پولیو ویکسی نیشن: خدشات و حقائق

پولیو ویکسی نیشن: خدشات و حقائق
پولیو ویکسی نیشن: خدشات و حقائق

  

ایک گزشتہ کالم میں، مَیں نے لکھا تھا کہ ایلوپیتھک جو ہو میوپیتھی کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ مذاق تک اُڑاتے ہیں، ویکسی نیشن کے سلسلے میں ہو میوپیتھی کے اصول پر عمل پیرا ہیں، یعنی کسی بیماری کو پیدا کرنے والے جراثیم وائرس یا دوسرے اسباب کو Dilute کر کے مریض کے جسم میں داخل کیا جائے تاکہ اس کے جسم کی قدرتی مدافعت اس کے خلاف اپنے نظام کو عمل میں لائے اور جسم میں ایک مضبوط مدافعت پیدا ہو جائے، جس سے مریض پر اس بیماری کے اسباب....(خواہ جراثیم، وائرس یا دیگر اسباب)....اثر انداز نہ ہو سکیں۔ پولیو ایک وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے، اس وائرس کی کئی اقسام ہیں۔ بنیادی طور پر ٹائیفائیڈ کی طرح پولیو کو بھی انتڑیوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لئے پہلی بار ویکسی نیشن بنانے کا خیال اس طرح آیا کہ 1921ءمیں ایک سیاست دان اپنی جاگیر پر چھٹیاں منا رہا تھا کہ اس پر پولیو کا اٹیک ہوا۔ اگرچہ یہ ایک وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے، لیکن ہمارے دیہات میں اسے گرم سرد ہونے کا سبب قرار دیا جاتا ہے اور گرم سرد ہونے کا اس سے کوئی تعلق ضرور ہے۔

یہ چھٹیاں منانے والا امریکی سیاست دان فرینکلن ڈیلانوروز ویلٹ تھا جوامریکہ میں ایف ڈی آر کے مختصر نام سے مشہور ہے اور جسے امریکی تاریخ میں اب تک تین بار متواتر منتخب ہونے والا پہلا اور آخری صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ روز ویلٹ نے جنگل میں پھرتے ہوئے تھک کر اور گرمی سے گھبرا کر ٹھنڈے پانی میں پیرا کی اور خود کو آسودگی بخشی۔ پھر پیراکی کے لباس میں ہی پیراکی کے تالاب کے کنارے کافی دیر تک سستاتا رہا۔ رات وہ اپنے بستر میں لیٹا تو اسے لگا کہ اُسے سردی کا اثر ہوگیا ہے۔ جی ہاں، پولیو کا سرد گرم ہونے سے بھی کوئی تعلق ضرور ہے اور اس کی ابتدائی علامات انفلوئنزا کی سی ہوتی ہیں۔ سردرد، متلی، اُبکائیاں یا قے اور بخار اس کی ابتدائی علامات ہیں۔ اس کا وائرس ناک یا منہ سے داخل ہو کر آنتوں اور خون میں شامل ہو کر مریض کے خون میں مدافعت کے نظام کو سرگرم کر دیتا ہے، جس سے مریض کے خون میںAntibodies پیدا ہو کر مریض کو ہمیشہ کے لئے اس مرض سے مامون کر دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ صرف دس فی صد لوگ اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں جو قدرتی مدافعتی نظام کے باعث اس سے مامون ہو جاتے ہیں، صرف ایک فی صد مریضوں کے خون کے مدافعتی نظام سے بچ کر وائرس دماغ اور حرام مغز تک رسائی حاصل کر کے وہاں اعصاب کو متاثر کر دیتا ہے، جس سے مریض کا نچلا دھڑ مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ پولیو نے نہ کبھی طاعون کی شکل اختیار کی، نہ کبھی وبائی انفلوئنزا کی طرح وبائی انداز میں پھیلا۔ 1900ءتک اس کے لئے کوئی ویکسین کامیاب نہیں ہوئی تھی، کیونکہ سائنس دانوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے پھیلنے کا سبب کوئی ایک وائرس نہیں، بلکہ متعدد وائرس ہیں۔ مسٹر جونا سالکJonas Salk نے 1947ءمیں اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کیا اور 1952ءمیں ویکسین متعارف کروائی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویکسین ایک بہت اچھا بزنس بن گئی۔

اس سلسلے میں ایک اور عجیب و غریب نظریہ یہ بھی ہے کہ 1900ءکے دور میں صحت و صفائی کے حالات بہت بہتر نہیں تھے۔ بچوں کو گندگی سے اس بیماری کا وائرس متاثر کرتا تھا، جس سے اس میں قدرتی مدافعت پیدا ہو جاتی تھی اور کسی دواکی کوئی ضرورت نہیں پڑتی تھی، لیکن 1900ءکے بعد جب صحت و صفائی کی صورت حال بہتر ہوگئی تو قدرتی طور پر اس وائرس سے متاثر ہونے کے مواقع کم ہوگئے، جس کے نتیجے میں مدافعت بھی کمزور پڑ گئی اور پولیو کے زیادہ کیس سامنے آنے لگے، لیکن اب اس دور میں کچھ اور بھیانک انکشافات ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اب قدرتی طور پر پولیو سے متاثر ہونے کے کیسوں سے کہیں زیادہ پولیو ویکسین سے یہ مرض پھیل رہا ہے، بلکہ اس سے کچھ دوسری پیچدگیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف پولیو ، بلکہ تمام بیماریوں کی ویکسین مشکوک ہوگئی ہیں۔

اس سال ضلع ڈوٹی نیپال میں چودہ بچے خسرے کی ویکسین لگنے سے موت سے ہم کنار ہوگئے۔ اگرچہ کئی بچوں کو خناق اور تشنج کی ویکسین بھی دی گئی، لیکن خسرے کی ویکسین لگنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ان بچوں کی حالت بگڑ گئی اور یہ مر گئے۔ خیال کیا گیا کہ شاید ویکسین زائد المیعاد(Expired) تھی، لیکن تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس کی میعاد ستمبر2013ءتک تھی۔ امریکہ میں ویکسی نیشن پر نظر رکھنے کے لئے ایک ادارہ وجود میں آیا (Vaccine Adverse Event Reporting system .... Vares (کے مختصر نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس ادارے کے مطابق 1990ءسے 2012ءتک امریکہ میں ویکسی نیشن کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد پانچ ہزار ایک سو تھی، جن میں سے ساٹھ فی صد تین سال سے کم عمر بچے تھے اور ان میں سے 360 اموات کا تعلق خسرے کی ویکسین سے تھا۔

مرک کمپنی نے تین درجن کے قریب ویکسین متعارف کرائیں اور ان ویکسین پر کام کرنے والے سائنس دان ڈاکٹر اور ماہر ادویات ڈاکٹر ہل مین نے یہ انکشاف کر کے دنیا کو حیران کر دیا: ”مرک کمپنی ویکسین کے نام سے دنیا بھر میں بیماری کو انجیکٹ کر رہی ہے“۔ ڈاکٹر ہل مین، یو ایس نیشنل اکیڈمی آف سائنس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن، امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنس اور امریکن فلاسفیکل سوسائٹی کے رکن ہیں۔ انہیں عالمی ادارئہ صحت ڈبلیو ایچ اوکی طرف سے حاصل عمر کارکردگی کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔ ڈاکٹر ہل مین کے انٹرویو کی یہ ویڈیو بہت عرصے تک انٹر نیٹ پر موجود تھی، لیکن اب موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر مرکولا (معروف نیچر دیتھ ڈاکٹر) کی ویب سائٹ پر ڈاکٹر ہل مین کے اس انکشاف کا ذکر ہے، لیکن اب ویڈیو موجود نہیں ہے۔

عالمی ادارئہ صحت جس وقت دنیا کو یہ خوش خبری سنا رہا تھا کہ پولیو ویکسین کے ذریعے بھارت سے پولیو کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، عین اس وقت اس عالمی صحت کے ادارے کے اعلیٰ حکام سوئٹرز لینڈ میں ایک اجلاس میں اس بات پر غور کر رہے تھے کہ منہ کے ذریعے پولیو ویکسین ( پولیو کے قطرے) سے بچوں کو پولیو کا عارضہ لاحق ہو رہا ہے کیونکہ اس میں زندہ پولیو وائرس موجود ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق کے نتیجے میں ایک اور عجیب و غریب انکشاف ہوا، لیکن اس کا زیادہ چرچا نہیں کیا گیا، معلوم ہوا کہ ”چینی“ (سفید شکر) اور اس کے متبادل دیگر اشیاءمثلاً Fructose سے مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، جس سے پولیو کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چینی سے زیادہ سے زیادہ پرہیز ہو سکتا ہے پولیو سے بچاو¿ کا ضامن نہ ہو، لیکن یہ احتیاط کے زمرے میں بے حد اہمیت کا حامل انکشاف ہے۔

حال ہی میں نائیجیریا میں پولیو میں اضافہ نوٹ کیا گیا اور اس سال2008ءکی نسبت دوگنا افراد پولیو میں مبتلا ہوئے۔ ایک سو بیس بچے مفلوج ہوگئے اور یہ وہ بچے تھے، جنہیں منہ کے ذریعے پولیو قطرے پلائے گئے تھے۔ منہ سے پلائے جانے والے قطروں میں زندہ وائرس موجود ہے۔ خود امریکہ میں 1979ءکے بعد فطری طور پر پولیو وائرس سے کوئی شخص متاثر نہیں ہوا۔ جتنے لوگ پولیو سے متاثر ہوئے، اس کا سبب پولیو ویکسین تھی۔ آپ انٹر نیٹ پر پولیو ویکسین کے بارے میں ”سرچ“ کریں تو اس کے ساتھ باقاعدہ لکھا ہوگا کہ اس کے نقصانات خارج از امکان نہیں ہیں.... بھارت میں پولیو کے خاتمے کی حقیقت کیا ہے؟.... بھارت میں 23 لاکھ ویکسی نیٹرز نے دو کروڑ گھروں میں جا کر 170 ملین پانچ سال اور اس سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔ بھارتی طبی اخلاقیات کا جریدہ ....Indian Journal of medical Ethics ....کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2011ءمیں 47500 بچوں میں پولیو کی علامات ظاہر ہوئیں اور یہ وہ بچے تھے، جنہیں بار بار پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔ بھارت میں شائع ہونے والے ایک اور تحقیقی مقالے کے مطابق شدید فالج اور موت کے واقعات منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین ( پولیو کے قطروں کا ) نتیجہ ہے۔

سی سی این کی ایک رپورٹ کے مطابق....(جس کی ویڈیو ڈاکٹر مرکولا کی ویب سائٹ پر موجود ہے).... امریکہ میں لائسنس یافتہ اور زیر استعمال دو میں سے ایک روٹا ریکس، جو خاص طور پر روٹا وائرس کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ اس میں سور کے وائرس کے ڈی این اے پائے گئے ہیں۔ 2008ءمیں اس ملاوٹ کا انکشاف ہوا۔ یہ ویکسینGlaxo Smith Kline کی تیار کردہ ہے اور امریکہ میں ایف ڈی اے (فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن) کی منظور کردہ ہے۔ یہ دس لاکھ امریکی بچوں اور دنیا بھر میں تیس ملین بچوں کو دی جا چکی ہے، اس پر امریکہ میں خاصی لے دے ہو رہی ہے۔ نیشنل ویکسین انفارمیشن کی بانی بار برا لوفشر اور ڈاکٹر ایرگ ڈیلوارٹ پولیو ویکسین کو سخت ضرر رساں قرار دیتے ہیں۔ تازہ ترین تحقیقات کے مطابق بچوں میں ”ذہنی پسماندگی“ آٹزم کا سبب پولیو ویکسین کو قرار دیا گیا ہے۔ آٹزم پر تحقیق کرنے والی خاتون ہیلن نے یہ کہہ کر تہلکہ مچا دیا کہ اس کا سبب پولیو ویکسین ہے، جس میں انسانی ٹشوز اب تک استعمال ہو رہے ہیں۔ دوا ساز کمپنیوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ویکسین سے Thimerosal نکال دی ہے، لیکن اب بھی تیئس قسم کی پولیو ویکسین میں انسانی ٹشوز استعمال ہو رہے ہیں، جن سے بچوں میں ذہنی پسماندگی کی بیماری عام ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر مرکولا کی ویب سائٹ پر بچوں کے والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے بچوں کو ویکسین لگوائیں۔ خاص طور پر پولیو ویکسین کے بارے میں بہت احتیاط کریں۔

مذہبی طور پر صرف یہودی ویکسی نیشن کے خلاف ہیں۔ ان کے ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ اگر آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کو ویکسین کی ضرورت نہیں۔ اسی سائنس دان کے مقدمے کی وجہ سے عدالت نے یہودیوں کو ویکسی نیشن لگوانے سے استثنا دے رکھا ہے۔ بعض طبی ادارے یہ شور بھی مچاتے ہیں کہ یہودیوں کو یہ استثنا غلط ہے، لیکن یہ استثنا بہرحال انہیں حاصل ہے اور ان کے بچوں کو تعلیمی ادارں سے ویکسی نیشن نہ کرانے پر نکالا نہیں جاسکتا۔ گزشتہ دنوں بروکلین نیویارک میں بعض یہودی بچوں میں خسرہ پھیل گیا تھا، جس پر کچھ روز میڈیا میں شور مچا، لیکن بعد میں یہ بات دب گئی۔ دوسرے لوگوں کے بچوں کو ویکسی نیشن سے انکار یا کسی وجہ سے نہ کراسکنے پر سکول سے نکال دیا جاتا ہے، حالانکہ دوسرے لوگ بھی اس عدالتی فیصلے کی آڑ میں استثنا حاصل کر سکتے ہیں۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید : کالم