علمی مسائل پر اختلاف رائے ، شدت پسندی سے خطرنا ک ہے، ساجد میر

علمی مسائل پر اختلاف رائے ، شدت پسندی سے خطرنا ک ہے، ساجد میر

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے سنجیدہ فورم کو جھگڑالوں علماء نے غیر سنجیدہ بنادیا ہے۔علماء کو معاشرے کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے اور دلیل کی زبان استعمال کرنی چاہیے۔اپنے ایک مذمتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا شیرانی او ر طاہر اشرفی کی لڑائی سے دینی طبقے کی جگ ہنسائی ہوئی۔ان دونوں کو اسلامی نظریاتی کونسل سے باہر نکال دینا چاہیے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ شیرانی اور اشرفی نے کس فقہ کی روشنی میں لڑا ئی کی۔پہلے ہی سیکولر طبقہ علماء کے خلاف ہے اوپر سے علماء کا ایک دوسرے کا گریبان پکڑ نا مخالفین کو تنقید کے مزیدمواقع دینے کے مترادف ہے۔فقہی اختلاف اور مباحث میں اختلاف رائے کوئی بڑی بات نہیں، آئمہ اربعہ کے درمیان بھی اختلاف رائے پایا جاتا تھا تاہم انہوں نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ہمیں دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ علماء کی باہم انتہاپسندی اور عدم برداشت کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔ پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ علمی مسائل پر اختلاف رائے پر شدت پسندی بارود سے زیادہ خطرنا ک ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...