معرفت تہذیب و تمدن (1)

معرفت تہذیب و تمدن (1)
 معرفت تہذیب و تمدن (1)

  


عربی زبان ثلاثی مجرد کے باب سے ذَھَبَ (چلا گیا) اور مذہب بروزن مفعل یعنی وہ راستہ جس کی جانب چلا جائے اصطلاحی معنی میں مذہب درحقیقت مخصوص عقائد کے مجموعہ کو کہتے ہیں پس اسی سے مشتق تہذیب جس کے معنی رہنے کی جگہ اگر ہم اس کے جغرافیائی معنی لیں تو ایسی جگہ کا رخ کرنا جہاں پانی موجود ہو چنانچہ تہذیب کی مبادیاتی تفہیم یہی ہے اگر ہم ابتدائی زمانے کے انسان کی بات کریں تو وہ ہمیشہ بقاء (survival)کی جنگ لڑتا رہا وہ ہمیشہ ایسے مقامات کی تلاش میں رہتا جہاں پانی کی فراوانی ہوتی تاکہ وہ اْسی پانی کے آس پاس پڑاۂ ڈال لے اور وہ اس لئے کہ پانی انسانی وجود کی بقاء میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے چنانچہ جب کسی دریا یا جھیل کے کنارے انسانوں کا اجتماع پناہ گزین ہو جاتا تو وہ جگہ تہذیب کا مظہر بن جاتی بعد میں جب انسان کا جغرافیائی شعور سے واسطہ پڑا تو تہذیب کے معنی مزید نکھرتے گئے، یعنی بعد میں انسانی بود و باش بھی تہذیب ہی کے دائرے میں شمار ہونے لگی، جبکہ اجتماعی رہن سہن کو تمدن کی اصطلاح سے معروف کردیا گیا پس انسانی اجتماع کی خصلت اور رہن سہن کے لئے تہذیب و تمدن کی اصطلاح مخصوص ہو گئی بعد میں جب انسان مزید انڈسٹریل ترقی کر گیا تو پھر یہ اصطلاح عبرانی زبان سے نکل کر لاطینی زبان کے لفظ کلچر میں سمو گئی، لیکن یہاں پر ایک بات ملحوظ رہے کہ اصطلاح تہذیب و تمدن ہو یا کلچر اس میں جغرافیائی عناصر کا اثر بہرحال موجود رہتا ہے جیسا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کثرت سے لق و دق صحراء اور دشت موجود ہیں اس لئے وہاں کے لوگوں کے مزاج میں سختی، تیوارانہ چہرے،دیو ہیکل قد، لباس ڈھیلے ڈھالے اور حْلیے(getup) غیر مصفا (Stubble) ہوتے ہیں بدوی (عربی) تہذیب (Saracens Civilization) میں علم و دانش کی بجائے رومانیت اور تعیش مزاجی زیادہ تر پائی جاتی ہے شہنشاہِ تشبیہات امراؤ القیس، زہیر اور لبید جیسے رومانیت پسند شاعر اسی بدوی تہذیب کے روشن مظاہر ہیں بدوی تہذیب کو اخلاقیات اور دانش کی روشنی سے منور کرنے کے لئے تحریکِ محمدیہ معروف بہ اسلام نے بہت اہم کردار ادا کیا قرآن نے بدو قوم کی بتدریج اخلاقی و فکری آبیاری کی چنانچہ ارشاد ہے ?و الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمتہ وان کانو من قبل لفی ضلال مبین( سورہ جمعہ آیت2) وہی ہے، جس نے ناخواندہ لوگوں میں اَن ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور اَن کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے (ترجمہ محمد جونا گڑھی)گویا بدوی تہذیب میں زبردست اخلاقی و فکری رفعت صرف اسلام ہی کی بدولت ممکن ہوئی، لیکن وہ جو چند ایک بنیادی جغرافیائی خصائل بدوؤں میں ابتداء ہی سے موجود تھے وہ بعینہ آج بھی موجود ہیں معروف عرب مورخ ابن خلدون ’’المقدمہ ابن خلدون‘‘ میں لکھتے ہیں کہ بدوؤں کے جہل کا یہ عالم تھا کہ ایران فتح کرنے کے بعد سلاطین کے محلات میں گھس کر اعلیٰ ترین ضیافتوں کا اہتمام کرتے ہوئے کافور کی ٹکیاں نمک سمجھ کر شوربہ میں ڈال دیں اور چپاتیوں کو چیتھڑے سمجھ کر پیروں تلے روند دیا قرآن نے ہر لحاظ سے اس قوم کی آبیاری کی اور عرب کے ہاں یہ عادت بھی موجود رہی ہے کہ جب بھی ملتِ ابراہیم کے اخلاقیات پستی کا شکار ہو جاتے تو نبی مبعوث کر دیا جاتا چنانچہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے لے کر یہ سلسلہ معد بن عدنان کی نسل سے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام ہوا۔

دُنیا میں بہت کم تہازیب آمیزیشات سے محفوظ رہیں، چنانچہ انہی میں سے ایک ایران کی تہذیب ہے یونان کے بعد دُنیا میں سب سے زیادہ منطقی رویہ ایرانی تہذیب میں ہی پایا جاتا ہے قبل از اسلام در ایران بہت سے زیرک دانشور اور منطقی و فکری تحاریک موجود رہی ہیں چنانچہ تحریک مزدکیت بھی ایران ہی کی وہ لازوال اشتراکی دانش ہے، جس نے نہ صرف بدو قوم، بلکہ براعظم یورپ کی مختلف اسرائیلی و مسیحی تہازیب پر بھی زبردست اثرات مرتب کئے قرآن میں جب یسئلونک ماذا ینفقون کے احکامات صادر ہوئے تو عدوانِ اسلام چیخ اْٹھے کہ یہ تو خالص مزدکیت ہے جو سلمان فارسی نے ہم پر مسلط کر دی ڈاکٹر محمد اقبال اس کا تذکرہ ’’جاوید نامہ‘‘ میں بہت خوبصورت انداز سے کرتے ہیں:

ایں مساوات ایں مواخات اعجمی است

خوب می دانم کہ سلماں مزدکی است

مزدک ایران کا ایک انتہائی زیرک دانشور تھا جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں انسانی مساوات کی بات کی اْس وقت ایرانی شہنشاہ صباد نے مزدک کے عقائد قبول کرکے پورے خطے میں مزدکیت کا نفاذ کر دیا تھا ایرانی تہذیب کے مابعد الجغرافیائی خدو و خال نہایت خوددارانہ اور جنگجووانہ تھے یہاں کے لوگ بدوؤں کے برعکس تعیش کی بجائے جفاکشی کو ترجیح دیتے اور رومانیت کی بجائے وطن پرستی پر مر مٹتے گویا حب الوطنی ان کے خمیر میں شامل تھی ساتویں اور آٹھویں صدی قبل مسیح میں زرتشت اور حکیم مانی ایرانی تہذیب کے عدیم المثال دانشور و مصلح گزرے ہیں زرتشت کی ڑند اوستا اور حکیم مانی کی شاہ پور نامہ (مذہبی کتب) ایک طویل عرصے تک ایرانی تہذیب و تمدن کے حل و عقد اور عوام پر اپنے گوناگوں اثرات مرتب کرتی رہیں تاوقتیکہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں جنگِ قادسیہ نے ایرانی تہذیب و تمدن کو منہدم کرکے نیم بدوی تہذیب کی داغ بیل ڈال دی۔

بدوی اور ایرانی تہذیب کے علاوہ تیسری سب سے اہم اور برصغیر کی مبادیاتی (Essential) تہذیب سنسکرتی تہذیب ہے جس کا اثر آج بھی پاک و ہند کے تمدن پر صاف نظر آ رہا ہے گوکہ اَموی جنگجو محمد بن قاسم کی سندھ آمد کے بعد بدوی تہذیب نے برصغیر کو دو بڑے نظریاتی مکاتب ہندو مسلم میں منقسم کر دیا سنسکرتی تہذیب دراصل شری راما اور مرلی منوہر (کرشن) کی نصیحت آموز اور حربِ حیات سے ملفوظ تہذیب ہے یہ تہذیب جہاں راما کی محبت و وفاداری سے گندھی ہوئی نظر آتی ہے تو وہاں پانڈو خاندان کے جنگجو بہادر ارجن کی فقید المثل حکمتِ عملی کا نمایاں شاہکار ہے سنسکرتی تہذیب میں فکری و طبقاتی درجہ بندی تو بہرحال موجود رہی ہے، جس نے اس تہذیب کو ایک کراہت آمیز سماجی سطح پر قائم کئے رکھا لیکن اس تہذیب کا نعرہِ آشتی اور خوئے اَمن اسے دنیا کی تمام تہازیب سے ممتاز کرگیا زیادہ تر صلح جو اور وطن پرست خصلت کے حامل سنسکرتی بھگوت گیتا کی روحانی دانش سے سرشار دھرتی ماتہ کے کیول سپتر نہیں، بلکہ رکھوالے بھی ہیں کرم یوگ (امورِ فرائض کی تکمیل کا زمانہ) (بھکتی یوگ (ارادت مسلسل کا زمانہ) اور نشکم کرما (جزا کی خواہش کے بغیر نیکی کرنا)کی مبنی برحکمت تعلیمات نے اہل ِ سنسکرت کو دیگر تہازیب کے حاملین سے ممیز کر دیا گنگا جمنی تہذیب میں دانش یونانی حکمت سے بھی قبل موجود رہی ہے گویا اہلِ سنسکرت کو دنیائے معلوم کی تہازیب میں سب سے اولین مہذب ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس سے آج بھی بہت سے محقق ناشناس ہیں، یعنی جس وقت بدو پانی کے لئے میلوں دور جا کر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے اُس وقت خشکی کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا سرسبز و شاداب باغات اور ثمر رسیدہ اناج سے لہلہا رہا تھا جہاں دریاؤں کا باپ اباسین اور گنگا جمنا اپنے ایامِ عروج پر تھے یہاں کے لوگ نہایت پُرامن اور راست باز تھے ۔( جاری ہے )

مزید : کالم


loading...