’ترکی نے وعدہ پورا نہ کیا‘، ایک اور ملک نے فوج میدان میں اتارنے کی دھمکی دے دی

’ترکی نے وعدہ پورا نہ کیا‘، ایک اور ملک نے فوج میدان میں اتارنے کی دھمکی دے ...
’ترکی نے وعدہ پورا نہ کیا‘، ایک اور ملک نے فوج میدان میں اتارنے کی دھمکی دے دی

  


بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں ترک افواج کی موجودگی کا تنازعہ بالآخر بگڑتے بگڑتے اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جہاں دونوں ممالک کے درمیان خطرناک تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے گزشتہ روز ترکی کو خبردار کردیا کہ اگر اس کے فوجی دستے شمالی عراق سے واپس نہ گئے تو عراق کو بھی اپنی فوج کو میدان میں اتارنا پڑے گا۔

ابراہیم الجعفری کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت تمام تر سفارتی آپشن استعمال کرنا چاہتی ہے اور اگر ترکی نے اپنے فوجی دستے واپس بلوانے کے معاہدے کی پابندی کرنے سے انکار کیا تو آخری صورت کے طور پر مسلح کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بغداد میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا ”اگر ہمیں لڑنے اور اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے تو ہم لڑیں گے۔“

مزید جانئے: افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے: امریکا

اس سے پہلے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی بھی کہہ چکے ہیں کہ ترک حکومت نے شمالی عراق سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کی پابندی نہیں کی گئی۔ انہوں نے بھی زور دیا تھا کہ ترکی عراقی سرزمین سے اپنے فوجی دستے فوری واپس بلائے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراقی وزیر خارجہ کی مسلح کارروائی کی دھمکی انتہائی تشویشناک ہے، جس کے بعد دو اسلامی ممالک کے درمیان صورتحال نازک نظر آ رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...