کلر کہار جھیل میں 15 ہزار بچہ مچھلی سٹاک کر دیا گیا

کلر کہار جھیل میں 15 ہزار بچہ مچھلی سٹاک کر دیا گیا

لاہور(آن لائن) ڈائریکٹر جنرل ماہی پروری پنجاب ڈاکٹر محمدایوب نے کہا ہے کہ پوٹھوہار ریجن میں واقع سمال ڈیمز اورپرائیویٹ فش فارمرزکو بچہ مچھلی کی فوری فراہمی یقینی بنانے کے لئے کلرکہار میں170ملین روپے کی لاگت سے ہیچری تعمیرکی جارہی ہے جس کا نصف کام مکمل ہوچکا ہے۔ ہیچری کے فعال ہونے سے سالانہ 20لاکھ بچہ مچھلی پیداکی جاسکے گی جس سے پوٹھوہارریجن میں واقع فش فارمرز مستفیدہوسکیں گے۔انہوں نے یہ بات گزشتہ روزکلرکہارجھیل میں قومی مچھلی مہاشیر سمیت مختلف اقسام کی 15ہزار بچہ مچھلی ڈالنے کی تقریب کے بعدمینجمنٹ آف فشریز ان سمال ڈیمز سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، پنجاب یونیورسٹی، ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے آئے ہوئے پروفیسرز اور ریسرچرز کے علاوہ محکمہ کے افسران ،فش فارمرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ڈاکٹر محمد ایوب نے کلر کہار جھیل میں 15 ہزار سے زائد بچہ مچھلی چھوڑ کر اس مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آج کی یہ تقریب سرکاری پیداواری مراکز پر مصنوعی نسل کشی سے حاصل شدہ بچہ مچھلی کی قدرتی پانیوں میں سٹاکنگ پروگرام کے تسلسل کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلرکہار میں نئی ہیچری کے قیا م سے علاقے کے فش فارمز کو بچہ مچھلی کے حصول کے لئے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہیچری کے مکمل فعال ہونے سے نہ صرف علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ مچھلی کے مستقل بنیادوں پر حصول کے لئے ریزروائرفشریز مینجمنٹ پر کام جاری ہے تاکہ فش فارم سے بڑے سائز کی ہی مچھلی نکالی جائے اور چھوٹی مچھلی افزائش کے مراحل سے گذر کربڑی مچھلی کی جگہ لے سکے۔ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا کہ پوٹھوہار مچھلی کے وسائل سے مالامال ہے اور اس علاقے میں 8800ایکڑ رقبہ پر 55سمال ڈیم موجودہیں جبکہ 7مزید بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمال ڈیمز کے علاوہ ریجن میں محکمہ تحفظ ارضیات اورایجنسی فاربارانی ایریازڈویلپمنٹ نے 900منی ڈیم تعمیر کئے ہیں اور مچھلی کے 100فارمز ماہی پروری کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 900منی ڈیمز میں 500ڈیم ماہی پروری کے مقاصد کے لئے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں بچہ مچھلی کی مانگ 8ملین تک جاپہنچی ہے ۔انہوں نے کہا کہ فش فارمرز کی استعدادکار بڑھانے کے لئے ان وسائل کی مینجمنٹ کی جارہی ہے جس سے ماہی پروری کے شعبے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ڈی جی ماہی پروری نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری کے تحت انسانی وسائل کی ترقی بذریعہ تحقیق وتربیت اور ایکوا کلچرایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے قیام کے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی پر کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے زیر انتظام ہیجریوں اور نرسریوں سے اعلی معیار کا 9 کروڑ30 لاکھ سے ز ائد فش سیڈ نجی شعبہ میں قائم فش فارموں کو مہیا کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ہر سال دریاؤں،جھیلوں اور دیگر پانیوں میں مربوط پروگرام کے تحت بچہ مچھلی چھوڑتا ہے تاکہ مقامی طور پر پائی جانے والی مچھلیوں کی نسل کو بچایا جا سکے۔مزید براں ڈائریکٹر فشریز ایکسٹنشن افتخار احمد قریشی ،ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل نیچرل ہسٹری میوزیم اسلام آباد ڈاکٹر رفیق، ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز اسلام آباد افتخار احمد نے سیمینار میں مچھلی کے فروغ بارے پریزنٹیشن دی جبکہ سی سی ایف خیبر پختونخوا صدیق خٹک، ڈائریکٹر جنرل فشریز بلوچستان محمد نور، ڈائریکٹر فشریز گلگت بلتستان غلام محی الدین، چےئرمین زوالوجی جی سی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نصرت جہاں، ایرڈ یونیورسٹی راولپنڈی سے پروفیسر ڈاکٹر افسر میاں، ڈین ویٹرنری یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اشرف اور پروفیسر ڈاکٹر مظہر ،ڈی سی او اورڈی پی او چکوال نے سیمینار میں خصوصی طور پر شرکت کی۔

مزید : کامرس


loading...