وزیراعظم وعدے پورے کریں گے،مگر اس سے پہلے؟

وزیراعظم وعدے پورے کریں گے،مگر اس سے پہلے؟

وزیراعظم محمد نواز شریف نے مری میں ایک سو پانچ سالہ عمارت کی بحالی کے بعد اس کا افتتاح کر دیا، یہ عمارت مری کا جنرل پوسٹ آفس ہے جسے اس کی اصل صورت میں تعمیر کر کے بحال کیا گیا ہے،وزیراعظم نے عمارت کے افتتاح کے موقع پر اس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر خطاب بھی کیا جو بے تکلفانہ تھا اور فی البدیہہ طور پر انہوں نے بچپن میں مری آنے کی باتیں بھی بتائیں، خطاب کا انداز تقریر والا نہیں، باتوں والا تھا اور وزیراعظم نے لوگوں سے گفتگو ہی کی۔وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ مری میں گیس کی لوڈشیڈنگ بھی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی وعدے کئے گئے ہیں وہ ان کو پورا کریں گے اگلے ڈھائی سال میں لوڈشیڈنگ بھی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے مری کو ایک بڑا سیاحتی مرکز بنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اربوں روپے کے کام ہو رہے ہیں۔وزیراعظم کا یہ انداز عوام نے پسند کیا اور نعرے لگا کر تحسین بھی کی کہ وزیراعظم نے سیکیورٹی والوں کی فکر مندی کے باوجود سیڑھیوں پر بیٹھ کر عام انداز میں معمولی انتظامات کے تحت خطاب کیا۔ وزیراعظم کے جذبہ اور ان کے انداز کی داد دینا چاہئے جب وہ مری میں گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور اگلے ڈھائی سال میں مُلک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کی بات کر رہے تھے تو مُلک کے مختلف حصوں میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے کہ عوام بہت پریشان ہیں۔اس حوالے سے تنقید مقصود نہیں،البتہ احوال واقعی کا ذکر ضروری ہے کہ ہمارے متعلقہ صحافی بھائیوں کے مطابق بجلی اور گیس کا بحران ضرور ہے، تاہم اس کی شدت کی وجہ ذمہ دار حکام ہیں۔ ان کو ہر آنے والے وقت کے حوالے سے علم ہوتا ہے کہ کس ماہ میں کتنی ضرورت بڑھے گی اور بجلی کے ساتھ گیس کی پیداوار اور تقسیم میں کتنا فرق آئے گا۔ یہ صورت حال تقاضہ کرتی ہے کہ لوڈشیڈنگ نہیں لوڈ مینجمنٹ کی جائے، اور ہر آنے والے مہینے کا تخمینہ لگا کر تقسیم کے نظام کو بہتر اور منصفانہ بنایا جائے یہ نہیں کہ بعض شہر اور علاقے گیس سے محروم اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا شکار ہوں اور بعض شہروں کے وی آئی پی ہر دو سہولتوں سے مستفید ہوں۔وزیراعظم کا مری کو ایک خوبصورت پُرآسائش اور شاندار تفریحی مقام بنانے کے لئے ارادے کا اظہار بھی خیر مقدم کے لائق ہے تاہم مُلک بھر کی ضرورت کا بھی انہی کو خیال رکھنا ہے،اس لئے منصوبہ بندی کی طرف توجہ لازم ہے اور بہتر منصوبہ بندی، بلاامتیاز سہولتوں کی بہم رسانی اور پیداوار میں اضافہ بہت ضروری ہے،اسی طرح صرف مری ہی نہیں، نتھیا گلی اور کوہستان کے تفریحی مقامات (ناران+ کاغان وغیرہ) کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔

مزید : اداریہ


loading...