اے پی این ایس کا اخباری صنعت کے مسائل کے حل کیلئے اشتہاری مہم جاری کرنیکا فیصلہ

اے پی این ایس کا اخباری صنعت کے مسائل کے حل کیلئے اشتہاری مہم جاری کرنیکا ...

کراچی (پ ر)اے پی این ایس نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت اخباری صنعت کو طویل عرصے سے لاحق مسائل کو حل کر نے میں مسلسل عدم تو جہی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسی لئے اے پی این ایس نے عوامی آگاہی اور مسائل کے جلد حل کے لئے وزیر اعظم کی فوری توجہ حاصل کر نے کے لئے ایک اشتہاری مہم جاری کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل ،مسعود حامدنے مورخہ28 دسمبر2013 کو سوسائٹی کے صدر سر مد علی کی صدارت میں ہونے والے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ملک بھر سے آئے ہو ئے ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے مسائل کو حل کر نے میں وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اخباری صنعت کو درپیش بحران پر غور کیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک خصوصی قراردا دمیں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے اے پی این ایس کی متعدد بار درخواستوں کے باوجود نہ صرف وفاقی حکومت کے ذمہ 2008-2012کے عرصہ کے اشتہارات سے متعلق واجبات ، بلکہ تحلیل شدہ وزارتوں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت اطلاعات کے ذمے واجبات بھی ادا نہیں کئے۔ اے پی این ایس کی متعدد بار توجہ دلانے پر وفاقی وزیر اطلاعات اور وفاقی وزیر خزانہ نے کئی بار یقین دہانیاں کرائیں تاہم، حکومت اپنے وعدوں پرعمل درآمد کر نے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اے پی این ایس نے نوٹ کیا ہے کہ اخبارات کے لئے اشتہارات کے سرکاری نرخوں میں 10فیصد اضافہ اور ریجنل اور میٹرو بی مطبوعات میں اشتہارات کے کوٹہ میں اضافہ کا نوٹیفیکیشن اور نفاذ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ موجودہ اشتہاری پالیسی میں اشتہارات کی مقدارمیں مزید کمی کر دی گئی ہے ، جس سے چھوٹے اور میڈیم سائز مطبوعات ، ریجنل مطبوعات اور علاقائی زبانوں کے اخبارات کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نوٹ کیا کہ رکن مطبوعات میں شائع ہو نے والے اشتہارات کی مد میں اشتہاری ایجنسیوں کو اے جی پی آر کی جانب سے بلوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی اور بے بنیاد اور بے وجہ عذر تراشے جارہے ہیں۔ اشتہاری ایجنسیوں نے اے پی این ایس کو مطلع کیا ہے کہ اے جی پی آر نے سپریم کورٹ کی جانب سے اشتہاری بلوں کی ادائیگی پر حکم امتناعی کو جواز بناتے ہوئے متعدد سرکاری اداروں اور وزارتوں کے واجبات کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے ۔ اے جی پی آر نے اس بات کو ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے کہ سپریم کورٹ نے نہ صرف حکم امتناعی بلکہ اس کیس کو مورخہ8 جولائی 2013کو ختم کر دیا تھا۔ایگزیکٹو کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اے جی پی آر نے ایک غیر معمولی اور قابل اعتراض عمل کے ذریعے اے جی پی آر کی چیک برانچ کو ہدایت کی ہے کہ ، میڈیا گروپ اور اشتہارات سے متعلق تمام بلوں سے متعلق چیک اکاو¿ٹنٹ جنرل کی منظوری کے بغیر جاری نہیں کیئے جائیں۔ اے جی پی آر کے اس عمل سے نہ صرف اخباری صنعت کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ اس سے حکومت۔ پریس کے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نیشنل اکاو¿نٹ ایبلٹی بیورو کی طرف سے سرکاری محکموں اور وزارتوں کو اشتہارات کو محدود کر نے کی ہدایت پر مشتمل جاری کیے گئے سرکولر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے نیب کے دائرہ کار سے تجاوز قرار دیا ہے، جو نوکر شاہی کی جانب سے حکومت پریس تعلقات بگاڑنے کی کوشش ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کی پختہ رائے ہے کہ اے جی پی آر اور نیب کی شکل میں نوکر شاہی دانستہ طورپر حکومت پریس تعلقات کو اپنے مذموم مقاصد کے تحت بگاڑنے کے بھی کوشش کر رہی ہے۔ اے پی این ایس نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ ان قابل مذمت سازشوں کے خلاف فوری اقدام کریں۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ جنوری2014 کے آغاز پر رکن مطبوعات میں ایک اشتہاری مہم کا آغاز کیا جائے گا، جس کے ذریعے اخبارات کی ناگفتہ بہ صورت حال اور مسائل کی طرف رائے عامہ کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ اس مہم کے اختتام پروفاقی حکومت کے اشتہارات معطل کر دیئے جائیں گے، مزید براں رکن اخبارات احتجاجی ہڑتال بھی کریں گے۔تاکہ وفاقی حکومت پر رکن مطبو عات کے مسائل فوری طور پر حل کر انے کے لئے زور دیا جائے ، کیونکہ اس صوتحال سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کو بقاءکا مسئلہ درپیش ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ریجنل مطبوعات کو ضابطے کے تحت 25فیصد کوٹہ حاصل ہو نے کے باوجود بھی اس پر عمل نہ کرتے ہوئے چند مخصوص اخبارات کو اشتہارات جاری کر رہا ہے۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ وفاقی حکومت کے ادارے کسی اضافی ایڈیشن سے بچنے کے لئے پی آئی ڈی نمبرکے بغیر براہ راست اشتہارات جاری کر رہے ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مورخہ31 دسمبر2013 کے بعد 25فیصدکوٹہ یا پی آئی ڈی نمبر کے بغیر جاری ہو نے والے اشتہارات خبارات کے ٹیرف نرخوں کے مطابق شائع کیئے جائیں گے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے ایڈورٹائزنگ کمیٹی کی تجاویز کو منظور کر تے ہوئے میسرز میڈیٹر پرائیوٹ لمیٹڈ کی بحیثیت میسرز پرومیتھیس پرائیوٹ لمیٹڈ کی تشکیل نو کو منظور کر لیا۔ میسرز سوپر میڈیا کمیونیکیشن، اسلام آباد اور میسرز پریلیوڈ ایڈورٹائزنگ، کراچی کی عبوری ایکریڈیٹیشن کی بھی منظوری دے دی گئی۔ میسرز ایکس نائن کمیونیکیشن پرائیوٹ لمیٹڈ کی ایکریڈیشن کی توثیق کی منظوری بھی دی گئی ، جس کا اطلاق مورخہ یکم جنوری 2014 سے ہوگا۔ایگزیکٹو کمیٹی نے ماہنامہ اخبار وطن، کراچی، روزنامہ پاسبان، حیدرآباد اور روزنامہ فوری ایکشن ، فیصل آباد کے پبلشرز کی تبدیلی کی درخواستوں پر غور کیا اور مطبوعات کے پبلشرز کی تبدیلی کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل اراکین نے شرکت کی۔سرمد علی(صدر)، مسعود حامد( سکریٹری جنرل)، وسیم احمد( فنانس سیکرٹری)، ممتاز اے طاہر( روزنامہ آفتاب)، مہتاب خان( روزنامہ اوصاف)، سید فصیح اقبال( روزنامہ بلوچستان ٹائمز)، شہاب زبیری( روزنامہ بزنس ریکارڈر)، ہمایوں طارق( روزنامہ بزنس رپورٹ)، اعجاز الحق( روزنامہ ایکسپریس)، مختار عاقل( روزنامہ جرات ،کراچی)، جاوید مہر شمسی( روزنامہ کلیم)، محمد اسلم قاضی( روزنامہ کاوش ،حیدرآباد)، میاں اکبر علی(روزنامہ خبریں )، عباس عبد الطیف( روزنامہ نوائے وقت)، سلمان قریشی( ماہنامہ نیا رخ)، عمر مجیب شامی( روزنامہ پاکستان، لاہور)، فیصل زاہد ملک (روزنامہ پاکستان آبزرور)، الیاس شاکر( روزنامہ قومی اخبار)، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی( ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ)، خوشنود علی خان( روزنامہ صحافت)، ہمایوں گلزار( روزنامہ سیادت ، بہاولپور)، ریاض احمد منصوری( ہفت روزہ دی کرکٹر) اور پروفیسر ایس بی حسن( ماہنامہ انوسٹمنٹ اینڈ مارکیٹنگ)۔

اے پی این ایس

مزید : صفحہ آخر