بلوچستان ہائی کورٹ نے اسلم بھوتانی کی درخواست مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دی

بلوچستان ہائی کورٹ نے اسلم بھوتانی کی درخواست مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دی
بلوچستان ہائی کورٹ نے اسلم بھوتانی کی درخواست مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان ہائی کورٹ نے سابق سپیکر محمد اسلم بھوتانی کی درخواست مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دی ۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے اسمبلی سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پاس ہونے کے بعد اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد نور مسکان زئی پر مسشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے موقع پر اسلم بھوتانی کی جانب سے حادی شکیل ایڈووکیٹ اور بازمحمد اور ڈپٹی سپیکر کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ نے موقف اخیتار کیا کہ اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرارداد قوانین کے برعکس پاس کرائی گئی ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں تمام کارروائی کے قواعد کے مطابق ہوئی اور سپیکر نے اپنے اختیارات کا صیح استعمال نہیں کیا۔ دوران سماعت جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم اسمبلی کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف تھا۔ سپیکر کو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا اور عدالت نے اسمبلی کا حاضری رجسٹر بھی طلب کیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ نے دونوں فریقین کا موقف تین گھنٹے تک سنا جس میں دونوں اطراف نے وکلاءنے اپنے دلائل دیئے۔ بعد ازاں مختصر وقفے کے بعد عدالت عالیہ نے اسلم بھوتانی کی آئینی درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سابق اسلم بھوتانی کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور وہ ماہرین قانون سے مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

مزید : کوئٹہ