صہیونی حکومت کی غرب اردن میں 55 ہزار نئے گھر تعمیر کا کام شروع

صہیونی حکومت کی غرب اردن میں 55 ہزار نئے گھر تعمیر کا کام شروع

مقبوضہ بیت المقدس (کے پی آئی)اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے درمیان 12 مربع کلومیٹر کے علاقے پر یہودی آباد کاروں کے لیے مزید ہزاروں غیرقانونی مکانات کی تعمیر کی اسکیم پر کام شروع کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت غرب اردن میں 55 ہزار نئے گھر تعمیر کرنا چاہتی ہے جس کے لیے 2014 میں فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم تنظیم Now Peace نے وزارت ہاوسنگ کی اہم دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے چھوٹی کالونیوں کے بجائے دو نئے شہر آباد کرنا چاہتی ہے جن میں 55 ہزار 548 مکانات کی تعمیر کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 8300 مکانات بیت المقدس سے متصل سیکٹر E1 میں تعمیر کیے جائیں گے جس کے نتیجے یں مغربی کنارے دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ جائے گا۔ بیت المقدس قریب 12 کلو میٹر کے علاقے پر ان مکانات کی تعمیر سے غرب اردن کی جغرافیائی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام میں ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔انسانی حقوق کی تنظیم نا پیس کا کہنا ہے کہ معالیہ ادومیم کے E1 سیکٹر میں یہودی آبادکاروں کے لیے گھروں کی تعمیر سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ ایک حساس علاقہ ہے۔ اگر اسرائیل اس علاقے میں مزید تعمیرات کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت جب بھی اس علاقے میں تعمیرات کے کسی منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔

عالمی دباو کے باعث صہیونی ریاست کو پسپا ہونا پڑا ہے مگر اب کی بار اسرائیل نے اس منصوبے پر خفیہ طور پر کام شروع کرنے کی اپنائی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی نئی کالونیوں میں سے بیشتر 2004 میں تعمیر کی گئی دیوار فاصل کی مشرقی سمت میں ہوں گی۔ یہ ایک الگ تھلگ یہودی بلاک ہوگا۔ 2014 میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ناکام ہونے والے مذاکرات میں جن یہودی کالونیوں کے بدلے میں اراضی کے تبادلے کی بات کی گئی تھی نیا بلاک اس میں شامل نہیں ہو گا۔

مزید : عالمی منظر


loading...