محکمہ صحت 9سالوں میں کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہ کر سکا

محکمہ صحت 9سالوں میں کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہ کر سکا

لاہور(جاوید اقبال) محکمہ صحت کے لیے 2015 ناکامیوں کا سال ثابت ہوا ،گزشتہ 9سالوں سے زیر تعمیر میگاپراجیکٹ سمیت کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا ۔سال بھر ینگ ڈاکٹرز ،پی ایم اے ،پیرا میڈیکل سٹاف ،نرسوں ،الائیڈ ہیلتھ ملازمین کے سڑکوں پردھرنوں سے ہسپتالوں کا نظم و نسق مذاق بنا رہا جبکہ ہسپتالوں میں شرح اموات میں 2014کے مقابلے میں 2015میں 25سے 30فیصد اضافہ ہوا ،ڈینگی ،خناق ،گردن توڑ بخار ،نمونیہ اور کالا یرقان اور گیسٹرو جیسے امراض سے درجنوں شہری جاں بحق ہو گئے ۔ضلعی ہسپتالوں کو این جی اوز کے حوالے کرنے کا منصوبہ شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ہو گیا جبکہ محکمہ صحت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی بجائے موت ملتی رہی ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر میں جاری محکمہ صحت کے میگا پرو جیکٹ 2015میں بھی مکمل نہ ہو سکے ۔2014میں کہا گیا تھا کہ محکمہ صحت کے تمام جاری زیر تکمیل پروجیکٹ دسمبر 2015تک مکمل کر لیے جائیں گے مگر ان پر جاری کام 10فیصد سے آگے نہ بڑھ سکا ۔سرجیکل ٹاور میو ہسپتال ستمبر 2015میں 10ویں سال میں داخل ہو گیا مگر مکمل نہ ہو سکا ۔سروسز ہسپتال کے دو ٹاورزریڈیالوجی اورآؤٹ ڈور کی عمارتیں مکمل نہ ہو سکیں جو بلی ٹاؤن میں زیر تعمیر پنجاب ڈینٹل کالج و ہسپتال کی عمارت کا ڈھانچہ مکمل نہ ہو سکا ،لاہورجنرل ہسپتال میں زیر تعمیر عمارتیں بھی انتظامیہ کا منہ چڑھا رہی ہیں ۔کینسر ہسپتال کی تعمیر کا اعلان بھی فائلوں سے باہر نہ نکل سکا، ہسپتالوں میں برن یونٹ کی اپ گریڈیشن بھی مکمل نہ ہو سکی ،ٹیچنگ ہسپتالوں میں امراض قلب کی ایمرجنسی شروع کرنے کا کام بھی ایک خواب ہی رہا ،گائنی وارڈوں میں مفت علاج معالجہ پر بھی مکمل عمل نہ ہو سکا۔ہسپتالوں کی خراب 40سے 47فیصد مشینری ٹھیک نہ کرائی جا سکی ۔گنگا رام ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر وقار نبی باجوہ کا ڈانس پارٹی سیکنڈل ،ایک ماہ سے زائد موضوع بحث رہا جس پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔2015میں سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز سمیت سابق ڈی جی ہیلتھ فیڈرل ڈاکٹر فیاض سمیت 22بہترین ڈاکٹر ریٹائر ہوگئے ۔2015 میں ہسپتال اور محکمہ صحت سیاست کے اکھاڑوں میں تبدیل ہو گئے ایسے ڈاکٹرز ،نرسیں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتالوں کے باعث مریضوں کو سال بھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اگر محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو محکمہ صحت کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہ کر سکا اور نہ ہی مریضوں کے لیے ادویات اور ٹیسٹوں کا مفت اجراء ہو سکا ۔سال بھر ڈینگی ،خناق اور گردن توڑ بخار سے مریضوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہا ،ملک کے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی لاہور کے سابق چیف ایگزیکٹو پروفیسر بلال ذکریا اورایم ایس ڈاکٹر عبیدہ کو نا اہل قرار دے کر عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پروفیسر ندیم حیات ملک کو چیف ایگزیکٹو اور ڈاکٹر سہیل ثقلین کو ایم ایس پی آئی سی لگا یا گیا ۔جو ٹاسک کے مطابق پی آئی سی کو ایک ماڈل ادارہ بنانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے ۔تاہم جناح میڈیکل کالج کو میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ۔سروسز ہسپتال میں ایل پی سکینڈل سامنے آ گیا تاہم محکمہ صحت تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے منصوبوں کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو این جی اوز کے حوالے نہ کر سکا اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلیمان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت 2015میں ناکام نہیں رہا سالہا سال سے ڈاکٹروں اور عملے کے تمام مسائل حل کرائے گئے ان کوترقیاں دی گئیں ،الاونسز اور تنخواہوں میں اضافی کیا گیا ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور حکومت پنجاب کی ہیلتھ پالیسی پر 100فیصد عمل کیا گیا جو منصوبے زیر تعمیر ہیں انہیں اس سال مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...