تقاریر کے جادو سے کام نہیں چلے گا

تقاریر کے جادو سے کام نہیں چلے گا
 تقاریر کے جادو سے کام نہیں چلے گا

  

پاکستان میں عوام کی بھاری اکثریت کئی لحاظ سے ذ ہنی انتشار کا شکار ہے، انہیں مختلف وسوسوں نے گھیرا ہوا ہے۔ عام لوگوں کو اپنے دن اور رات گزارنا مشکل نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ ان کے گھر کا چولہا آج جلے گا بھی یا نہیں۔ چولہا جلنے کی فکر دیگر تمام فکروں پر حاوی ہوتی ہے۔ چولہا جلنے کی فکر انہیں ہی ہوتی ہے ،جن کے پیٹ خالی ہوتے ہیں۔ جن کے پاس دوسرے وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہوتا۔ عوام کی ایسی اکثریت کے لئے ملک کو درپیش دیگر مسائل سے اگر دلچسپی ہوتی بھی ہے تو وہ ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کی معیشت، ملک کو درپیش دہشت گردی، ملک کی سالمیت کے خلاف سازشیں، ملک کے حکمران طبقے کے درمیان چپقلش اور اقتدار حاصل کرنے کی رسہ کشی، یہ سارے ایسے معاملات ہیں جو اندرونی خلفشار کرتے ہیں۔عام لوگوں کو ذ ہنی طور پر ریگستان میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں ،اگر انسان سمت کھو بیٹھے تو راستہ ڈھونڈتا ہی رہ جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ سب کچھ جانتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے خول سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں۔

کل ہی کی بات ہے ، پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی پہلی مسلمان خاتون اور صوبہ سندھ میں بر سراقتدار پاکستان پیپلز پار ٹی کی سابق سربراہ بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی ان کے آبائی گاﺅں نوڈیروکے قبرستان گڑھی خدا بخش میں منائی گئی ۔ وہ گڑھی خدا بخش کے اسی قبرستان میں دفن ہیں، جہاں ان کے والد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو ، ان کی والدہ نصرت بھٹواور دو بھائی میر مرتضی بھٹو اور میر شاہ نواز بھٹو بھی دفن ہیں۔ بھٹو خاندان کے اس قبرستان کے ساتھ ایک احاطے میں ایک بڑا میدان ہے، جہاں ان کی یاد میں جلسہ تھا ،جس میں ان کے شوہر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، اور ان کے اکلوتے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اپنی دونوں بہنوں کے ہمراہ موجود تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے چیئر مین بھی ہیں ۔

اپنی والدہ اور اپنی پارٹی کی سابق سربراہ کی برسی کے موقع پر سخت حفاظتی حصار میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر انتہائی سخت الفاظ پر مبنی ایسی تقریر کی ،جسے لوگ جوشیلی، جذباتی اور جارحانہ تقریر قرار دیتے ہیں ،لیکن جو ان کے سیاسی مخالفین کے لئے کسی طور پر قابل قبول یا قابل برداشت نہیں تھی۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر میں سیاسی مخالفین پر تنقید، آئندہ انتخابات میں اپنے سمیت اپنی دونوں بہنوں کے حصہ لینے کا اعلان، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ذکر، طالبان سے مذاکرات کی شرائط وغیرہ ایسے موضوعات تھے، جن کا انہوں نے کھل کر ذکر کیا، لیکن ان کی تقریر میں جس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے، وہ کسی طرح بھی پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو اس لئے زیب نہیں دیتے کہ تعلقات کے لئے کوئی نہ کوئی دروازہ ضرور کھلا رکھنا چاہئے۔ میاں نواز شریف، عمران خان، مذہبی جماعتیں، غرض سب ہی ان کے نشانے پر تھے۔ بلا، بزدل خان ، دجال، ملا، وغیرہ و ہ القابات ہیں جو سابق صدر آصف زرداری اور ان کے صاحبزاے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقا ریر میں پاکستانی سیاست دانوں کو دئے۔

سیاسی مبصرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ بلاول کی گزشتہ برسی کی تقریر اور اس برسی کی تقریر ان کے والدا ٓصف علی زرداری کی زبان تھی۔ رہی سہی کسر ان کے والد نے پوری کردی۔ آصف علی زرداری نے ان لوگوں کو بلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دان لڑتے رہ جاتے ہیں اور بلا آکر دودھ پی جاتا ہے۔ وہ کھل کر جنرلوں کے خلاف بول رہے تھے۔ یہ و ہی زبان تھی جو بھٹو مرحوم بھی اختیار کیا کرتے تھے۔ ”دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مسئلہ دھرنوں اور لانگ مارچوں سے ختم ہونے والا مسئلہ نہیں، ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے“۔جہاں طالبان سے ہتھیار پھینکنے، دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں کا خون بہا دینے اور میثاق مدینہ کی طرح اقلیتوں کی عزت اور احترام کرنے کی شرائط رکھیں اور مذاکرات کی دعوت دی ،وہیں کہا کہ پاکستان تم جیسے جانوروں کا جنگل نہیں ہے۔ حکمران مسلم لیگ( ن) کی طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور طالبان کا نظریاتی خالق ضیاءالحق تھا۔عمران خان پر حملہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مسئلہ دھرنوں اور لانگ مارچوں سے ختم ہونے والا مسئلہ نہیں، ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ یہ بچوں کا کرکٹ کا کھیل نہیں، جو بلے گھمانے سے سے حل کر لیا جائے اور چار لوٹوں میں پانی ڈال کر سونامی نہیں لایا جا سکتا، جیسے سخت جملوں کا استعمال کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے شعوری طور پر پیپلز پارٹی کے انقلابی رجحان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، جس میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کوکسی جاگیردار، سرمایہ دار، کھلاڑی یا ملا کی جماعت قرارنہیں دیا جاسکتا، بلکہ عوام کی جماعت ہے۔ نا معلوم وہ کون سی پیپلز پارٹی کا ذکر کر رہے تھے۔ آج کی پیپلز پارٹی پر تو جاگیر دار، سرمایہ دار کا ہی قبضہ ہے۔ ملک کے بڑے ایوانوں میں اربوں پتی اور کروڑوں پتی لوگ ننگے سر اور ننگے پاﺅں رہنے والے عوام کی نمائندگی کے دعویدار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو یہ احساس تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بدل گئی، اسی لئے تو انہوں نے کہا کہ روایتیں بدلا نہیں کرتیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ پیپلز پارٹی بدل گئی ہے۔سورج مغرب سے نکل سکتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی جیالے کے دل سے نہیں نکل سکتی۔ جیالوں کا ذکر انہوں نے کئی بار کیا، لیکن جیالوں کی معاشی صورت حال بہتر کرنے کے لئے انہوں نے کوئی امکان نہیں کیا۔ جس طرح زمیندار اپنے ہاری اور ملازمین کو روٹی کے ٹکڑے ڈال دیتے ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی کے وزراءاور نمائندے کارکنوں کو چپڑاسیوںاور کلرکوں جیسی معمولی ملازمتیں دے کر خوش کردیتے ہیں ،جبکہ اہم اور قابل ذکر ملازمتیں ان کے اپنے بھائیوں ، بیٹوں، بیٹیوں، بھانجوں ، بھتیجوں کے لئے ہی مخصوص ہوتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت کے نعرے روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ انہوں نے علم، روشنی اور کام کا بھی اضافہ کر دیا اور یہ اعلان بھی کردیا کہ اگلے انتخابات سے قبل بے نظیربھٹو کے تینوں بچے عملی سیاست میں حصہ لیں گے۔ لوگ اسے ہی تو کاپوریٹ سیاست قرار دینے لگے ہیں۔ جیالوں کا کام نعرے لگانا اور دریاں بچھانا ہے اور ان کی نمائندگی سیاسی خانوادے کر یں گے ، اسی لئے انہوں نے پارٹی کارکنوں اور جیالوں میں پائی جانے والی مایوسی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ بلاول بھٹو زرداری کو یہ احساس ہوا یا نہیں کہ اس برسی کے موقع پر گزشتہ سال کے مقابلے میں عام شرکاء اور کارکنوں کی تعداد بہت کم تھی.... لوگوں کی دلچسپی کیوں نہیں رہی؟کارکن ہی کیا، پارٹی کے بڑے بھی غائب تھے۔ مرکزی مجلس عاملہ کے کئی اراکین کی غیر حاضری محسوس بھی کی گئی....لوگ یونہی تو نہیں کہتے کہ پیپلز پارٹی اب پاپا، پتر اور پھوپھی پارٹی ہو گئی ہے۔

یہ سیاست اس تماش گاہ میں ہے، جہاں کے عوام ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، لیکن ان کے رہنما یا ان پر حکمرانی کرنے والے لوگ ارب پتی ہیں۔ جہاں عوام ذہنی انتشار کا شکار ہیں ،مختلف وسوسوں میں گھرے ہوئے ہیں ، غیر یقینی کا شکار ہیں اور مستقبل سے ناآشنا ہیں ۔ سیاست دانوں کی شعوری کوشش ہونی چاہئے کہ اندرونی خلفشار کے ریگستان میں بھٹکتے ہوئے لوگوں کو سمت دکھائیں نا کہ انہیں مزید بھٹکائیں ۔کسی غیر ملکی سیاست دان کا قول ہے کہ ” مَیں آپ سے یہ وعدہ نہیں کرتا کہ آپ کے تمام مسائل حل کر دوں گا ،لیکن ایک وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ مسائل کا مقابلہ آپ تنہا نہیں کر رہے ہوں گے“۔ پاکستان میں تو کوئی بھی سیاست دان یا سیاسی جماعت یہ وعدہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ©© بلاول بھٹو زرداری نے وعدہ کرنے کی بجائے لوگوں سے وعدہ لیا ۔ وعدہ کرو، وعدہ کرو، جب وہ ایسے وعدے لے رہے تھے تو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو یاد آگئے جو لاہور کے ایک جلسہ عام میں لوگوں سے وعدہ لے رہے تھے۔ چراغ حسن حسرت یوں ہی تو نہیں کہتے :

 امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا

مزید : کالم