وزارت تجارت نے نئی پالیسی 18-2015کو حتمی شکل دیدی

وزارت تجارت نے نئی پالیسی 18-2015کو حتمی شکل دیدی

 اسلام آباد (اے پی پی) وزارت تجارت نے نئے تزویراتی تجارتی پالیسی ڈھانچہ 2015-18ء کو حتمی شکل دیدی ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد عنقریب اس کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ بات تجارتی پالیسی سازی سے آگاہ ایک سینئر عہدیدار نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتائی۔ عہدیدار کے مطابق وزارت تجارت نے تمام متعلقہ حلقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد نئی تجارتی پالیسی کو آخری شکل دی ہے اور یہ حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے تزویراتی تجارتی پالیسی ڈھانچہ 2015-18ء کے تحت ملک کی برآمدات کو سال 2018ء کے آخر تک 35 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا جبکہ ہر سال برآمدات میں 4 ارب ڈالر کے قریب اضافہ کیا جائے گا۔ پالیسی کے بنیادی خدوخال کو اجاگر کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ پالیسی کے تحت برآمد کنندگان کو مراعات پیش کرنے کے علاوہ مصنوعات کے معیار میں اضافہ کیلئے ٹیکنالوجی کی خریداری کیلئے نرم شرائط پر قرضوں کی فراہمی کی جائے گی تاکہ برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں صنعتی مسابقت کا حامل بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی کے تحت ہم تجارتی سفارت کاری کو بہتر بنائیں گے، پاکستانی برآمد کنندگان اور ان کی مصنوعات کیلئے بیرون ملک نئی منڈیوں کی نشاندہی کے بعد آزادانہ تجارتی معاہدوں اور ترجیحی تجارت سمجھوتوں پر دستخط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے آزادانہ اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور پاکستانی برآمدات کے فروغ کیلئے انہیں بہتر بنایا جائے گا۔ عہدیدار کے مطابق وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، ڈومیسٹک کامرس ونگ اور ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن آرگنائزیشن سمیت اس کے ماتحت اداروں کو برآمدات کے فروغ اور برآمد کنندگان کی سہولت کیلئے مزید مستحکم بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کی معاونت اور برآمدات کے فروغ کیلئے ’’ایگزیم‘‘ بینک پاکستان کی سرگرمیوں کے آغاز سمیت گذشتہ تجارتی پالیسی کے آگے لے کر جانے والے اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

، لوکل ٹیکسز اور لیویز کے ڈرا بیک کا بھی نئی تجارتی پالیسی میں جائزہ لیا جائے گا۔

مزید : کامرس


loading...