شمالی ،جنوبی لاہور کے گیس صارفین کا سروے کے دوران شدید احتجاج

شمالی ،جنوبی لاہور کے گیس صارفین کا سروے کے دوران شدید احتجاج

لاہور(خبرنگار)گیس کا پریشر صبح 6بجے مکمل طور پر ڈاﺅن ہو جاتا ہے اور جب بچے بھوکے سو جاتے ہیں تو رات 10 بجے کے بعد گیس کا پریشر بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے گیس حکام گیس کی قیمتوں میں ہر چھ ماہ کے بعد اضافہ تو کر دیتے ہیں لیکن گیس کی قلت کو دور کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ہربنس پورہ کی آبادیوں فتح گڑھ، کوٹلی گھاسی، واڑہ ستار کے مکینوں نے ”پاکستان سروے“ میں کیا ہے۔ اس موقع پر فتح گڑھ کے مکین حاجی عبدالستار ، وحید احمد ، حاجی اکرم اور حاجی محمد شفیع سمیت مسز کوثر بی بی ، شہناز بی بی نے کہا کہ گیس کا پریشر صبح 6 بجے مکمل طور پر ڈاﺅن ہو جاتا ہے اوردن بھر چاہے کا کپ تیار کرنے کے لئے بھی گیس نہیں آتی ہے اور رات کو جب بچے بھوکے سو جاتے ہیں تو گیس کا پریشر بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ خاثون کوثر بی بی نے کہا کہ گیس نہ آنے کے باعث ساڑھے سات روپے سے آٹھ سو روپے فی من لکڑیاں خرید کر کھانے تیار کر رہے ہیں، جس سے برتن خراب ہو جاتے ہیں۔ خاتون رضیہ بی بی نے کہا کہ ایک طرف گیس کے بھاری بل دے رہے ہیں تو دوسری طرف مہنگی لکڑیاں اور ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ خاتون سرداراں بی بی نے کہا کہ گیس کمپنی کے حکام سال میں دو مرتبہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ تو کر دیتے ہیں لیکن آج تک انہوں نے سوچا تک نہیں کہ گیس کی قلت کو بھی دور کیا جائے۔ کوٹلی گھاسی کی مکین مسز راکر حسین، ذاکر علی،اور حق نواز سمیت احمد علی اورمسز نواز احمد نے کہا ہے کہ صرف مین آبادیوں میں گیس پریشر آرہا ہے فتح گڑھ اورہربنس پورہ کے مین علاقوںمیں گیس پریشر دن بھر آتارہتا ہے جب اندر کی آبادیوں میں گیس کی مکمل طورپر لوڈشیڈنگ ہے ۔خاتون مسز احمد علی نے بتایا کہ رات دس بجے کے بعد جب گیس کا پریشر بحال ہوتا ہے تواس وقت رات کا کھانا پہلے تیارکرتے ہیں تو بعد صبح کا تاشتہ تیارکرکے سوجاتے ہیں یاپھر صبح ساڑھے چار بجے اٹھ کرناشتہ تیارکرلیتے ہیں اورگیس نہ آنے پر رات بھر کھانے تیار کرنے میں گزار دیتے ہیں جسے نیند تک نصیب نہ ہے۔

مظاہرہ

مزید : صفحہ آخر