افغانستان .... نیٹو انخلا کے بعد؟

افغانستان .... نیٹو انخلا کے بعد؟

امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ نیٹو انخلا کے بعد تین سال کے اندر طالبان افغانستان پر دوبارہ قابض ہو سکتے ہیں، افغانستان ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار ہو جائیگا۔”واشنگٹن پوسٹ“ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کی سولہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے سیکیورٹی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا، تین سال میں طالبان دوبارہ قابض ہو جائیں گے اور نیٹو کی بارہ برس کی محنت رائیگاں جائیگی۔ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی چند ہزار فوج کی موجودگی کے باوجود افغانستان انتشار کا شکار ہو جائیگا۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج 2014ءکے آخر تک واپس جا رہی ہیں، کچھ ملکوں کی فوجیں پہلے ہی واپس جا چکی ہیں ان کی تھوڑی بہت افواج محض نمائندگی کے لئے موجود ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی فی الحال امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے تیار نہیں ان کے خیال میں یہ معاہدہ افغانستان میں نئے صدارتی الیکشن کے بعد ہونا چاہئے۔ ان انتخابات میں ان کے بھائی بھی صدارتی امیدوار ہو سکتے ہیں۔ بہرحال آئندہ صدر جو بھی ہو، معاہدہ ہو یا نہ ہو، یہ طے ہے کہ آئندہ سال کے اختتام تک زیادہ تر امریکی و نیٹو افواج اپنے اپنے ملکوں میں واپس چلی جائیں گی اور کچھ امریکی افواج تربیتی مقاصد کے لئے وہاں رہ جائیں گی، جو فوجیں باقی رہ جائیں گی وہ کسی فوجی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گی لیکن امریکی اخبار نے 16امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ اس لحاظ سے چشم کشا ہے کہ اس میں تین سال کے اندر طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو اس لحاظ سے زیادہ حیران کن نہیں کہ افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والوں کا بھی یہی خیال ہے وہ سمجھتے ہیں کہ کرزئی نہ صرف امریکیوں کی آشیرباد سے اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے بلکہ ان کا اقتدار بھی امریکی افواج کی موجودگی کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ طالبان کو محروم اقتدار کرنے کے بعد حامد کرزئی کو اقتدار میں لا کر امریکہ کی معاونت سے افغانستان کا جو آئین بنایا گیا اس میں ایک صدارتی امیدواردو ٹرم سے زیادہ صدارتی امیدوار نہیں ہو سکتا، حامد کرزئی دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں اور اب وہ اپنے بھائی کو صدر بنانا چاہتے ہیں۔ آخری صدارتی انتخاب بھی متنازعہ ہو گیا تھا اور مخالف امیدواروں نے الیکشن میں بے قاعدگیوں کے الزام لگائے تھے۔ ان کی حکومت پر غیر ممالک سے ملنے والی بھاری امداد خورد برد کرنے کا الزام بھی ہے۔ تاہم یہ سارا موج میلہ اب ختم ہوتا نظر آ رہا ہے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بجا طور پر اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے جانے کے تین سال بعد طالبان برسر اقتدار آ سکتے ہیں اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی ساری محنت ضائع ہو جائیگی۔

اس امر سے تو کسی کو انکار نہیں کہ طالبان افغان معاشرے کے طویل خلفشار سے ابھرے تھے۔ جب افغانستان کی متحارب جنگجو قوتیں آپس میں لڑ بھڑ رہی تھیں اور خانہ جنگی کی سی کیفیت تھی تو طالبان کا ظہور ہوا اور انہوں نے افغانستان میں ایک کے بعد ایک شہر پر قبضہ شروع کیا، قندھار ان کا ہیڈ کوارٹر تھا جہاں سے پیش قدمی کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان کے پورے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ لوگ ملا عمر کے پیروکار تھے، جنہوں نے پس منظر میں رہ کر اقتدار پر گرفت رکھی۔ لیکن دُنیا کو ان طالبان کا اقتدار اور ان کے نظریات ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ چنانچہ دنیا بھر میں کسی نہ کسی بہانے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع ہو گیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود طالبان کو محروم اقتدار نہ کیا جا سکا، طالبان نے مخالفین کو کارنر کر دیا اور شاید افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوپی کی کاشت بند کرا دی اور یوں ہیروئن کی عالمی فیکٹریوں کو خام مال ملنا بند ہو گیا۔ اس طرح کے بہت سے دیگر مثبت اقدامات بھی طالبان کی حکومت نے کئے لیکن اسامہ بن لادن نے افغانستان کو ٹھکانہ بنا لیا تو امریکہ کو تشویش ہوئی اور نائن الیون کے بعد اس نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو ملا عمر نے انکار کر دیا جس پر امریکہ نے نائن الیون کے ایک ماہ بعد افغانستان پر میزائلوں سے حملے شروع کر دئیے۔افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ طالبان کو محروم اقتدار تو کر دیا گیا لیکن انہیں افغانستان سے مستقل دیس نکالا دینا ممکن نہ تھا۔ وہ محروم اقتدار ہوئے تو خاموشی سے معاشرے میں گھل مل گئے اور یوں ان کی تلاش ممکن نہ رہی قوت کے ذریعے بھی ان کو افغانستان سے نکالنا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے دوبارہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنا اور چھوٹی موٹی جنگی کارروائیوں سے اپنے وجود کا ثبوت دینا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ انہوںنے دوبارہ طاقت بھی پکڑ لی اور کرزئی کے حامیوں اور غیر ملکی افواج کو نشانہ بنانا شرو ع کر دیا۔اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ غیر ملکی افواج تو جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں اور افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی، افغانستان کا معاشرہ شدید قسم کے قبائلی اختلافات کا شکار ہے۔ مختلف نسلوں اور قبیلوں کے لوگ افغانستان میں موجود ہیں اور جب تک ان سب کو انصاف کے ساتھ اقتدار میں حصہ دار نہیں بنایا جاتا۔ افغانستان میں امن قائم رکھنا مشکل ہے۔باہمی مناقشات جاری رہیں گے۔ حامد کرزئی طالبان کو وقتاً فوقتاً شریک اقتدار کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ الیکشن لڑیں اور آ کر اقتدار سنبھال لیں لیکن طالبان غیر ملکی افواج کی موجودگی میں کسی قسم کے اقتدار میں شمولیت کے حق میں نہیں۔ ان کا پہلا مطالبہ یہی ہے کہ غیر ملکی افواج واپس جائیں۔

اب غیر ملکی افواج اپنے کسی پروگرام کے تحت واپس جا رہی ہیں یا دباﺅ کے نتیجے میں ایسا کر رہی ہیں بہرحال وہ واپس جا رہی ہیں اور طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں تو افغانستان کے استحکام کا سوال ابھر کر سامنے آتا ہے۔ افغانستان کے حالات کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے افغانستان میں امن و استحکام ہو گا تو پاکستان پر بھی اس کا مثبت اثر ہو گا۔ افغانستان میں بدامنی پاکستان پر منفی اثرات ڈالتی ہے ان حالات میں پاکستان کی حکومت کو افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ان اطلاعات کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ طالبان وہاں برسر اقتدار آ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان کے حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور بارہ سال بعد بھی افغانستان کے کوہسار اسی طرح سربلند ہیں۔ جس طرح امریکی بمباری سے پہلے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکی ایجنسیاں طالبان کی واپسی کی پیش گوئیاں نہ کر رہی ہوتیں۔

مزید : اداریہ