عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کو دوبارہ شروع کرانے کیلئے کوششیں کرے: ڈاکٹرغلام نبی فائی

عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کو دوبارہ شروع کرانے کیلئے ...
عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کو دوبارہ شروع کرانے کیلئے کوششیں کرے: ڈاکٹرغلام نبی فائی

  


واشنگٹن (اے پی پی) امریکہ میں قائم کشمیری تنظیم نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کو دوبارہ شروع کرانے کیلئے کوششیں کریں اور کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں پائیدار قیام امن اور استحکام کیلئے جامع مذاکرات کے عمل میں کشمیری رہنماﺅں کی نمائندگی ضروری ہے۔ ورلڈ کشمیری اویئرنیس تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک دورہ پاکستان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے کسی بھی حل کیلئے کشمیری عوام کے جذبات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیشنل سیکرٹری جنرل رام دیو کی جانب سے حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے دیرینہ مسئلہ پاکستان کی زیر قبضہ کشمیر کا ہے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات شروع کئے جانے سے پہلے بعض بھارتی رہنماﺅں کی طرف سے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیئے جانے کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام دیو یہ بات نہیں جانتے کہ جان ایف کینیڈی نے 25 جولائی 1961ءمیں کیا کہا تھا کہ ”ہم ان افراد کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتے جو یہ کہتے ہیں کہ جو ہمارا ہے وہ ہمارا ہے اور جو تمہارا ہے اس پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں“۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں مذاکرات کے طریقہ کار اس طریقے سے وضع کریں کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کی طرف سے جاری کئے جانے والے کسی بھی مشترکہ اعلامیہ نقطہ نظر ایک ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام بین الاقوامی تنازعات آخر کار مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں، اگر یہ بات سچ ہے تو پھر عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل سبوتاژ نہ ہو۔ کشمیری رہنما نے کہا کہ عالمی طاقتیں پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کیلئے پل کا کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع اور پائیدار مذاکرات کا سلسلہ برقرار رہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اس بات کا انتطار کریں گے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کو ایک جامع پالیسی طریقہ کار میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس سے تنازعہ کشمیر کو تینوں فریقوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں مدد ملے گی جن میں پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن ضرور آئے گا جب مذاکرات میں کشمیریوں کی خواہشات، مفادات اور انکی نمائندگی کو تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات جن میں کشمیری عوام کی خواہشات کو نظرانداز کیا جائے گا نہ صرف ایک بے سود مشق ثابت ہوگی بلکہ جنوبی ایشیاءکے عوام کیلئے ایک ناقابل شمار انسانی اور سیاسی نقصان ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...