مسطفیٰ کا نجو سمیت کیس کے تمام ملزموں کو نوٹس جاری

مسطفیٰ کا نجو سمیت کیس کے تمام ملزموں کو نوٹس جاری

 لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ میں زین قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم مصطفی کانجو کے سیکیورٹی گارڈ کے کپڑوں سے حاصل کئے گئے خون کے نمونوں کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ خون مقتول زین کا ہی ہے ۔مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس رپورٹ کے بعد یتیم طالب علم زین قتل کیس کے ملزمان کی بریت کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل پرمصطفی کانجو سمیت اس کیس کے تمام ملزموں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا ہے ۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل عدالت نے مدعی مقدمہ اور گواہوں کے منحرف ہونے کے بعد پراسیکیوشن کے گواہوں پر جرح کئے بغیر زین قتل کیس کافیصلہ سنایا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد نے ملزم مصطفی کانجوکے سکیورٹی گارڈ آصف الرحمن کی قمیض سے حاصل کئے گئے خون کے دھبوں کے نمونے کی ڈی این اے رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ڈی این اے رپورٹ میں خون کے دھبے میچ کر گئے ہیں ۔ڈی این اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصطفی کانجو کے سکیورٹی گارڈ آصف الرحمن کی قمیض سے ملنے والے خون کے دھبے زین کے ہیں۔فائرنگ سے جاں بحق ہونے کے بعد مصطفی کانجو کے سکیورٹی گارڈ نے زین کواٹھا کرمصطفی کانجو کی گاڑی میں ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے زین کا خون رستے ہوئے سکیوٹی گارڈ آصف الرحمن کی قمیض کے ساتھ لگ گیا تھا۔ٹرائل کورٹ سے ملزموں کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ نے اس معاملہ کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے نتیجہ میں یہ ڈی این اے رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس کے بعد ہائی کورٹ نے ملزموں کو طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیں ۔

فرانزک رپورٹ

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...