23دانٹرنیشنل کیمل کانفرنس بہاولپور

23دانٹرنیشنل کیمل کانفرنس بہاولپور
23دانٹرنیشنل کیمل کانفرنس بہاولپور

  

سمبر2013ء کو ڈان، لاہور کے صفحہ اول پر ایک اجنبی سی اور غیر روائتی سی تصویر دیکھ کر ازحد مسرت ہوئی۔کیا دیکھتے ہیں کہ سجے سجائے زرق برق لباسوں میں ملبوس تین اونٹ ہیں، جن پر دو حضرات اور ایک خاتون سوار ہیں۔تصویر کے نیچے کیپشن (Caption)پر نظر پڑی تو لکھا تھا: ”وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمن انٹرنیشنل کیمل کانفرنس کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لا رہے ہیں“۔

مہمانِ خصوصی سوٹڈ بوٹڈ تھے اور اونٹ پر سوار تھے اور ان کے ساتھ جو دوسرے صاحب دوسرے اونٹ پر سوار تھے وہ بھی سوٹڈ بوٹڈ تھے....یہ ”سوٹڈبوٹڈ“ والا لفظ میں نے استعارةً استعمال کیا ہے،کیونکہ لغوی اعتبار سے انہوں نے سوٹ نہیں، بلکہ کمبی نیشن (Combination) زیب تن کر رکھا تھا۔یعنی کوٹوں اور پتلونوں کے رنگ اور ڈیزائن یکساں نہیں تھے۔پنڈلیوں پر برجس چڑھی ہوئی تھیں اور پاﺅں شائد رکاب میں تھے۔

تیسرے اونٹ پر جو خاتون سوار تھیں، ان کا پہناوا بھی ان کے خوبصورت چہرے پر خوبصورت حجاب میں لپٹا ہوا تھا۔ان کے دونوں ہاتھ کجاوے پر دھرے تھے اور ساتھ ساتھ زمین پر دو ساربان بھی چل رہے تھے جن کا لباس کیمل جیکی (Camel Jackies) کی طرز کا تھا۔میں نے سوچا کہ وزیر تعلیم کو اگر اونٹ پر سوار ہونا ہی تھا تو ڈیزرٹ رینجرز کے کسی فوجی سے ساربانی یونیفارم لے کر کجاوے پر تشریف فرما ہوتے اور تصویر بنواتے تو اس کی اپیل زیادہ عوامی اور زیادہ سیاسی ہوجاتی۔

اونٹ کی سواری، سواری کے دوسرے جانوروں کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ایامِ جوانی میں ہم نے بھی دوچار بار کوشش کی کہ سنبھل کر بیٹھیں۔ اونٹ اگرچہ سدھائے ہوئے اور نہائت شریف (Urbane)قسم کے ہوتے تھے اور فورٹ عباس کے آس پاس کا علاقہ ویسے بھی صحرائی ہوتا تھا لیکن دوچار کوس کی مسافت کے بعد سارا بدن دُکھنے لگتا تھا، لہٰذا اس شوقِ فضول کو ترک کرنا پڑا۔

پہلی بار جب ہم نے اونٹ پر سواری کی تھی تو اثنائے سفر میں ”محمل“ بہت یاد آیا تھا۔ہم لیلائے قیس کی ثابت قدمی پر حیران ہوئے تھے کہ وہ اتنے طول طویل صحرائی سفروں کےتھپیڑوں اور ریت کے بگولوں کو کس طرح جھیلتی تھیں اور پھر قیس کی حالت زار پر ترس آتا تھا کہ وہ بار بار سارباں کو آہستہ ڈرائیونگ کی درخواست کیسے کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا:

اے سارباں آہستہ راں آرامِ جانم می رود

یک دل کہ باخود دا شتم، بادلستانم می رود

ہم یہ بھی سوچا کرتے تھے کہ آرامِ جاں اور دلستاں قسم کے لوگوں کو ایک ایسے جانور پر بٹھانا کتنا بڑا ظلم ہے کہ جس کے بارے میں نجانے کس اخلاق باختہ ہندوستانی ستم ظریف نے یہ محاورہ وضع کردیا تھا.... اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔

تفتن برطرف بہاولپور یا سندھ کے کسی بڑے شہر میں یہ انٹرنیشنل کیمل کانفرنس ہر سال منعقد ہونی چاہیے۔اس کی دفاعی ضروریات پر تو ہم انشاءاللہ کسی اگلے کالم میں تبصرہ کریں گے، ان سطور میں قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جن ممالک نے اس کافنرنس میں اپنے وفود بھیجے ان میں صرف ایک یورپی ملک (جرمنی) شامل تھا حالانکہ دوسرے کئی یورپی ،امریکی اور آسٹریلوی ممالک اور ریاستوں کو بھی اس کانفرنس میں بلوانا چاہیے تھا۔شائد ان کو دعوت نامے جاری کئے گئے ہوں گے اور انہوں نے شائد اظہار معذوری (Regret) کردیا ہوگا لیکن اگر کوشش کا لیول بڑھایا جاتا تو یہ واقعی ایک عظیم الشان کانفرنس ہو سکتی تھی۔

جرمنی کے علاوہ جن دوسرے ایشیائی اور افریقی ممالک نے کانفرنس میں شرکت کی ان میں ایران، ملیشیائ، سعودی عرب، سوڈان، کینیا اور نائیجریا شامل تھے۔اس کانفرنس کا اہم ترین اور خوش آئندہ ترین پہلو یہ تھا کہ اس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ بہاولپور میں ایک ”کیمل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ“ قائم کیا جائے اور چولستان کے باسیوں کو اس میں نمائندگی دے کر اونٹوں کی افزائش نسل کا اہتمام کیا جائے۔دنیا کے دوسرے ممالک (خاص طورپر ترقی یافتہ ممالک ) میں ایک سے زیادہ کیمل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں اور وہاں اس سلسلے میں بڑا کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔ان سے رابطہ کرکے اس مجوزہ ادارے کی ترویج و ترقی کے امکانات کے لئے بہت کچھ سوچا اور کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے،جس کو خدا نے ہر قسم کی آب و ہوا اور ارضی خوبیوں سے نواز رکھا ہے، جن میں صحرا بھی شامل ہیں ۔چولستان اور تھرپار کر پنجاب اور سندھ کے دو ایسے اثاثے ہیں، جن کی قدروقیمت اور اہمیت کا کماحقہ ادراک ہم نے نہیں کیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان اداروں کے قیام اور ان کی برقراری (Maintenace)کے لئے جو فنڈ درکار ہیں ان کا بندوبست اولین شرط ہے۔بلیغ الرحمن صاحب اگر اس پہلو پر کچھ مزید توجہ دے سکیں تو یہ ایک وسیع فیلڈ ہے۔دنیا کے دوسرے انٹرنیشنل کیمل انسٹی ٹیوٹوں اور بریڈنگ کے مراکز سے رابطہ کرکے اس پراجیکٹ کو بہت آگے لے جایا جا سکتا ہے۔رینجرز ایک صوبائی عسکری تنظیم ہے۔ان کا بجٹ متعلقہ صوبوں سے آتا ہے۔چنانچہ صوبائی وزیر خزانہ (یاسیکرٹری خزانہ) کو بھی اس قسم کی کانفرنسوں میں بلانا چاہیے۔فنڈز کی فراہمی میں ان کا کردار کلیدی نوعیت کاہوتا ہے۔اونٹ کی دفاعی اہمیت تو کسی تعارف کی محتاج نہیں اور سمگلنگ کی روک تھام میں ڈیزرٹ رینجرز کا جو حصہ ہے اس پر دورائیں نہیں ہو سکتیں۔

اونٹ کے ساتھ ہم مسلمانوں کو ایک مذہبی اور ثقافتی نسبت بھی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ اونٹ کا نام آئے اور ہمارے ذہن میں نجد و حجاز کے صحراﺅں کے نقشے نہ گھوم جائیں۔

علامہ اقبال نے اونٹ کا ذکر اپنی شاعری میں طرح طرح سے کیا ہے۔ذہن پر ان کے کئی اردو اور فارسی اشعار یلغار کررہے ہیں....بانگ درا میں ان کی جو نظم اس شعر سے شروع ہوتی ہے:

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا

تواس میں آگے چل کر وہ صحرائے عرب کا ذکر جس عقیدت اور محبت سے لبریز لہجے کے ساتھ کرتے ہیں اس میں دیکھئے اونٹ کا تذکرہ کس انداز سے کیا ہے!

تمدن آفریں، خلّاقِ آئینِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارا

صحرائے عرب ،شتر بانوں کا گہوارا، تمدن آفریں اور سارے جہان پر حکومت کرنے کے آئین و آداب سکھانے والے خطہ ءپاک کا ذکر جس حسرت سے کیا گیا ہے وہ اہلِِ ذوق کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہوگا۔یہی حسرت اور یہی شوق ان کے اس شعر سے بھی اچھل اچھل کر باہر آ رہا ہے:

ریت کے ٹیلے پہ وہ آہوکا بے پروا خرام

وہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگِ میل

بانگِ درا کے ظریفانہ حصے میں ان کے چار اشعار ایسے بھی ہیں جن میں سے آخری شعر کی کوکھ سے اقبال کا دو قومی نظریہ صاف جھلکتا محسوس ہوتا ہے:

کہنے لگے کہ اونٹ ہے بھدا سا جانور

اچھی ہے گائے رکھتی ہے کیا نوکدار سینگ

اور فارسی شاعری میں تو اقبال نے اونٹ کے استعارے کو جس جس انداز سے استعمال کیا ہے وہ حد درجہ قابلِ ستائش ہے۔مثلاً ان کا یہ شعر تو زبان زدِ خاص و عام ہو چکا ہے:

نغمہ کجا دمن کجا سازِ سخن بہانہ ایست

سوئے قطار می کشم ناقہ ءبے زمام را

(ترجمہ: کہاں میں اورکہاں شعرو نغمہ ؟ یہ شاعری اور گیت سنگیت تومحض ایک بہانہ ہے۔ میں اس بے مہار اونٹ کو کہ جو قطار سے الگ ہو چکا ہے ہانک کر دوبارہ قطار میں لانا چاہتا ہوں)

مسلم قوم کو بے مہار سانڈنی (اونٹنی) سے تشبیہ دی گئی ہے۔سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیانغمہ و ساز کی وجہ سے کوئی اونٹنی، دوبارہ قطار میں واپس لائی جا سکتی ہے؟....

اس کے پیچھے جو بلیغ تلمیح ہے وہ بھی عرب ثقافت ہی سے منسلک ہے۔ صحراﺅں میں جب اونٹوں کے قافلے تھک کر بیٹھنے یا بھٹکنے کے قریب ہوتے ہیں تو عرب ساربان، عربی میں جو نغمات گا کر اونٹوں کو قطار میں منظم رکھتے اور تھکنے نہیں دیتے۔ان کو ”حدی“ کہا جاتا ہے۔ عرب حدی خوانوں کا اپنا تاریخی مقام ہے لیکن اقبال نے اپنی ایک نظم میں اس ”حدی“ کو جس طرح نظم کیا ہے اس میں شاعری اورنغمگی کا کمال ِ فن دیکھا جا سکتا ہے۔یہ نظم جس کا عنوان ”حدی.... نغمہ ءساربانِ حجاز“ ہے، ”پیامِ مشرق“ میں دیکھی جا سکتی ہے۔سات آٹھ بندوں (Stanzas)پر مشتمل اس حدی کا آہنگ، اس کا صوتی تاثر اور اس میں تکرارِ اوزانِ قوافی اتنی پُرسوز اور مترنم ہے کہ معلوم ہوتاہے آپ اونٹ کی مہار پکڑ کر صحرا میں جادہ پیما ہیں اور آپ کا اونٹ تھک گیا ہے تو آپ اس کی مہار چھوڑ دیتے ہیں اور حدی گانا شروع کرتے ہیں تو اونٹ خود بخود آپ کے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے!

آدھا ایران، صحرا ہے۔سیستان اور ایرانی بلوچستان میں اونٹوں کے قافلے آج بھی رواں دواں رہتے ہیں۔بہاولپور کی اس انٹرنیشنل کانفرنس میں ایران کا جو وفد آیا تھا، اس نے لامحالہ اقبال کی یہ نظم پڑھی ہوگی اور عین ممکن ہے ان کے ساربانوں کے ہاں مقبول عام بھی ہو....نظم کا پہلا بند دیکھئے:

ناقہءسیّارِ من

آسوئے تاتارِ من

درہم و دینارِ من

اندک و بسیارِ من

دولتِ بیدارِ من

تیز ترک گام زن ،منزل، دورنیست

اقبال نے کئی جگہ اونٹوں کا یہ استعارہ عرب اقوام کے لئے بطور تازیانہ بھی استعمال کیا ہے اور ان کو ان کا شاندار ماضی یاد دلایا ہے کہ وہ کیا تھے اور کیا ہوگئے ہیں۔

”پس چہ بائد کرد اے اقوامِ شرق“ میں ان کی ایک نظم ”حرفے چند با امّتِ عربیہ“ کے عنوان سے موجود ہے۔اس کے ایک شعر میں کہتے ہیں : ”اپنی طبیعت اور اپنے مزاج کو بادِ کہستانی سے تیز کرو اور اس کے بعد اپنے اونٹ کو افرنگیوں کے خلاف میدانِ کارزار میں اتار دو“.... شعر یہ ہے:

طبع از بادِ بیاباں کردہ تیز

ناقہ را سر دہ بمیدانِ ستیز

مولانا روم کی ایک حکائت بھی یاد آ رہی ہے جو (شائد) ثنوی کے دختر چہارم میں ہے۔

حکائت اس طرح ہے کہ ایک روز ایک ”کُھرلی“ پر اونٹ اور گدھا اکٹھے ہو گئے۔

اُشترے را دید روزے استرے

وانکہ آناں جمع شد در آخرے

گدھے نے اونٹ سے شکوہ کیا: ”میرا مالک، مجھے دن رات دشوار گزار راستوں پر لے جاتا ہے، میری پیٹھ پر بہت سا سامان لادتا ہے اور اگر میں کہیں آہستہ چلنا شروع کردوں تو پیٹھ پر اتنے ڈنڈے برساتا ہے کہ کمر زخم زخم ہو جاتی ہے اور دوسری طرف تم ہو کہ بڑی شان سے چلتے ہو، آہستہ خرام ہو، مالک تم کوکبھی ڈنڈا نہیں مارتا، یہ بتاﺅ کہ اس کی کیا وجہ کیا ہے ؟“

اونٹ اس کا جو جواب دیتا ہے وہ اس حکائت کا مارل ہے۔اونٹ کہتا ہے:

سربلندم من، دو چشمِ من بلند

بینشِ عالی، امان ست از گزند

(ترجمہ: دیکھو میں سر اٹھا کر چلتا ہوں اور اپنی دونوں آنکھوں کو بلند رکھتا ہوں۔یہی بلند نگاہی ہے جو مجھے ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھتی ہے!)

انٹرنیشنل کیمل کانفرنس کے انعقاد کے سار بانوں کو بھی بلند نگاہی کا شعار اپنانا چاہیے اور یہ شعر پوری پاکستانی قوم کے لئے بھی ایک استعارہ ہے....

دوستوں اور سجنوں کی ڈاچی بادامی رنگ کی ہو یا سفید فام ہو، اس کی بریڈ (Breed) سربلند ہونی چاہیے۔

مزید : کالم