میڈیا ہینڈلنگ اور چیف جسٹس کا پہلا ”ازخود نوٹس“

میڈیا ہینڈلنگ اور چیف جسٹس کا پہلا ”ازخود نوٹس“
میڈیا ہینڈلنگ اور چیف جسٹس کا پہلا ”ازخود نوٹس“

  

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سروس کے آخری روز جس طرح سے سپریم کورٹ کے میڈیا ونگ کی میڈیا ہینڈلنگ سامنے آئی، اس کی مثال کم ملتی ہے۔بہت سے چینل ایک نجی چینل کے اس رپورٹر کی درگت بنانے میں مشغول دکھائی دیتے ہیں، جس نے اپنے چینل کے لئے چیف جسٹس کی کورٹ روم میں ہونے والی تقریب کی کوریج حاصل کرلی۔کسی بھی رپورٹر کے لئے اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے اخبار یا چینل کے لئے کوئی ایسا معرکہ مارلے جو کوئی اور نہ مار سکے۔یہاں معاملہ تو ادارے پر آن پڑتا ہے کہ اس کے وہ لوگ جو میڈیا ہینڈلنگ یا پبلک ریلیشنگ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، ان کا کردار کیا رہا؟یقینا وہ لوگ انتہائی پروفیشنل ہوں گے، جو وہ ایک عرصے سے میڈیا ہینڈلنگ کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن یہ اپنی جگہ پر اہمیت کاحامل ہے کہ چیف جسٹس کے آخری روز کی کوریج تو ظاہر ہے ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار کو چاہیے تھی، پھر میڈیا پروفیشنل اور پی آر پروفیشنل کہاں مات کھا گئے کہ صرف ایک ٹی وی چینل کوریج چلاتا رہا اور باقی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس کوریج کو دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔

آج کے الیکٹرانک میڈیا کے دور میں میڈیا ہینڈلنگ اور تعلقات عامہ ایک آرٹ بن چکا ہے اور یہ ایک باقاعدہ سبجیکٹ ہے،جس کو سب لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں۔دراصل گزشتہ ایک دہائی میں جس طرح سے میڈیا کی مشروم گروتھ ہوئی ہے تو ہر کوئی میڈیا پروفیشنل بنا دکھائی دیتا ہے۔ جس کسی نے دوچار ٹاک شوز بغور دیکھے ہوتے ہیں، وہ بھی میڈیا کو کوئی نہ کوئی لائن دیتا دکھائی دیتا ہے۔ کسی کی ایئرپورٹ پر کسی معروف کالم نگار یا اینکر پرسن سے سرراہے ملاقات ہوگئی ہو تو وہ بھی خود کو میڈیا ایکسپرٹ سمجھنا شروع ہوجاتا ہے، حالانکہ میڈیا کی انڈرسٹینڈنگ ایک ٹیکنیکل کام ہے جو اس فیلڈ سے متعلقہ لوگ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں، جس طرح کوئی ہیلتھ رپورٹر شائد سیاسی پارٹیوں کی سوشیالوجی نہیں سمجھتا،اسی طرح کوئی سیاسی رپورٹر بھی شائد ہیلتھ ایشوز کو اتنا نہ سمجھ سکتاہو،جتنا ایک ہیلتھ رپورٹر سمجھتا ہے، حالانکہ دونوں ایک ہی شعبے، یعنی صحافت میں ہوتے ہیں، لیکن ذمہ داریاں اور دلچسپیاں چونکہ مختلف ہوتی ہیں، لہٰذا ان کی متعلقہ ایشو پر دسترس بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔

بدقسمتی سے بہت سی جگہوں پر میڈیا پروفیشنل اور میڈیا ہینڈلنگ کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ متقاضی ہوتی ہے۔میڈیا سے ڈیل کرنے کے لئے اگر کسی جگہ ایسے ؒلوگ ہوں جو اس فیلڈ میں دس سے پندرہ برس کا تجربہ رکھتے ہوں، وہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا سے متعلق کسی بھی شعبے سے حوں تو وہ بہتر میڈیا ہینڈلنگ کرسکتے ہیں جو اس فیلڈ میں نہ ہوں۔دوسری جانب اخبارات اور میڈیا کا تجربہ رکھنے والوں کے لئے ایک پلس پوائنٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی رپورٹر، صحافی، سب ایڈیٹر، کالم نگار اور اسی طرح کے دیگر صحافتی عہدیداروں کے صحیح صحیح مقام، عزت اور استحقاق سے آگاہ ہوتے ہیں۔یوں وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے کوئی ایسی ”بات“ کرنے سے گریز کرتے ہیں جو خود ان کے لئے مصیبت بن جائے۔اب جس طرح کا ایشو جسٹس افتخار محمد چودھری کی کورٹ روم کی براہ راست کوریج کا ہوا ہے، اس کے بارے میں اگر پہلے سے میڈیا پلان بنایا گیا ہوتا تو سب چینلوں کو نہ صرف پریس ریلیز، تصاویر اور ویڈیو فوٹیج مل جاتی ، بلکہ وہ شوروغوغا بھی نہ ہوتا جو ویڈیو لیک ہونے کی وجہ سے ہوا۔یہ بھی حیران کن امر ہے کہ کس طرح سے پوری کی پوری ڈی وی ہی اِدھر اُدھر ہو گئی اور بہت سے میڈیا رپورٹر پریس ریلیز کے انتظار میں بیٹھے رہے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

متعدد اداروں میں تو میڈیاکی آسامیوں پر ریکروٹمنٹ کرتے ہوئے بھی رولز اور ریگولیشنز کا خےال نہیں رکھا جاتا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جب ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی آسامی پر بھرتی کی تو اس نے اسی قسم کی بے ضابطگی کا مظاہرہ کیا۔اسی طرح سے جو لوگ ڈیپوٹیشن پر یا دیگر ذرائع سے اپنی پروفیشنل اور تعلیمی استعداد سے ہٹ کر کسی شعبے میں کام کررہے ہوتے ہیں، وہ خود بھی پریشانی سے دوچار رہتے ہیں اور اداروں کے لئے بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔کام میں تھہراﺅ اور اعتماد بھی اسی وقت آتا ہے، جب اس شعبے کی مکمل انڈرسٹینڈنگ اور ادراک ہو۔

بہرکیف سپریم کورٹ کے حوالے سے میڈیا کوریج کا جو معاملہ اٹھا ہے، اس پر نئے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ازخود نوٹس لے لیاہے جو ان کا پہلا ازخود نوٹس ہے۔یقینا اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔جسٹس تصدق حسین جیلانی کی ساکھ ایک انتہائی پروفیشنل، سوبر اور انصاف پسند جسٹس کی ہے۔راقم کو 1999ءمیں بطور رپورٹر، لاہور ہائی کورٹ میں ان کی عدالت میں کئی مقدمات کی رپورٹنگ کا موقع میسر رہا ہے۔انشاءاللہ جہاں ان کے دور میں انصاف کا بول بالا ہوگا، وہاں لوگ اس امر کی توقع بھی کریں گے کہ وہ مختلف اداروں کو متعلقہ تعلیم اور تجربے کے لوگوں کو ہی ذمہ دار عہدوں پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کریں گے کہ ”رائٹ پرسن ایٹ دی رائٹ پلیس“ کی پالیسی پر گامزن رہ کر ہی اداروں اور ملک میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

مزید : کالم