2012ءکا آخری کالم

2012ءکا آخری کالم
2012ءکا آخری کالم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو سال 2012ءکا آخری دن ہو گا۔ مجھے بھی اگر زندگی نے ایک روز کی اور مہلت دے دی تو مَیں بھی انشا اللہ اپنی اس تحریر کو کل صبح دیکھ اور پڑھ رہا ہوں گا۔

مَیں بھی آپ کی طرح اس برس میںاللہ کو پیارے، ہونے والے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی جلی، اَدھ جلی اور برباد لاشوں اور دوسرے کئی اقسام کے انفراسٹرکچرز کی تباہیوںکو میڈیا کے توسط سے دیکھتا رہا ہوں اور شدتِ کرب میں آپ ہی کی طرح تلملاتا رہا ہوں اور سوچتا رہا ہوں کہ یہ سب کچھ بڑے تواتر سے ہمارے ہاں ہی کیوں ہو رہا ہے اور دُنیا کے دوسرے ممالک خاص طور پر غیر مسلم معاشروں میں اس شدت پسندی کے فقدان کی سب سے بڑی اور واحد وجہ کیا ہے۔

میری سوچ دُور نکل گئی ہے....

زمانہ ¿ طالب علمی میں تاریخ کا مضمون میرے پسندیدہ مضامین میں سے ایک تھا۔ دُنیا کے عظیم لوگوں کی سوانح عمریاں مجھے مسحور کیا کرتی تھیں۔ ان عظیم لوگوں میں موجد بھی تھے، جنہوں نے اپنے ماحول سے بغاوت کر کے ایسی ایسی ایجادات کیں جو بنی نوع انسان کی مشترکہ فلاح میں سنگ ِ میل ثابت ہوتی رہیں۔ ایسے بحری سیاح بھی تھے جنہوں نے نئی دُنیائیں دریافت کیں، ایسی برگزیدہ شخصیات بھی تھیں جنہوں نے ارذل معاشروں کو افضل معاشروںمیں بدل دیا اور خداوند تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ وہ پیغمبر بھی تھے جنہوں نے کسمپرسی کی صورت حال میں جنم لیا اور انسان کو نیکی اور بدی میں امتیاز کرنے اور پھر نیکی اختیار کرنے کا درس دیا۔ .... سکول کے طالب علمی کے دور میں یہی عظیم انسان میرے” غیر نصابی مطالعے“ کا مرکز و محور رہے۔

پھر اگلا مرحلہ آیا تو بعض عظیم لوگوںکی خود نوشتیں میرے لئے از بس کشش کا باعث بن گئیں۔ لیکن جلد ہی مَیں نے دیکھا کہ عظیم مسلم ہستیوںکی سوانح یا اُن کی خود نوشتیں، اُس انتقاد سے خالی تھیںجو بشری تقاضوں کا جزوِ لانیفک شمار کی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ ہر مسلمان بزرگ، بڑا آدمی، بڑا سکالر، بڑا ادیب، بڑا مصنف، بڑا مقرر، بڑا ولی، غوث، قطب، قلندر وغیرہ صرف اور صرف نیک صفات ہی کے حامل تھے.... سر تا پا شرافت.... مثبت خصائص ِ انسانی کے پیکر.... احاطہ ¿ خیال میں آنے والی ہر اچھائی کے حامل.... اور پیدائش سے لے کر وفات تک زندگی کے تمام مرحلوںمیں ناقابل یقین حدوں تک جانے والے پارسا.... امانت دار.... حامل ِ صدق و صفا.... اور ہر قسم کی ریا کاری سے پاک!....

پھر مَیں جب اپنے آپ کو دیکھتا تھا تو سخت شرم آتی تھی۔ اُن کی راہ پر چلنا چاہتا تھا لیکن یہ ر اہ بہت کٹھن تھی، کوئی نہ کوئی زیادتی، گناہ، بُرائی، غیبت، نافرنبرداری اور خود عرضی ”سر زد“ ہو جایا کرتی تھی جو مجھے شرمندہ رکھا کرتی تھی۔ مَیں سمجھتا تھا کہ عظیم آدمی بننے کے لئے ایک ایسی سراپا ”نیک“ زندگی کی ضرورت ہے جس میں ”بدی“ کا شائبہ تک نہ ہو مجھے یہ اعتراف کرنے میںکچھ عار نہیں کہ مَیں ہمیشہ ناکام رہتا تھا۔

پھر خدا بھلا کرے انگریزی زبان کا کہ جس نے میری یہ مشکل حل کر دی۔.... چونکہ دورِ متوسط اور دورِ حاضر کے اکثر و بیشتر عظیم انسان فرنگی تھے اس لئے جب مَیں نے اُن کی زندگی کی داستانیں پڑھیں تو حیران رہ گیا کہ اُن کی بُرائیاں بھی اتنی ہی زیادہ قد آور اور گھناﺅنی تھیں کہ جتنی اُن کی اچھائیاں قابل ِ تقلید اور قابل ِتحسین تھیں.... اُن کے بعض عادت و اطوار بڑے ہی قابل ِ اعتراض تھے۔ میرے ذہن میں ایک مثالی ہستی کا جو سراپا موجود تھا، اس کا بت پاش پاش ہونے لگا اور جب مَیں نے اپنے آپ کو اس سانچے میں فِٹ کر کے دیکھا تو کھِل اُٹھا کہ بڑا آدمی بننے کے لئے محض اچھائی کا پُتلا ہونا ہی ضروری نہیں۔ بشری تقاضوں میں یزدانی اور اہرمنی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔.... تب غالب کے کہ اس شعر کے معانی زیادہ کُھل کر سامنے آنے لگے:

لطافت، بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگار ہے آئینہ بادِ بہاری کا

پھر پاکستان آرمی میں جانے کے بعد ملٹری سٹیشن لائبریروں کی جاوہ پیمائی کا شوق چرایا تو وہاں سوائے انگریزی عسکری تصانیف کے کوئی دوسری کتاب کم کم ہی دستیاب تھی۔ اُردو سیکشن میں مذہب پر چند کتابیں، اسلامی تاریخ پر چند تصانیف اور چند ناول اور افسانے وغیرہ جن میں سے زیادہ تر پہلے ہی میری نظر سے گزر چکے تھے۔

انگریزی زبان میں ان عسکری تصانیف میں بھی مجھے سوانح عمریوں اور خود نوشتوں نے اپنی طرف زیادہ کھینچا اور مَیں یہ جان کر ششدر رہ گیا کہ یورپ اور امریکہ کی جنگوں کے تمام ہیرو اچھائیوںاور برائیوں کے مرکب تھے۔ ان سے ایسی ایسی لغزشیں سر زد ہوئیں جو قابل ِ نفرت تھیں لیکن ایسی ایسی عظمتیں بھی ”سرزد“ ہوئیںجو قابل محبت تھیں.... اور اس طرح مَیں اِن ”محبتوں“ کا اسیر ہوتا چلا گیا!

اپنے آپ کو بُرا کہنا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن جب مَیں نے یورپین اور امریکی جنگی کمانڈروںکی خود نوشتوںکا مطالعہ کیا تو اپنے مسلم جنگی ہیروز بھی یاد آئے جن کی سوانح لکھتے ہوئے، اُن کے سوانح نگاروںنے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک انسان کی داستانِ حیات قلم بند کر رہے ہیں، کسی فرشتے کی نہیں.... فرشتہ سیرت ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن اگر پروردگارِ عالم نے کسی کو فرشتہ ہی بنانا تھا تو اُسے اپنے پاس عرش کی رفعتوںمیں ہی مقیم رکھتا، اسے زمین کی پستیوں پرکیوں بھیجا؟.... اور اگر اس کا امتحان مقصود تھا اور اس کے کردار کا کلی تجزیہ کرنے کے بعد اس کے دوزخی یا بہشتی ہونے کا فیصلہ کرنا تھا تو پھر انسان کی فرشتہ صفتی ہی اس کے لئے کافی نہیں تھی بلکہ اس کے لئے حضرتِ انسان کا سفلہ پن اور دُوں فطرتی کا حساب کتاب بھی ضروری تھا....

یہی وجہ تھی کہ مَیں انگریزی زبان کے سوانح نگاروں کو اُردو، عربی یا فارسی زبانوں کے سوانح نگاروں پر ترجیح دینے لگا.... مغربی مصنفین لاکھ جھوٹ بکتے ہوں گے، مگر وہ اپنے ممدوح کے محض ”قصیدے“ نہیں پڑھتے تھے، ہجو گوئی کے فن سے بھی بخوبی آشنا تھے اور اس کا بے رحمانہ استعمال کرنا بھی جانتے تھے۔ ان کے کردار کی یہی خوبی،اُن کی بقائے دوام کا باعث ہوئی۔ مَیں عمداً کسی کا نام نہیں لکھتا کہ ناموں کی فہرست اتنی زیادہ لمبی چوڑی ہے کہ کالم کی تنگ دامنی میں نہیں سما سکتی۔

افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ مسلم مورخین کا یہی یکطرفہ رویہ مسلم اُمہ کے ہر فرد و بشر میں سرائت کر گیا.... اگر پاکستان کی بات کروں تو آپ دیکھیںگے کہ ہمارے ہاںمتوازن اور معتدل رویوں کے فقدان کے پیچھے یہی واحد سبب ہے جو اسلامی اور پاکستانی معاشرے کو دو باہم متضاد نقطہ ہائے نظر کے حاملین میں تقسیم کر دیتا ہے....

مذہب اور سیاست میں یہی رویئے نہایت واشگاف ہو کر سامنے آتے ہیں۔ ہماری ہر سیاسی جماعت اپنا فرضِ عین سمجھتی ہے کہ مخالف کی ہر موو (Move) کی ایک کاﺅنٹر مو(Counter Move) سامنے لانی چاہئے۔ اگر ایک پارٹی اپنے قائد کی کسی ایک خوبی کا ذکر کرتی ہے تو دوسری پارٹی اس خوبی کو خامی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہے۔ اس کھینچا تانی میںاکھاڑے سے باہر بیٹھے تماشائیوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔.... وجہ یہ ہے کہ ہم سکول، کالج، یونیورسٹی، مدرسے، گھر بار، سماج اور میڈیا کی اُن قدیم وکہنہ روایات کو ترک نہیں کر سکتے جو ہمارے ضمیر میں رچ بس گئی ہیں، ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑتی پھرتی ہیں، ہمارا ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہیںاور ہم ان سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔ آج ہمارے ہاںجو فرقہ آرائیاں ہیں اور فرقوں کے درمیان جو قُطبی فاصلے ہیں، یہ اسی یکطرفہ کلچر کا تسلسل ہیں، جس کا ذکر مَیں نے سطورِ بالا میں کیا ہے۔ ہمارا ایک فریق اپنے سیاسی اور مذہبی قائدین کو انسان نہیں فرشتے سمجھتا ہے جبکہ دوسرا فریق انہی فرشتوں کو شیطان سمجھتا ہے۔ ہم نے اعتدال اور توازن کی راہ جو نہیں اپنائی! .... ہم نے تو اس افرنگی کو کافر سمجھا ہوا ہے جو ہمارے ہیروز کو دیوتا نہیں انسان سمجھتا ہے اور انسان ہی کی حیثیت میں اس کی ”سوانح“ کا تجزیہ کرتا ہے۔

مَیں مغربی زبانوں کے عسکری لٹریچر کو اپنی قوم کی فکری کج فہمیوں اور کج ادائیوں کا ایک علاج سمجھتا ہوں۔ یہ لٹریچر ہمارے ہاں عام ہونا چاہئے۔ پاکستان کو شدت پسندی سے نجات دلانے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ہم اپنے تدریسی اداروں میں یہ لٹریچر بھی پڑھائیں۔

آج مسجد اور کلیسا میں پاکستانی معاشرے نے جو فاصلے پیدا کر دیئے ہیں، ان کو ضرور برقرار رکھیں۔ لیکن اس حقیقت کو بھی سامنے رکھیں کہ اگر آج ہم مغرب کے کسی ایک ملک میں گزشتہ 50برسوں میں تعمیر ہونے والی مساجد اور اسلامک سنٹروں کی تعداد پر نظر ڈالیںاور انہی 50برسوں میں پاکستان میں تعمیر ہونے والے گرجا گھروں کی تعداد شمار کر لیں تو آپ کو اپنی شدت پسندی اور مغرب کی اعتدال پسندی کا اعتراف کرتے ہی بن پڑے گی!.... ہمارے مسلم مذہبی سکالروں کو ریسرچ کرنی چاہئے کہ ہماری مذہبی شدت پسندی کا باعث کلیسا یا کلیسائی عبادت گاہیں ہیں یا خود ہماری اپنی مساجد اور ہمارے اپنے مدارس؟ ٭

مزید : کالم