پی آئی اے کیس میں سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری

پی آئی اے کیس میں سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری
پی آئی اے کیس میں سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے پی آئی اے میں چیئرمین اور ایم ڈی کے عہدوں پر کل وقتی تقرر نہ کرنے پر سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت نے عبوری مختصر حکم میں قرار دیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو ایک سو چالیس ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے جس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سو ارب روپے کے نقصان کا اضافہ ہوا ہے۔ اٹھائیس طیاروں کے لیے پانچ سو اکیاون پائلٹ اور سترہ ہزار سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں۔ پروازوں کی منزلیں سینتالیس سے کم ہوکر سینتیس اور ممالک کی تعداد بیالیس سے کم ہوکر پچیس رہ گئی ہے۔ ٹکٹوں کی فروخت کے لیے ایجنٹس کے تقرر میں شفافیت دکھائی نہیں دیتی جبکہ شیک ڈاﺅن رپورٹ میں بھی خسارہ دکھایا گیا ہے۔ لیکن پی آئی اے کے حالات سدھارنے کے لیے گذشتہ پانچ سالوں میں کوئی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دی۔ احمد مختار وفاقی وزیر اور چیئرمین پی آئی اے تھے۔ راﺅ قمر سلیمان ڈھائی ماہ بعد ہی مستعفی ہوگئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ سیکریٹری دفاع بھی ہیں اور یہ دونوں عہدے کل وقتی ملازمت کے متقاضی ہیں۔ ایم ڈی کے عہدوں پر بھی پائلٹس تعینات کیے جاتے رہے ہیں جو بیک وقت فلائنگ بھی کرتے ہیں۔ اس لیے انتظامی بوجھ اٹھانا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ پی آئی اے کے خسارے اور حالات نہ سدھرنے کی وجہ حساس عہدوں پر کل وقتی تعیناتی کا نہ ہونا ہے۔ اس لیے حکومت کو بذریعہ سیکریٹری دفاع نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ وہ اس امر کی وضاحت کرے کہ پی آئی اے کی حالت سدھارنے کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہ کیا گیا۔ مقدمے کی مزید سماعت چودہ جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

مزید : اسلام آباد