اخوان المسلمون کے خلاف ریاستی دہشت گردی

اخوان المسلمون کے خلاف ریاستی دہشت گردی
اخوان المسلمون کے خلاف ریاستی دہشت گردی

  

مصری کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد نائب وزیر اعظم حسیم عیسیٰ اور ان کی کابینہ کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر اخوان المسلمون اور اس کی ذیلی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس کی تمام سرگرمیوں اور مظاہروں پر پابندی کا فیصلہ کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں اخوان المسلمون کے تمام حامیوں اور اس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے افراد کو گرفتار کرکے سزا دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن مصری حکومت نے اخوان المسلمون پر الزام لگاتے وقت معمولی درجے کا ثبوت یا شہادت پیش نہیں کی۔ مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے خلاف ”دہشت گردی“ کا مقدمہ چلانے کی پخت و پز اور لائق نفریں سازش کے تانے بانے گزشتہ کئی ہفتوں سے ب±نے جارہے تھے۔محمد مرسی، مصر کے پہلے جمہوری منتخب صدر تھے، جو 52فیصد اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے۔ بہر طور صدر مرسی کو ملک کے اندر روشن خیال سیکولر قوتوں کی پلانٹڈ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مصر کی موجودہ عبوری حکومت نے رواں سال جولائی میں اخوان المسلمون کے رہنما اور عوام کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد سے محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے حامیوں اور فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد لقمہءاجل بن چکے ہیں۔

 یہ ایک حقیقت ہے کہ غیر اخلاقی، غیر آئینی اور غیر قانونی فوجی بغاوت کے خلاف اخوان المسلمون کی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اخوان المسلمون عالم عرب کی وہ واحد جماعت ہے، جس نے ہمیشہ پُر امن جدوجہد ہی کے ذریعے تدریجی تبدیلی کی کاوشوں کو آگے بڑھایا۔ مصری عوام کی 42 سالہ پُرامن جمہوری جدوجہد میں اخوانی قیادت کا کلیدی کردار رہا۔مصر کی فوجی حکومت ،عالمی طاقت، مغربی دنیا اور اسرائیل کی خوشنودی کے حصول کے لئے خالصتاً ایک سیاسی مقدے کو طے شدہ اہداف و عزائم کے تحت ایک نیا روپ دیا جارہا ہے۔مصری فوج کی طرف سے صدر محمد مرسی کے حامیوں کو کچلنے کے بعد ملک غیریقینی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکاہے۔ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ہمارے نزدیک ضروری ہو گیا ہے کہ عالم اسلام کی جمہوری قوتیں متحد ہو کر مصری فوج کے آمرانہ اور مغرب نواز چلن کی مخالفت کریں، ورنہ باری باری سب کو ایسی صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا۔

مصر کے زوال کا دور اس وقت شروع ہوا، جب جمال عبدالناصر نے اقتدار سنبھالا،اس نے اخوان المسلمون کے ارکان کو چن چن کر شہید کیا۔ اس کے بعد انور سادات کا دور آیا، اس نے مزید فحاشی پھیلائی، اس کے بعد ایک لمبے عرصے تک حسنی مبارک برسراقتدار رہا، یہ سارا گروہ لادین طبقے سے تعلق رکھتا تھا،بالآخر حسنی مبارک کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئیں، جس کے نتیجے میں جمہوریت بحال ہوئی اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی سے صدر بنے ۔ انہوں نے آئین میں اسلامی شقیں داخل کرنا شروع کیں تو لادین طبقے سے یہ برداشت نہ ہوا، ان کا جینا دوبھر ہوگیا۔ اس طرح مصر میں دو طبقے ہوگئے ،یعنی اخوان المسلمین اور لادینی طبقہ ۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی، جس کا فائدہ امریکا اور یہودیوں نے اٹھایا۔مصری فوج کے جنرل سیسی نے اقتدار سنبھال لیا، جس کی اصلیت یہ ہے کہ وہ ایک یہودی خاتون کا بیٹا ہے، جس کا نام ملیکہ تیتانی تھا۔

1958ء میں ا±س نے مصر کی شہریت اختیار کی۔اس پر مستزاد یہ کہ اس کا بھائی عوری صباغ اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ہے۔صرف مصری فوج کا جنرل ہی نہیں، بلکہ ا س کا نامزد کردہ صدر بھی مسلمان نہیں ہے۔ صدر عدلی منصورکا تعلق عیسائیوں کے اس فرقے سے ہے،جو یہودیوں کی شاخ ہے۔ جنرل سیسی نے اقتدار میں آتے ہی چار سے پانچ ہزار اخوان قتل، پچیس ہزار زخمی کر دیئے، جن میں بہت سے معذور ہو چکے ہیں، دس ہزار افراد گرفتار کر لئے اور کئی ہزار لاپتہ ہیں۔ ان سب کا گناہ یہ تھا کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور جنرل سیسی یہودی، لہٰذا اس نے نہ صرف 45ہزار علمائے کرام کے مساجد میں داخلے پر پابندی لگائی ، بلکہ مصر کی تیرہ ہزار سے زیادہ مساجد میں جمعے کی نماز روک دی ۔موجودہ فوجی حکومت نے فلسطینیوں کی پہلے سے بھی سخت ناکہ بندی کر دی اور غزہ کو دنیا سے ملانے والا واحد راستہ، جو سرنگوں کی شکل میں تھا، تباہ کر دیا اور فلسطینیوں کی مصر آمدورفت روک دی۔ یہ تو ہے مصر کی فوجی حکومت کی اصلیت۔ پھر بھی نہ جانے کیوں عرب ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ گویا ایک دو ممالک کو چھوڑ کر امریکہ اوراسرائیل نے تمام عربوں کے ذہنوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کا کہناہے کہ امت اس وقت جن مشکلات و مصائب سے دوچار ہے، ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت ہے، پوری امت اس وقت آزمائش سے دوچار ہے۔جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس گیلانی کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مصر کی فوجی حکومت کی طرف سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اپنے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو دہشت گرد قرار دے کر ایک تاریخی حماقت کی ہے، اس مجرمانہ فیصلے کے اس ملک کے مستقبل پر انتہائی منفی اور سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔جماعت الدعوة کے حافظ سعید نے کہا کہ اخوان المسلمون پ±رامن اور منضبط طریقے سے کام کرنے والی ایک اسلامی تنظیم ہے، البتہ حکمران اپنے مغربی اور صہیونی آقاوں کے اشاروں پر اس تنظیم کو جان بوجھ کر تشدد کی طرف دھکیلنا چاہ رہے ہیں تاکہ انہیں تختہ مشق بنانے کا موقعہ ان کے ہاتھ آسکے۔

دینی و سیاسی اکابرین نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر کی صورت حال کا سنجیدہ نوٹس لے اور اس ملک میں برادر ک±شی کے ماحول اور فوجی آمروں کی من مانیوں پر قابو پانے کے لئے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال میں لائے۔مصر کے جمہوریت دوست عوام نے ماضی میں بھی اخوان المسلمون کے جھنڈے تلے اپنے بلند عزائم کا اظہار اپنی بے مثل جد و جہد اور قربانیوں سے کیا ہے ، آج بھی کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ مصری شہیدوں کا لہو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ وہاں رسوائی اور آخری شکست جمہوریت دشمن طاقتوں کے نصیب میں لکھی جاچکی ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔

مزید : کالم