کالی بلی کو منحوس کیوں سمجھا جاتا ہے؟دلچسپ تاریخ جانئے

کالی بلی کو منحوس کیوں سمجھا جاتا ہے؟دلچسپ تاریخ جانئے
کالی بلی کو منحوس کیوں سمجھا جاتا ہے؟دلچسپ تاریخ جانئے

  

لاہور (نیوز ڈیسک) کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو اسے نحوست اور سخت بدقسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر کیوں؟حقیقت تو یہ ہے کہ بیچاری بلی کا آپ کی قسمت کے ساتھ قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ زمانہ قبل مسیح کے مصر میں تو بلیوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور کسی بلی کو نقصان پہنچانا عظیم گناہ سمجھا جاتا تھا۔

دنیا کی انوکھی خاتون کی شرمناک واپسی ، مردوں کو کتا بنا دیا

زمانہ وسطیٰ کے یورپ میں بلیوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں اور انہیں چڑیلیں اور ڈائنیں قرار دیا جانے لگا۔ سولہویں صدی کی بات ہے کہ مشرقی انگلینڈ کے علاقے لنکن شائر میں اک باپ بیٹا رات کے وقت سفر کررہے تھے۔ انہیں ویران علاقے میں ایک کالی بلی راستہ کاٹتی نظر آئی تو انہوں نے اس پر پتھر برسائے۔ بلی زخمی ہوکر ایک قریبی جھونپڑے میں جاگھسی، اگلی صبح اسی جھونپڑے سے ایک بوڑھی خاتون زخمی اور لنگڑاتی ہوئی نکلی تو یہ بات مشہور ہوگئی کہ وہ ایک ڈائن ہے جو رات کے وقت کالی بلی کا روپ دھار کر گلیوں میں پھرتی ہے۔ اسی طرح دیگر کئی یورپی ممالک اور انگلینڈ میں اکیلی اور بوڑھی عورتیں بلیاں پال لیتی تھیں۔ جب یورپ میں تاریک دور تھا تو ان خواتین کو بڑے پیمانے پر ڈائن قرار دے کرقتل کیا گیا اور یوں ان کی بلیاں بھی عتاب کا نشانہ بن گئیں۔

امریکی شہر سیلم میں تو انسانوں کو ڈائن قرار دے کر مارنے اور جلانے کے اتنے واقعات ہوئے کہ یہ شہر قصوں، کہانیوں، فلموں اور ایک عظیم ناول کا موضوع بن گیا۔ زمانہ وسطیٰ کے مغرب سے پھیلنے والی اس جہالت نے ساری دنیا کا رخ کرلیا اور افسوس کہ مسلمان ہونے کے باوجود ہم میں سے اکثر اس قسم کی بے بنیاد باتوں پر آج بھی یقین رکھتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -