پنجاب اسمبلی میں بلاول کی تحسین نہ ریاض ملک نام لینے اورعدلیہ پر تنقید کی اجازت مگر’ حاضری ‘سب کی لگ گئی

پنجاب اسمبلی میں بلاول کی تحسین نہ ریاض ملک نام لینے اورعدلیہ پر تنقید کی ...
 پنجاب اسمبلی میں بلاول کی تحسین نہ ریاض ملک نام لینے اورعدلیہ پر تنقید کی اجازت مگر’ حاضری ‘سب کی لگ گئی

  

لاہور(نواز طاہر سے) پاکستان پیپلز پارٹی کو تین روز بعد اپنے لیڈر بلاول بھٹو زرداری کی تقریر پنجاب اسمبلی میں بھی یاد آگئی لیکن سپیکر نے اس تقریر کی بنیاد پر عدلیہ پر تنقید کی اجازت دینے سے انکارکردیا جبکہ مخالف حکمران جماعت نے بھی اس کی شدید مخالفت کی جس سے مسلسل سرد ماحول میں چلنے والی اسمبلی کی کارروائی کی برف پگھل کر شعلے بن اٹھی تاہم سپیکر نے چند منٹ میں ہی اس آگ پر قابوپالیا اور ماحول خوشگوار کردیا۔ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو اس وقت ایوان میں کسی جماعت کا پارلیمانی لیڈر موجود نہیں تھا ، کچھ دیر بعد پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسراءایوان میں آئے جنہوں نے وقفہ سوالات میں آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں بحریہ ٹاﺅن کے بانی ملک ریاض کی جانب سے 85کروڑ روپے سے مکان بنانے کے بیان پر پیپلز پارٹی کے احسان نولاٹیا اور سپیکر میں ہونے والی جھڑپ سے انٹری ڈالی ۔ سپیکر نے احسن نولاٹیا کو ملک ریاض کے بارے میں بات کرنے سے سختی سے منع کیا جبکہ نولاٹیا اس معاملے پر بات کرنے کیلئے مصر رہے جس دوران سپیکر کا لہجہ سخت محسوس کیا گیا تو شوکت محمود بسراءنے کہا کہ معزز ساتھی کو جھڑکیاں مت دیں ۔ اس کے بعد جب شوکت بسرا پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کیلئے کھڑے ہوئے تو سپیکر نے انہیں جیبوں سے ہاتھ نکال کر بات کرنے کی ہدایت کی ۔اس ہدایت پر عاجزی سے عمل کرتے ہوئے شوکت بسراءنے بلاول بھٹو زداری کی اپمی والدہ کی برسی پر تقریر کا حوالہ دیا اور ان کی سیاسی میدان میں کودنے کا خیر مقدم کیا اور توصیفی الفاظ استعمال کیے ۔ جب انہوں نے بلاول بھٹو کی تقریر اور اس میں عدلیہ کے بارے میں بات شروع کی تو سپیکر نے انہیں منع کردیا جس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر بھی اٹھ کھڑی ہوئیں اور حکومتی بنچوں سے بھی مزاحمت کی گئی ۔ ایوان میں ارکان کی تعداد ایک چوتھائی سے بھی کم ہونے کے باوجود پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد ، شوکت بسرا¾ اور ساجدہ میر کی تقریروں سے کان پڑی آواز سنائی دینا مشکل ہوگئے جس دوران سپیکرآرڈر پلیز آرڈر کہتے اور مائیک بند کرنے کی ہدایت کرتے رہے لیکن شوکت بسرا نے بلاول بھٹو کی تقریر میں عدلیہ کے بارے میں اٹھائے جانے والے نکات کی حمایت اور ان کے جواب کیلئے قرارداد اجازت کے بغیر ہی پڑھنا شروع کردی لیکن سپیکر نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھی اور دو توجہ دلاﺅ نوٹس نمٹا دیے ۔ شوکت بسراءاپنی ’حاضری‘ لگوا کر ایوان سے باہر چلے گئے ۔باقی کارروائی پھیکی پڑ جانے سے پریس گیلری کی بھی ایوان میں دلچسپی کم ہوگئی اور صرف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی وطن واپسی کا اعلان ہی زیر بحث رہاکہ نئے سال سے ایک دن پہلے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کا خون گرم کرکے علامہ طاہرالقادری کے ہاتھ میں ایجنڈا تھما کر ان کے پیچھے چلنے کی ہدایت کردی ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ حالات کوئی کروٹ لینے والے ہیں لیکن الطاف حسین آنے والے نہیں جس طرح شوکت بسرا ایون سے چلے گئے ہیں اور اب اگلے سیشن تل نظر نہیں آئیں گے ۔ یہ بات زیربحث رہی کہ شوکت بسراءتو ایوان میں نئے اور پرانے سال کا موازنہ کرنے کیلئے ایوان میں گئے تھے پھر انہیں اس پر بات کرنا کیوں یاد نہ رہا اور اچانک بلاول بھٹو کی تین دن پہلے والی تقریت کیوں یاد آگئی تو ایک صحافی نے برجستہ فقرہ چست کیا کہ اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے وہ الفاظ جمع کر رہے تھے جو سردی میں جسم کی بالائی منزل پر جم گئے اور جب نئے سال کی تقریبات کا گم ماحول یاد تو منجمد بلاول نکات پگھل کرنیچے آگئے جبکہ کل بننے والا سال اور آج بننے والے نئے سال کی بات پھسل گئی ۔ یہ صرف شوکت

 بسراءہی نہیں پوری اسمبلی کا پونے پانچ سال کا ریکارڈ ہے کہ وقت پر قانون بنانے سمیت کچھ یاد رکھنا ضروریہ خیال نہیں کیا جاتا اور اپنے ہی اقدامات اپوزیشن میںآنے کے بعد انتقامی کارروائی اور طعنہ لگتے ہیں حالانکہ اصل بات برقوت اصل کام کے بجائے پٹواری ، تھانیدار او مالی کی حد تک کے’ بڑے بڑے‘ مسائل حل کرنے ر ہی رہتی ہے جو بھلادیتی ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں بلدیاتی اسمبلی اور پنچائت کے رکن نہیں ۔

مزید : لاہور