امریکہ، اراکین کانگریس، اسرائیلی حکام اور یہودی راہنماؤں کی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرنیکا انکشاف

امریکہ، اراکین کانگریس، اسرائیلی حکام اور یہودی راہنماؤں کی ٹیلیفونک گفتگو ...

واشنگٹن (آن لائن)امریکی ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قومی سلامتی کونسل کے حاضر سروس اور سابق عہدیدار اراکین کانگریس کے اسرائیلی حکام اور یہودی جماعتوں کے راہنماؤں کے مابین ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرتے رہے ہیں۔امریکی اخبار نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کا خیال ہے کہ ٹیلیفونک گفتگو رواں سال ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے طے پائے سمجھوتے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاھو کے احتجاج کے خلاف مہم کے دوران ریکارڈ کی گئی۔ ٹیلیفونک مکالمے کو ریکارڈ کرنے کے اقدام کو وائٹ ہاؤس میں مفید خیال کیا گیا۔اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی قومی سلامتی ایجنسی نے جاسوسی کی کارروائی کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کے مشیران امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد انہیں کس طرح لیک کرتے رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی رپورٹس نے صدر اوباما کی انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ کانگریس میں ایران سے سمجھوتے کی منظوری روکنے کی اسرائیلی کوششوں کو زیادہ باریک بینی سے دیکھ سکیں۔امریکی حکام کو یہ بھی معلوم ہوا کہ واشنگٹن میں متعین اسرائیلی سفیر رون ڈیرمر نے بتایا کہ انہوں نے امریکا میں یہودی تنظیموں کو اس بات کی تربیت دی تھی کہ امریکی ارکان کانگریس سے بات چیت میں انہیں ایران کے ساتھ سمجھوتے کس طرح دلائل دے کر روکا جا سکتا ہے۔ کانگریس کے ارکان کے ساتھ ساتھ امریکی حکام پر بھی دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل نے یہودی لابی کو استعمال کرنے کی کوشش کی اور انہیں امریکیوں کو قائل کرنے کے لئے دلائل دینے کی تربیت دی گئی۔

دوسری جانب امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ترجمان نے اخباری رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مخصوص مسلمہ قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ نہ ہو ہم کسی بھی غیرملکی انٹیلی جنس کی سرگرمیوں کی نگرانی نہیں کرتے۔ یہ پالیسی عالمی رہ نماؤں اور عام شہریوں سب کے لیے یکساں ہے‘‘۔

خیال رہے کہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ایک سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے انکشاف کیا تھا کہ سیکیورٹی ایجنسی غیرملکی رہ نماؤں کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی جنوری 2014ء4 میں اعترافی بیان کہا تھا کہ ان کا ملک دوست ممالک کے رہ نماؤں کی جاسوسی کو محدود کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ایجنسیاں جن غیرملکی شخصیات کی جاسوسی کرتی رہی ہیں ان میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند، جرمن چانلسر انجیلا میرکل بھی شامل تھیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی بھی جاسوسی کے حامی رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...