پاکستانی تاریخ کا نازک ترین دور

پاکستانی تاریخ کا نازک ترین دور

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے- پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے ہوئے بیرونی حالات اور کافی حد تک غیر یقینی اندرونی صورت حال نے بے شمار سیکورٹی چیلنجوں کو جنم دیا ہے- آج ہمارا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل ہمارے سامنے نہیں ، جبکہ روائتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں- ان تمام خطرات کا مقابلہ قوم کی اجتماعی کوشش سے ہی کیا جاسکتا ہے، جس میں مسلح افواج کا مرکزی کردار ہے- جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان خیالات کا اظہار کراچی نیول اکیڈمی میں نیوی انجینئرزکے شارٹ سروس کمیشن کی پاسنگ آﺅٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا-

جنرل اشفاق پرویز کیانی کے یہ خیالات ایسی تقریبات میں کہی گئی محض روائتی باتیں نہیں بلکہ ملک کے دفاع کی جنگ میں شریک ایک سپاہی کاحقیقت پسندانہ اظہار خیال ہے جس کا ایک ایک لفظ قوم و ملک کی موجودہ حالت کی درست عکاسی کر رہا ہے- آج ملک یقینا اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے- ہم نے اس سے پہلے بھی اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن سے جرات اور پامردی کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں - ہماری مسلح افواج نے ہر مرحلہ پر اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو دنیا سے تسلیم کرایا ہے- لیکن اس وقت ہم دشمن کے گھیرے میں آ چکے ہیں - دشمن ہمارے ملک کے اندر گھس کر ہم پر حملہ آور ہے- اس کی طرف سے خود کش حملوں، بم دھماکوں ، مذہبی اجتماعات اور مقامات پر حملوں اور اغوا برائے تاوان وغیرہ کی صورت میں مسلسل سفاکانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں- ہم افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنے جن اتحادیوں کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کی طرف سے ہماری خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور قوم اپنے جوہری ہتھیاروں کے سلسلے میں ان کی نیت کو شبے کی نظر سے دیکھ رہی ہے-

ہمارے سیاسی رہنماﺅں سے بڑی طاقتوں کے سفارتی عملے کے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے تعلقات کے متعلق ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ ان کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں - ؟میمو سیکنڈل جیسے معاملات قوم کے سامنے آتے رہے ہیں- بیرونی خطرات سے زیادہ اس وقت ہمیں اپنے اندرونی معاملات کی زیادہ فکر ہے- دشمن ہمارے اندر اربوں ڈالر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے خرچ کر چکا ہے- ایک طرف اگر دہشت گردوں پر ہماری دفاعی تنصیبات اور سیکورٹی ایجنسیز پر حملوں اور خود کش حملوں کے لئے سرمایہ کاری کی گئی ہے تو دوسری طرف علاقائی اور لسانی تعصب پیدا کرنے کے لئے بھاری رقوم خرچ کی جارہی ہیں - مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے مساجد پر حملے اور چن چن کر مختلف مسالک کے مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں- سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے نشاندہی کرنے کے بعد قوم پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی میں مختلف مسلح گروہ بھتہ وصولی، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں- سپریم کورٹ نے کراچی کے حالات درست کرنے کے لئے مبنی بر انصاف اور حقیقت پسندانہ اقدامات تجویز کئے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا- سپریم کورٹ بلوچستان کی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام قرار دینے کے بعد اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے کہہ چکی ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے بجائے وفاقی حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس سے محاذ آرائی کا راستہ منتخب کیا -

اراکین اسمبلی اورر وزراءکی طرف سے ملک میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ نے متعدد فیصلے کئے لیکن سیاستدانوں کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی نہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پرکما حقہ¾ عمل کیا گیا- اس طرح اندرونی طور پر ملک کی معیشت اور امن و امان کو تباہ کرنے میں بعض جماعتیں بالواسطہ طور پر کردار ادا کر رہی ہیں - سیاسی جماعتوں کی طرف سے تیار کئے گئے مسلح گروہ بھی اب ان کے کنٹرول میں نہیں رہے - وہ اپنے کارکنوں اور پارٹی اقتدار سے فائدے اٹھانے والے کارکنوں کی مدد سے نہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لئے کچھ کر سکے نہ انہوں نے قومی سطح پر مل بٹھ کر کسی طرح قومی مسائل بالخصوص بلوچستان اور کراچی کے مسئلے اور طالبان سے مذاکرات کے لئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کیا - اپنے جلسوں او ر جلوسوں سے رہنماﺅں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اپنی اہمیت بڑھانے ہی کا کام لیا ، نہ قوم کی تربیت کی نہ قومی معاملات میں عا م آدمی میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور ان کے شعور میں اضافے کے لئے کچھ کیا- اگر سیاسی رہنماﺅں کو اپنے پاپولر ہونے کا اتنا ہی یقین ہے تو وہ بتائیں کہ آج تک انہوں نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے قومی استحکام کے لئے کیا کام لیا ہے- ؟

آرمی چیف اگر اندرونی صورتحال کو کافی حد تک غیر یقینی قرار دیتے ہیں تو ان کے پیش نظر یقینا اسی طرح کے حالات ہوں گے- دہشت گردی میں ملوث مختلف طرح کے گروہوں کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہے کہ آج ہمارا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل ہمارے سامنے نہیں- بھارت کی طرف سے ہماری سرحدوں پر مزید افواج کی تعیناتی اور اس کی طرف سے ہمارے دریاﺅں پر نت نئے ڈیموں کی تعمیر اور پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ڈوبتی ہوئی معیشت ، ہمارے روائتی خطرات میں اضافے کا باعث ہے -

جنرل کیانی کی تقریر کے دن کراچی میں مسافر بس میں بم دھماکے سے چھ مسافر جاں بحق اور چون شدید زخمی ہوئے ، جبکہ دو روز قبل پشاور کے قریب سے اغوا کئے گئے اکیس لیویز اہل کار دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے- کوئٹہ میں موٹر سائیکل سواروں نے پولیس گاڑی پر فائرنگ کرکے تھانیدار سمیت چار پولیس اہل کاروں کو شہید کر دیا-

ان حالات میں جنرل کیانی کی طرف سے موجودہ حالات کو ملکی تاریخ کے نازک ترین حالات قرار دینا بہت درست ہے - ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نازک حالات سے قوم و ملک کو نکالنے کے لئے سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما اپنی ذمہ داریوں کا احسا س کریں اور محض آخری مراحل میں کسی کو سسٹم لپیٹنے نہیں دیں گے جسیے بیانات جاری کرنے پر ہی توجہ نہ دیں - موجودہ حالات میں سیاستدانوں کی طرف سے سسٹم بچانے کی اس قدر فکر کرنے کا مقصد ، اقتدار کے زیادہ سے زیادہ مزے لوٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے - یہ سسٹم تو اس وقت سیاستدانوں ہی کا پسندیدہ ہے- ان کی طاقت لوٹ کھسوٹ میں شامل لوگ اور ان کے تنخواہ دار کارکن ہیں ، عوام نہیں - اگر وہ عوام کی تائید و حمایت بھی چاہتے ہیں، جو کہ سسٹم کی بقاءکے لئے ضروری ہے، تو انہیں عام لوگوں کے لئے بھی اس سسٹم کواتنا ہی پسندیدہ بنانے کے اقدامات کرنے چاہئیں جتنا کہ یہ خود ان کے اپنے لئے پسندیدہ ہے-

مزید : اداریہ