سندھ میں رینجرز کے اختیارات کا نوٹی فکیشن واپس ہونے کا کوئی امکان نہیں

سندھ میں رینجرز کے اختیارات کا نوٹی فکیشن واپس ہونے کا کوئی امکان نہیں

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ملاقاتیں ناشتے پر ہوں یا ظہرانے پر، یہ تو نظر آرہا ہے کہ رینجرز کو اختیارات دینے کا جو نوٹی فکیشن جاری ہوچکا ہے وہ ڈی نوٹی فائی نہیں ہوگا۔ بات چیت جو بھی ہوگی اس سے آگے ہوگی، وزیراعظم نوازشریف نے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کراچی جائیں وہاں سٹیک ہولڈروں سے ملاقات کریں اور سندھ کی شکایات دور کریں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سندھ کے امور میں وفاق کی مداخلت کی جو شکایات ہیں وہ کس حد تک جائز ہیں ؟ کیونکہ وفاقی حکومت کا تو مؤقف یہ ہے کہ وہ سندھ کے امور میں مداخلت نہیں کررہی، جبکہ سندھ حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے اب اگر دونوں حکومتیں اپنے اپنے بیانات پر ہی ڈٹی رہیں تو مقام اتصال کہاں آئے گا جس کا آنا بہت ضروری ہے۔ یہ پیش نظر رکھنا ہوگا کہ ملک ایک کل ہے اور صوبہ اس کا جزو ہے، اصول یہ ہے کہ جزو کل پر حاوی نہیں ہوسکتا، بالکل اسی طرح اپنی تمام تر خود مختاری کے باوجود صوبہ، ملک پر حاوی نہیں ہوسکتا، ملک کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے صوبوں کو اکٹھا رکھے، ان کے ہاں اگر امن وامان کا کوئی مسئلہ ہے تو وہ حل کرے، اسے اس ضمن میں اگر کسی امداد کی ضرورت ہے تو اس کی مدد کرے، تو پھر خرابی آخر کہاں ہے ؟ سندھ کی حکومت کہتی ہے کہ اسے رینجرز کو اختیارات دینے پر کوئی اعتراض نہیں، اس معاملے کو سمجھنے کے لئے یہ بات پیش نظر رکھنا ہوگی کہ سندھ میں رینجرز کوئی آج تو نہیں بلائے گئے یہ تو 1989ء سے موجود تھے آپ پوچھ سکتے ہیں کہ رینجرز 23سال میں کیوں ناکام رہی اور اب دوسال میں اسے کامیابیاں کیوں ملیں۔ اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ اس وقت رینجرز کو پولیس کے اختیارات حاصل نہ تھے، جرائم پیشہ لوگوں کو پکڑاجاتا تھا اور انہیں پولیس کے حوالے کردیا جاتا تھا، پولیس تفتیش کرتی تھی ، کچھ ملزم تو تفتیش میں چھوٹ جاتے تھے جن کے خلاف عدالتوں میں چالان پیش کیا جاتا تھا وہ اتنا ناقص ہوتا تھا کہ عدالتیں اس چالان کی بنیاد پر کوئی سزا نہیں دے سکتی تھیں۔ چنانچہ ملزم بری ہوجاتے تھے، بعض مقدمات میں تو عدالتوں نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ ناقص تفتیش کی بنا پر ملزموں کو سزادینا ممکن نہیں، تفتیش میں جو سقم ہوتے تھے وہ رہ جاتے تھے یا رکھے جاتے تھے اس کا تصور آپ خود کرسکتے ہیں۔ رینجرز کو کامیابی اس وقت ہوئی جب اس نے ملزم خود گرفتار کئے، ان سے تفتیش بھی خود کی اور اس تفتیش کے نتیجے میں اگر مزید ملزم گرفتار ہوئے تو ان انکشافات کی روشنی میں گرفتاریوں کا دائرہ وسیع ہوا تو ملزموں کے نیٹ ورک تک رسائی ہوئی۔ تمام کڑیاں مل کر اگر ایسی کرپشن تک پہنچیں جو فروغ دہشت گردی کے لئے استعمال ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں یہ بھی پتہ چلا کہ جو لوگ دہشت گردی کی وارداتیں کررہے تھے وہ محض آلۂ کار تھے ان کے سرپرست کوئی اور تھے اور وہ محفوظ مقامات پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان آلۂ کاروں نے تفتیش کاروں کو یہ بھی بتایا کہ صرف انہیں پکڑنے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ جن لوگوں نے انہیں آلۂ کار بنایا ہوا ہے ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ نئے آلۂ کار بھرتی کرکے اپنا دھندا جاری رکھیں گے۔ اس لیے آلہ کاروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں پر بھی ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔ اب یہ نہ تو وفاقی مداخلت کا سوال بنتا ہے اور نہ صوبے کے حقوق کا معاملہ ہے بلکہ بات یہ ہے دہشت گردی کی وارداتوں کے لئے پیسہ کہاں سے آتا ہے سوال یہ ہے کہ جو پیسہ دیانت داری سے کمایا گیا ہو وہ بھی اگر فروغ دہشت گردی کے لئے استعمال ہوگا تو کیا یہ جرم نہیں، لیکن دہشت گردی کے لئے پیسہ جس طرح پانی کی طرح بہایا جاتا ہے وہ عموماً جائز ذرائع سے حاصل نہیں ہوتا۔ ان سارے معاملات کی کڑیاں باہم اس طرح پیوست ہوگئی ہیں کہ دہشت گردی اور رشوت سے کمائی ہوئی دولت کو الگ الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد جب سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ’’کرپشن ہمارا سبجیکٹ ہے ‘‘ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کرپشن وغیرہ کے معاملات کی تفتیش صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے، اس حدتک بات ٹھیک ہے لیکن اگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ ہماری مرضی ہے کہ جس کرپٹ کو چاہیں پکڑیں اور جسے چاہیں چھوڑ دیں تو پھر یہ بات ’’صوبائی تحفظ‘‘ کی نہیں، ’’صوبائی تعصب‘‘ کی ہوجائے گی۔ رینجرز کا آپریشن اسی وقت نتیجہ خیز ہوا اور وہ اسی وقت ڈلیور کرسکی جب اس نے تفتیش میں ہاتھ ڈالا۔ تفتیش کے لئے دیانتداری بنیادی شرط ہے اگر پولیس کا افسر دیانتدار ہوگا تو اس کی تفتیش کا نتیجہ کچھ اور ہوگا جبکہ بددیانت تفتیشی افسر اسی مقدمے کا نتیجہ کچھ اور نکالے گا ۔

تفتیش کے لئے افسر کا عادل اور اہل ہونا بھی ضروری ہے اگر ایسا نہیں ہوگا تو دیانتدارانہ تفتیش سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں گے۔ غالباً 2006ء کا واقعہ ہے سندھ کے ایک صوبائی وزیر کی گاڑی میں اسلحہ سمگل کیا جارہا تھا، وزیر خود تو گاڑی میں موجود نہیں تھے لیکن ان کی گاڑی اس مقصد کے لئے استعمال ہورہی تھی، رینجرز نے اس گاڑی کو اسلحے سمیت پکڑا جس کے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اسلحہ ایک ڈاکٹر کو قتل کرنے کے لئے استعمال ہونے والا تھا اور جن لوگوں نے ڈاکٹر کو قتل کرناتھا ان کے حوالے کیا جانا تھا، اب سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کسی وزیر کی گاڑی کو چیک کرسکتی تھی۔ رینجرز نے معاملہ پولیس کے سپرد کیا جہاں وزیر کے ہمدرد بیٹھے تھے چنانچہ معاملہ دب دبا گیا اور بعد میں اس ڈاکٹر کو قتل کردیا گیا کیا ایسے سنگین معاملات کو صوبائی حقوق کی عینک سے دیکھا جائے گا ؟

ایسا نہیں ہوسکتا جرم کو صرف جرم کی حیثیت سے دیکھا اورپرکھا جاسکتا ہے، اسی لئے وزیراعظم نے کراچی میں ہی کہہ دیا تھا کہ آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا اور آخری دہشت گردکے خاتمے تک اسے جاری رکھا جائے گا اب اگر وفاقی حکومت رینجرز کے اختیارات کا جاری شدہ نوٹی فکیشن واپس لیتی ہے تو یہ آپریشن کو لپیٹنے کے مترادف ہوگا۔ اس لئے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ محض ’’صوبائی حقوق‘‘ کے نام پر موجودہ مرحلے پر آپریشن ختم کردیا جائے گا تو اسے معاملے کا صحیح ادراک نہیں، رینجرز کو اختیارات حاصل رہیں گے، آپریشن بھی جاری رہے گا البتہ صوبے کے حقوق کو بھی مجروح نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ چودھری نثار یہی کچھ کرنے کراچی جائیں گے۔

مزید : تجزیہ


loading...