انتخابات کے التوا کی کوششوں کو ناکام بنائیں

انتخابات کے التوا کی کوششوں کو ناکام بنائیں

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر سے تباہی ہو گی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کی حمایت نہیں کریں گے....اچھا ہوا کہ عمران خان کی طرف سے یہ وضاحت جلد ہی کردی گئی کہ ان کی جماعت لانگ مارچ کی حمایت نہیں کرے گی شروع میں ان کے بعض بیانات سے یہ تاثر مل رہا تھا جیسے وہ طاہر القادری کے ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیںان کی جماعت کے صدر اور سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کہا ہے کہ الیکشن ملتوی ہوئے تو سیاست بچے گی نہ ریاست، انہوں نے اپنے کلاس فیلو ڈاکٹر طاہر القادری کو پیغام دیا ہے کہ وہ انتخابات کے دشمنوں کو تقویت نہ دیں، دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو رفع کرنے کے لئے انتخابی شیڈول کا فوری اعلان کر دیا جائے،

اگرچہ حکومت کی طرف سے ایسے تمام خدشات کو رد کیا جاتا ہے جن میں انتخابات کے التوا کی بات کی جاتی ہے تاہم اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض قوتیں انتخابات کا التوا چاہتی ہیں ، اور مختلف وجوہ کی بنا پر انہوں نے یہ کوششیں بھی شروع کر رکھی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح انتخابات ملتوی ہو جائیں، اس لئے نہ صرف ایسی قوتوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے بلکہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے جس سے انتخابات کے التوا کے خواہش مندوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس لحاظ سے مولانا فضل الرحمن کا یہ مطالبہ بروقت ہے کہ انتخابی شیڈول کا فوری طور پر اعلان کر دیا جائے ، مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی ایسی ہی تشویش ظاہر کی ہے اور انتخابات کے التوا کی صورت میں سنگین انتباہ بھی کردیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ سینئر رہنماﺅں کی آواز ہوش کو بروقت سنا جائے اور انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے۔  ٭

مزید : اداریہ