مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ کی طرف سے مسرت عالم بٹ پر عائدکالا قانون کالعدم، فوری رہائی کا حکم

مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ کی طرف سے مسرت عالم بٹ پر عائدکالا قانون کالعدم، ...

سرینگر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں ہائی کورٹ نے سینئر حریت رہنماء اور مسلم لیگ جموں وکشمیر کے سربراہ مسرت عالم بٹ پر عائد کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی فوری رہائی کا حکم جاری کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ جو گزشتہ آٹھ ماہ سے جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں نظربندہیں کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت کی سماعت ہائی کورٹ کے جج جسٹس مظفر حسین عطار کی عدالت میں ہوئی۔ مسرت عالم بٹ کی طرف سے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم نے پیروی کرتے ہوئے اپنے موکل کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے ان پر عائد کالے قانون کو غیر قانونی قرار دیا جبکہ سرکاری وکیل کے پاس عذرات نہ ہونے کی وجہ سے جج موصوف نے مسرت عالم بٹ پر عائد پی ایس اے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کٹھ پتلی انتظامیہ کو انکی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے ۔ سینئر حریت رہنماء کے خلاف یکم ستمبر کو کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا تھا ۔بعدازاں انتظامیہ نے انکی نظربندی میںیکم دسمبر سے مذید تین ماہ کا اضافہ کردیا تھا۔ مسرت عالم بٹ کی غیر قانونی نظربندی کے دوران ہی یہ دونوں احکامات جاری کئے گئے ۔

میاں قیوم نے کہاکہ انتظامیہ نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے نظربندی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے ان احکامات کہ مسرت عالم بٹ کے خلاف کالاقانون غیر منصفانہ طورپر لاگو کیاگیا ہے کے باوجودانکی نظربندی کے یہ احکاما ت جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ احتیاط کے طورپر نظربندرکھنا نہ صرف غیر جمہوری اور قانون کی بالادستی کے خلاف ہے بلکہ مجرموں کیلئے قانون کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی جس میں کہاگیا ہے کہ جب تک کسی بھی شخص کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا اسے بے گناہ سمجھا جانا چاہیے ۔ سینئر حریت رہنماء جنہیں رواں سال سات مارچ کو 53ماہ کی غیر قانونی نظربندی کے بعد رہاکیاگیا تھا کو کٹھ پتلی انتظامیہ نے17اپریل کو دوبارہ گرفتار کر کے انکے خلاف کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا تھا ۔ادھر مسلم لیگ کے ترجمان محمد رفیق گنائی نے ایک بیان میں کہاہے کہ مسرت عالم بٹ پر گزشتہ 25برس کے دوران 70سے زائدمرتبہ کالاقانون پی ایس اے لاگو کیا گیا اور اس دوران انہوں نے 15برس سے زائد عرصہ غیر قانونی طورپر جیل میں گزاراہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...