طاہر القادری کی اے پی سی: سیاسی ڈرامہ!

طاہر القادری کی اے پی سی: سیاسی ڈرامہ!
 طاہر القادری کی اے پی سی: سیاسی ڈرامہ!

  



وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو 10 کروڑ روپیہ معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن ڈاکٹر طاہر القادر ی کی جماعت نے کہا کہ رقم کی ادائیگی بیرون ملک کی جائے، جس کی وجہ سے بات چیت کھٹائی کی نذر ہو گئی۔

اے پی سی کا مقصد لاشوں پر سیاست اور ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔ عوامی تحریک کی کل جماعتی کانفرنس حصول انصاف کے لئے نہیں، سیاست چمکانے کا ایک ذریعہ ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے اے پی سی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں عدم استحکام کا فائدہ دشمنوں کو ہو گا۔ دھرنے یا انتشار کی سیاست کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو گا جو بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

اس نازک وقت میں ضروری ہے کہ ملک میں یکجہتی اور استحکام کو فروغ دیا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔ پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے استحکام ضروری ہے اور اس کے لئے کام کرنا ہے۔

طاہر القادری اے پی سی کو دھرنے کی بجائے قومی یکجہتی کی اے پی سی بنائیں۔ دُنیا کو پیغام دیں کہ پاکستانی قوم کو للکارنے والوں کا ہم یکجہتی سے مقابلہ کریں گے۔ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا ملک کو ڈبو دیتا ہے۔ پاکستان میں استحکام رکھنا ہے اور اس کے لئے کام کرنا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک (پیٹ )کے سربراہ علامہ طاہر القادری جس آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)کی میزبانی کررہے ہیں ، اس میں شرکت کرنے والی تمام اہم سیاسی جماعتیں رسماً ان کی صرف سیاسی اور اخلاقی حمایت کررہی ہیں اور عملی طور پر ان کے ساتھ کسی احتجاج میں شریک نہیں ۔

اس اے پی سی کے ذریعے کوئی تعمیری انتخابی یا سیاسی الائنس بنتا نظر نہیں آ رہا۔عمران خان جو بظاہر ڈاکٹر طاہر القادری کے شانہ بشانہ ، ہم پیالہ نظر آتے ہیں۔

انہوں نے خود شرکت نہیں کی بلکہ اپنا وفد بھیج دیا۔ طاہر القادری خود بھی نہیں جانتے کہ وہ اے پی سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اب تک اس کا اصل مقصد واضح نہیں کیا۔ بظاہر طاہر القادری کی اے پی سی کا مقصد مسلم لیگ(ن) اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ سیاسی نقصان پہنچایا جا سکے۔

اگر طاہر القادری دھرنے یا احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں تو اے پی سی میں شرکت کرنے والی دیگر سیاسی جماعتیں ان دھرنوں میں اپنے کارکنان کو بھیجتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پیٹ سربراہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے کی کوشش کریں۔

عدالت میں اس سے متعلق ایک مقدمہ پہلے ہی زیر سماعت ہے، جس کی سو سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک اہم مطالبہ تھا کہ نجفی رپورٹ جاری کی جائے ، جسے پنجاب حکومت نے پورا کر دیا۔ جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کی یہ رپورٹ نقائص سے بھرپور، نامکمل ، یک طرفہ، بے نتیجہ اور یک طرفہ شواہد پر مبنی ہے۔

اس رپورٹ کا ماڈل ٹاون کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اس رپورٹ میں شہباز شریف سمیت کسی حکومتی شخصیت کو سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے براہِ راست مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی اموررانا ثناء اللہ خاں کا کہنا ہے کہ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاون میں سازش کا امکان ختم کر دیا۔ڈاکٹر طاہرالقادری مرضی کے خلاف فیصلے پرلوگوں کو بہکانا چاہتے ہیں۔

ان کا عدالتی فیصلے پر اعتراض غیر قانونی ، غیر اخلاقی اور غیرآئینی ہے۔ عدالتوں نے فیصلے قانون کے مطابق کرنے ہوتے ہیں، نہ کہ خواہشات کے مطابق۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمے میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور مجھ سمیت دیگر تمام افراد بھی پیش ہوئے اور ہم نے اپنی بے گناہی ثابت کی۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے جب عدلیہ پر اعتماد کیا تھا تو اب اس کے فیصلے کو بھی مانیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لئے انصاف کے نام پر بلائی گئی اے پی سی کا مقصد سیاسی ہے۔ دونوں ایف آئی آر پر جے آئی ٹی بنیں اور دونوں ایف آئی آر کے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں گئے۔

ان کی ایف آئی آر اور استغاثے کے تضادات واضح ہیں،جبکہ گفتگو سننے والے گواہ عام لوگ ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اس کیس کی تاریخ 5 جنوری 2018ء ہے۔ عدالت میں کیس لڑنے کی بجائے سیاسی ڈرامہ بازی کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ کریمنالوجی کے ماہر ڈاکٹر طاہر القادری ایف آئی آر اور استغاثہ کے مندرجات دیکھ چکے ہیں، یقیناًوہ جان چکے ہوں گے کہ عدالت میں ان کا کیس اُڑ جائے گا۔ حکومت متاثرہ افراد کے معاوضے کے سلسلے میں اب بھی کسی نہ کسی سطح پر رابطے میں ہے۔

عوامی تحریک انسداد دہشت گردی کی عدالت میں انصاف کے عمل کا حصہ ہے، لیکن انصاف کے لئے انتظار کی بجائے انتشار کے ایجنڈے پر کار بند کیوں ہیں؟ ایف آئی آر درج ہوئی، چالان عدالت میں جمع ہوا اور انہوں نے بائیکاٹ کیا۔

آصف علی زرداری اور عمران خان حکومت سے اِس لئے خائف ہیں کہ مارچ میں سینیٹ کے الیکشن ہو گئے اور حکومت کے میعاد پوری ہونے کے بعد عام انتخابات ہوئے تو اس کا مسلم لیگ (ن) کو فائدہ ہو گا، اس لئے وہ طاہر القادری کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں اور ان کی آخری کوشش ہوگی کہ دھرنا دے کر حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے کیا گیا وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ ایک سیاسی تماشا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر لاشوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ (ق) جو پیٹ سے شیر و شکر ہو رہی ہے ، اس کے کرتا دھرتا پرویز الٰہی نے سانحہ 12 مئی اور لال مسجد میں ہونے والے آپریشن پر بھی پر پرویز مشرف سے استعفا مانگا ہوتا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی کشتی کے ملاح چودھری برادران اور شیخ رشید ہیں،ایسی کشتیوں کے نصیب میں ڈوبنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کینیڈا کی شہریت رکھنے والے طاہر القادری جمہوریت کش انسان ہیں۔

قانون اور آئین کی پاسداری سے طاہرالقادری کا کوئی واسطہ نہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا کے ایک شہری کے طور پر پاکستان آتے ہیں اور منہاج القرآن میں چودہ جانوں کے ضیاع کی بنیاد پر عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا کر استعفوں کا مطالبہ ورنہ، ’’دمادم مست قلندر ‘‘کے نعرے لگا رہے ہیں۔

ہزارہ صوبے کی تحریک کے دوران کتنی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ کراچی میں کتنے لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا ، کیا اس وقت بھی طاہر القادری نے یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا؟جبکہ یہ سب جاں بحق ہونے والے ہمارے بھائی تھے۔ ہمیں ان سب کا دُکھ ہے؟

شہباز شریف نے دن رات محنت کر کے پنجاب کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے میگا پراجیکٹس کا اعلان کیا ہے، انرجی کے کئی منصوبوں پر عمل درآمد ہوا۔

ایک سال کے اندر وہ پاکستان کی معیشت کو جس طرح استحکام کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ ان سے استعفا مانگا جائے؟ انہیں پاکستان کے کروڑوں عوام نے یہ منصب سونپا ہے، وہ دو چار ہزار افراد کے ’’حکم‘‘ پر کروڑوں لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیں؟ کوئی الزام ثابت ہونے سے پہلے سزا سنانے والے لوگ کون ہیں۔

ان کی جتنی حیثیت ہے، انہیں اس کے تناسب سے بات کرنی چاہئے اور ٹی وی چینلز کی کوریج بھی اسی تناسب سے ہونی چاہئے تھی، مگر کچھ چینلز نے ان غباروں میں اتنی ہوا بھر دی ہے کہ یہ پھٹنے والے ہو گئے ہیں۔

جو مطالبے کئے جا رہے ہیں، وہ سراسر غیرمنطقی ہیں اور اگر سازشی عناصر اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر پاکستان کو خوبصورت بنانے کا خواب دیکھنے والے آئندہ شاید ایسے خواب نہ دیکھ سکیں! حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی اے پی سی سیاسی یتیموں کا شو ہے،جس کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا، جمہوری نظام کے خلاف سازش کرنا اور میڈیا میں توجہ حاصل کرنا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...