دواہم اداروں کے چیفس 2013ءمیں رخصت،جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی

دواہم اداروں کے چیفس 2013ءمیں رخصت،جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جنرل راحیل شریف ...
دواہم اداروں کے چیفس 2013ءمیں رخصت،جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کچھ اچھی اور کچھ بری یادیں چھوڑ کر 2013ءبھی رخصت ہوگیا اور اسی سال ملک کے دو اہم اداروں کے چیف یعنی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفا ق پرویز کیانی ریٹائر ہوئے ہیں اوراُن کی جگہ جسٹس تصدق جیلانی اور جنرل راحیل شریف نے عہدے سنبھالے ۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری 11دسمبر 2013ءکو عہدے سے سبکدوش ہوگئے اوراُن کے جانشین جسٹس تصدق حسین جیلانی نے چیف جسٹس کے فرائض سنبھالے۔ وہ پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے منصف اعظم تھے۔ 9 مارچ 2007ءکواُس وقت کے صدر پاکستان اور فوجی ڈکٹیٹر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت انہیں ان کے عہدے سے معطل کر دیاتھا اور مقدمہ جیت کر وہ بحال ہوگئے لیکن ”ناں “اورپھر بحالی کے بعد افتخار چوہدری نے حکومتی سطح پر ہونے والی بدعنوانیوں، اور دوسری بے قاعدگیوں پر ازخود اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں شہرت پائی۔اُنہوں نے اپنے کیریئرمیں آخری کیس لاپتہ افراد اور ایک قتل کے مقدمے کی اپیل کی سماعت کی ۔افتخار محمد چوہدری کے پیش رو چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی تین نومبر کی ایمرجنسی کے وقت گھربھیجے گئے ججوں میں شامل تھے ۔اُنہوں نے سپریم کورٹ کے ضابطہ کے مطابق سینئرترین جج ہونے کی وجہ سے افتخار محمدچوہدری کے جانے کے بعد 12دسمبر2013ءکو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اُٹھالیا اور عدالت عظمیٰ کی انتظامیہ کی طرف سے فل کورٹ ریفرنس کی فوٹیج مخصوص ٹی وی چینل کو جاری کرنے سے متعلق پہلا ازخود نوٹس لیا۔ تصدق حیسن جیلانی کو سات اگست 1994 میں لاہور ہائی کورٹ کا جج اور 31 جولائی 2004 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی رخصت ہوگئے اوراُن کی جگہ پر جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھالی ۔اشفاق پرویز کیانی 28 نومبر 2008ءکو صدر مشرف کے وردی اتارنے پر چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔مارچ 2009ءمیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے معاملے پر آصف علی زرداری کی قلابازیوں کے باعث وکلا اور اپوزیشن جماعتوں نے لانگ مارچ کیا اس دوران آپ کے پاس اپنے پیشروو¿ں کی طرح " میرے عزیز ہم وطنوں " کہنے کا بہترین موقع تھا لیکن، سیاسی حلقوں کے بقول، آپ نے اس سے اجتناب کیا۔وہ آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔ اُنہوں نے 28نومبر 2013ءدنیا کی بہترین فوج کی قیادت کی کمان جنرل راحیل شریف کے حوالے کی اور اِس کے ساتھ ہی اشفاق پرویز کیانی کا 42سالہ عسکری کیریئربھی ختم ہوگیا ۔ جنرل راحیل شریف 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں نشان حیدر حاصل کرنے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی اور عزیز بھٹی شہید کے بھانجے ہیں ۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں