یونائیٹڈ بزنس گروپ کا فیڈریشن میں کلین سویپ

یونائیٹڈ بزنس گروپ کا فیڈریشن میں کلین سویپ
 یونائیٹڈ بزنس گروپ کا فیڈریشن میں کلین سویپ

  



فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ہر لحاظ سے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی سب سے اہم اور بڑی تنظیم ہے۔ پاکستان کے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز اپنا ووٹ استعمال کرکے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے عہدیداروں کا انتخاب کرتی ہیں۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کو قائم ہوئے صرف چار سال ہوئے ہیں، اپنے چیئرمین افتخار علی ملک اور سرپرست ایس ایم منیر (سابقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ) نے 29دسمبر کو ہونے والے فیڈریشن کے سالانہ انتخابات میں کلین سویپ کرکے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں اور عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو یونائیٹڈ بزنس گروپ کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔

انتخابات کی کہانی سنانے سے پہلے ضروری ہے کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ کی چار سالہ کارکردگی کا جائزہ بھی لے لیا جائے۔فیڈریشن چار سال پہلے تک کراچی چیمبر سے بھی نیچے آ چکی تھی۔

نوبت یہاں تک پہنج چکی تھی کہ کراچی میں ہونے والی کسی اہم تقریب میں فیڈریشن کے کسی عہدیدارکو دعوت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ وفاقی بجٹ میں بھی فیڈریشن کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا تھا، کیونکہ ان تجاویز میں کوئی جان نہیں ہوتی تھی۔

اس صورت حال کو دیکھ کر ایس ایم منیر اور افتخار علی ملک نے اپنے ہم خیال بزنس مینوں کا اجلاس طلب کیا اور فیڈریشن کی گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بھر سے بزنس کمیونٹی کے حقیقی ترجمانوں اور لیڈروں پر مشتمل ایک نیا گروپ تشکیل دیا جائے جو آزادانہ حیثیت سے بزنس کمیونٹی کی نمائندگی کرے اور نہ صرف فیڈریشن کے انتخابات جیتنے کے لئے حکمت عملی تیار کرے، بلکہ فیڈریشن کو ووٹ دینے والے چیمبرزو ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں کے لئے بھی نامزدگیاں کرے اور نیچے سے لے کر اوپر تک بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل حل کروانے کے لئے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین نے بتایا کہ 2017ء کے انتخابات میں ہمارے گروپ نے جو کلین سویپ کیا ہے، اس کے پیچھے میرا تیس سالہ تجربہ ہے جو میں نے پہلے تو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے حاصل کیا،پھر اس کے بعد فیڈریشن اور سارک چیمبر کی قیادت نے میرے تجربات میں اضافہ کیا اور مجھے احساس ہوا کہ وہ زمانہ گیا جب صرف نام پر بزنس کمیونٹی ووٹ دے دیا کرتی تھی، اب بزنس کمیونٹی بہت ہوشیار ہو چکی ہے اور وہ دیکھتی ہے کہ ان کے جائز مطالبات منوانے کے لئے ہم ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

ابھی دسمبر ہی کے مہینے میں بزنس کمیونٹی نے ہمیں اپنا ایک بہت اہم مسئلہ دیا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خام مال سمیت بہت سی درآمدی مصنوعات پر ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا تھا۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ اور فیڈریشن کی قیادت نے بزنس کمیونٹی کی شکایت پر فوراً وزیراعظم پاکستان سے رابطہ کیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی بزنس دوست ہیں، ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی انڈسٹری ترقی کرے، خصوصاً ایکسپورٹ کے شعبے میں بھرپور کام ہو،جس کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹس میں اضافہ ہو، تاکہ پاکستان کا ادائیگیوں کا توازن خسارے سے نکل سکے۔

ہمارے مطالبات سننے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ہمیں یقین دلایا کہ آپ بزنس کمیونٹی کو جا کر بتا سکتے ہیں کہ ان کا جائز مطالبہ تسلیم ہونے جا رہا ہے اور خام مال وغیرہ کو اضافی اخراجات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ چند روز پہلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،جس پر تمام بزنس کمیونٹی وزیراعظم کی شکر گزار ہے۔

اس وقت پاکستانی معیشت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ فیڈریشن کی سیاست جاننے والوں کو علم ہے کہ یہاں صدر کا عہدہ ہر سال ایک صوبے سے دوسرے صوبے کو منتقل ہوتا ہے، تاکہ پوری پاکستانی بزنس کمیونٹی کو اس اہم ادارے کی خدمت کرنے کا موقع مل سکے۔

2018ء کا سال خیبرپختونخوا کا ہے اور صدر کا انتخاب بھی وہیں سے کیا گیا ہے، الیاس بلور کے بیٹے غضنفر بلور کو آئندہ سال کے لئے صدر منتخب کیا جا رہا ہے۔ غضنفر بلور پڑھا لکھا جو ان بزنس مین ہے، اس کا وژن ہے کہ چھوٹے صوبوں کے معاشی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کروا کر انہیں بھی قومی دھارے میں شامل کیا جائے اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت میں چھوٹے صوبوں کو بھی اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔

سی پیک منصوبے کی وجہ سے چھوٹے صوبوں کو عالمی معیار کا انفراسٹرکچر مل گیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا آسان ہو گیا ہے۔

فیڈریشن کے سابق صدور کی طرح نئے صدر سے بھی بزنس کمیونٹی کو بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ ویسے یہ ایک حقیقت ہے کہ انتخابات سے ایک دن پہلے ہونے والے ڈنر میں چھ سو کرسیاں لگوائی گئی تھیں، لیکن بزنس کمیونٹی کی دوگنا تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کرکے فیڈریشن کے موجودہ انتخابات کو تاریخی حیثیت دے دی ہے۔

سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم منیر نے اپنی تقریروں میں صحیح کہا تھا کہ اس مرتبہ ہم مخالفوں کو ایک سیٹ بھی نہیں لینے دیں گے اور کلین سویپ کریں گے،پھر واقعی ایسا ہوا، لیکن اس سے ہماری ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ بزنس کمیونٹی نے ووٹ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ اب ہمارا سونا جاگنا ان کے لئے وقف ہے۔

مزید : رائے /کالم