیچھے کی جانب گھمانا چاہتا ہے۔ موجودہ خان صاحب نے بلوچوں کا گرینڈ جرگہ بلایا اور سب کے سامنے وعدہ کیا کہ وہ ریاست قلات کو بحال کرنے کے لئے برطانیہ جائیں گے اور مقدمہ لڑیں گے، پھر نجانے کیا ہوا کہ خان صاحب نے ریاست بحال کرتے کرتے تاج برطانیہ سے درخواست کی کہ انہیں پناہ دی جائے اور پناہ حاصل کرلی، جس برطانیہ نے ان کی ریاست کو تاراج کیا تھا، اسی سے صلح کرلی۔ یہ وہ المیہ ہے جو بلوچ قوم کو مشکلات میں لا کرکھڑا کرچکا ہے۔

قارئین محترم! ایوب خان کے دور میں بلوچوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا، لیکن جب ایوب خان نے ایک دستور تشکیل دیا اور عام انتخابات کا اعلان کیا تو بلوچ قائدین نے انتخابات میں بھر پور حصہ لیا۔ یہ شراکت نیشنل عوامی پارٹی کے جھنڈے تلے تھی۔ نواب خیر بخش مری قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے، میر غوث بخش بزنجو بھی ممبر تھے ، سردار عطاءاللہ مینگل صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے۔ اس وقت مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) ایک صوبہ تھا۔ اس مرحلے پر ایک اور اہم سیاسی پہلو کو نگاہ میں رکھنا ہوگا کہ جب پاکستان میں شاطر دماغوں نے ون یونٹ تشکیل دیا تو اس کا ایک خاص مقصد تھا، اس پر فی الحال بحث سے دامن بچاتے ہوئے اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اور مغربی پاکستان میں صوبوں کی آبادی کم تھی، اس لئے اس کو برابر کرنے کے لئے ون یونٹ کا فارمولہ بنایا گیا، جس میں مشرقی پاکستان، جو پہلے سے ہی ایک صوبہ تھا، اس کے مقابل سندھ، سرحد، پنجاب و بلوچ ریاستوں اور برٹش بلوچستان کو ایک صوبے میں رکھ کر مغربی پاکستان کا صوبہ بنادیا گیا، یوں پاکستان دو صوبوں پر مشتمل ملک بن گیا۔

 در اصل آبادی کے خوف نے پنجاب کو اس راستے پر ڈالا، تاکہ مشرقی پاکستان کی آبادی اس کے لئے خطرہ نہ بنے۔اسلام آباد کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اس کا احساس تھا کہ اگر کبھی انتخابات ہوئے تو بنگالیوں کی بالادستی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا، اس لئے ون یونٹ بنایا گیا۔ اس کے بننے کے بعد ہی مشرقی پاکستان کو احساس ہوگیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگیا ہے۔ اس کے بعد صوبہ سرحد، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان کے قوم پرستوں اور سیکولر پارٹیوں نے ون یونٹ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا اور نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ یہ پہلی سیاسی جدوجہد تھی جو چھوٹے صوبوں کے قائدین نے شروع کی، صوبائی خود مختاری کی بات کی اور ون یونٹ توڑنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت نیپ کی تمام جدوجہد کا محور صرف ون یونٹ کا خاتمہ تھا، اس کے ساتھ ساتھ خود مختاری کی بات تھی۔

قارئین محترم! اس مرحلے پر اس پہلو پر نظر رکھنا ہوگی کہ خود مختاری کا تصور اس وقت اتنا واضح نہیں تھا اور نہ اس وقت وہ تناظر تھا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ بات ون یونٹ توڑنے سے شروع ہوئی۔ حکمرانوں کی ہٹ دھرمی رکاوٹ تھی، لہذا اس مطالبے کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ایوب خان کے خلاف جدوجہد شروع ہوئی اور نتیجہ مارشل لاءکی صورت میں نکل آیا۔ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پورے ملک کا دورہ کیا، پورے ملک کے لیڈروں سے ملاقاتیں کیں ۔انہوں نے دو مطالبات فوراً تسلیم کرلئے، ون یونٹ توڑ دیا اور.... One man one vote ....کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔ یہ اعلان چھوٹے صوبوں کے لئے عید کا سماں بن گیا ، خوب جشن منایا گیا، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ایک اور سازش کے تانے بانے بن رہی تھی۔ پھر وہ خطرہ جس کو ون یونٹ کی چھتری تلے دفن کردیا گیا تھا، ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بڑی قوت سے ابھر آیا اور مشرقی پاکستان کی آبادی کا خوف اور پارلیمنٹ میں اس کی بالادستی کی ہیبت نے پنجاب کو ہلاکر رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک نیا کھیل شروع کردیا گیا اور اس کے لئے پیپلزپارٹی ایک بہترین مہرہ ثابت ہوئی۔ عام انتخابات کے نتیجے نے تمام منصوبے درہم برہم کرکے رکھ دیئے۔ ذرا اس نتیجے کو دیکھیں کہ قومی اسمبلی میں کیا نقشہ بن گیا اور توازن مشرقی پاکستان کے حق میں چلا گیا۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) بھی مشرقی پاکستان کی اکثریت کے ساتھ ہوگئے۔ یہ مستقبل کا ایک خوفناک خواب تھا جو مفاد پرست قوتوں کو خوف میں مبتلا کرچکا تھا، جبکہ ایک نیا کھیل اب شروع ہونے والا تھا۔ آئیے ذرا انتخابی نتیجے کو دیکھیں!

قومی اسمبلی کی کل نشستیں 313 تھیں:

عام نشستیں

خواتین

کل نشستیں

مشرقی پاکستان

162

07

169

پنجاب

82

03

85

سندھ

27

01

28

بلوچستان

04

01

05

شمال مغربی سرحدی صوبہ

18

01

19

مرکزی انتظامی قبائلی علاقے

07

===

07

300

13

313

مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 169 میں سے 167 نشستیں حاصل کیں، مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی نے 86 نشستیں حاصل کیں، یوں باقی چاروں صوبوں کی کل نشستیں 144 تھیں۔ یہ بڑا واضح فرق تھا۔ بلوچستان میں بہت زیادہ خوشی تھی۔ ایسا ہی نقشہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تھا۔ سندھ میں ایسا نہیں تھا۔ قوم پرست بری طرح ہار گئے تھے، پیپلزپارٹی نے نمائندگی حاصل کرلی تھی۔ اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے بعض بلوچ عمائدین کے ذہن میں ایک خود مختار بلوچستان کا خیال ابھر آیا تھا، لیکن اس کا اظہار کہیں نہیں ہورہا تھا، اس لئے کہ بلوچستان ایک صوبہ بن گیا تھا۔ تاریخ میں پہلی بار بلوچوں کو صوبہ ملا تھا ، جبکہ اس کے بعد بلوچوں کو تاریخ میں پہلی بار حکومت چلانے کا تجربہ حاصل ہو رہا تھا۔ بلوچ ریاستیں پس منظر میں چلی گئی تھیں۔ ایک لحاظ سے بلوچ ریاستوں کی ہیئت ترکیبی ختم ہوکر رہ گئی تھی۔ خان قلات کے صاحبزادے نیپ سے شکست کھا چکے تھے، سرداروں کو بالادستی حاصل ہوگئی تھی، سردار صاحبان ایک طرح سے رومانویت کے سحر میں مبتلا تھے۔ ان لمحوں میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا یا کردیا گیا، اس سے بلوچ اور پشتون قوم پرستوں میں مایوسی کی لہر پیدا ہوگئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے بنگالی ان کے لئے بڑا سہارا تھا جو علیحدگی کے بعد ختم ہوگیا ہے۔ اب بلوچستان پنجاب کے رحم وکرم پر ہے۔ (جاری ہے) ٭

مزید : کالم