نظامِ عدل کی اصلاح کیسے ہو گی؟

نظامِ عدل کی اصلاح کیسے ہو گی؟

  



چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سیّد منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ مقدمات کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،لیکن ججوں کی نہیں، بعض مقامات پر عدالتیں بیت الخلا جیسے ماحول میں فرائض سرانجام دے رہی ہیں،بار اور بنچ مل کر سائلوں کو سستا انصاف فراہم کر سکتے ہیں،لیکن ایسا نہیں ہو رہا،بنچ کی حد تک تو ہم دن رات محنت کر رہے ہیں،ججوں کو تربیت دے رہے ہیں،انفارمیشن ٹیکنالوجی لے آئے ہیں،خواتین اور بچوں کے لئے الگ عدالتیں بھی بنائی ہیں،لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے دوسرے حصہ دار (بار) اِس میں ہمارے ساتھ نہیں، جب ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی لے کر آئے تو بار کے ارکان نے کہا یہ کس لئے لے آئے، کمپیوٹر سب ڈیٹا سامنے رکھ دے گا، کئی(مقدمہ)چھپانے اور نہ لگانے کے بھی پیسے لیتے ہوں گے، تو اِس حوالے سے ہمیں بار سے کوئی رسپانس نہیں ملا، چیف جسٹس نے بار کے ارکان کی ہڑتالوں پر بھی افسوس ظاہر کیا،اُن کا کہنا تھا کہ سالِ رواں میں پنجاب کے 36 اضلاع میں یکم فروری سے لے کر 31 اکتوبر تک 11 لاکھ سے زائد مقامات ہڑتالوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں،نظامِ عدل بہتر بنانے میں وکلا کوئی زیادہ کردار ادا نہیں کر رہے، لاہور ہائی کورٹ میں بڑے فیصلے ہونے کے باوجود کسی قسم کا بیرونی دباؤ نہیں ہے، مجھے تو آج تک کسی نے فون نہیں کیا۔بطور چیف جسٹس نہ مَیں کسی جج کو کچھ کہہ سکتا ہوں نہ کہا ہے کہ کس کا فیصلہ کیسے کرنا ہے۔

چیف جسٹس سیّد منصور علی شاہ جب سے اِس منصب پر فائز ہوئے ہیں انہوں نے نظام عدل میں بہتری لانے کی بہت سی کوششیں کی ہیں،خواتین اور بچوں کے لئے علیحدہ عدالتوں کے قیام سے پہلے مصالحتی نظام رائج کرنا بھی اِسی سلسلے کی کڑی تھا،عدالتوں میں بعض مقدمات عشروں تک چلتے رہتے ہیں اور بعض پر تو یہ مثال بھی صادق آتی ہے کہ مقدمہ دادا کرتا ہے اور فیصلہ پوتا سنتا ہے، جائیدادوں پر قبضے کے مقدمات ایسے ہوتے ہیں، جن میں ایک فریق راستی پر ہوتا ہے اور دوسرا فریق سرا سر غلط، کسی نے جعلی دستاویزات یا زور زبردستی کے ذریعے کسی دوسرے شخص کی جائیداد پر قبضہ کیا ہوتا ہے اور اصل مالک قبضہ چھڑانے کے لئے مرحلہ وار عدالتوں سے رجوع کرتا ہے، تو اِس میں کئی عشرے بیت جاتے ہیں اس میں اُس شخص کا تو کچھ نہیں بگڑتا، جو جائیداد پر ناجائز قابض ہوتا ہے، کیونکہ وہ مالک سے زیادہ حقوقِ ملکیت استعمال کر کے اِس جائیداد سے پوری طرح مستفید ہو رہا ہوتا ہے۔ اگر یہ زرعی اراضی ہے تو وہ زمین کی پیداوار حاصل کرتا ہے اگر یہ کوئی عمارت ہے تو اس کا کرایہ وغیرہ وصول کرتا ہے، اِس طرح حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ وہ وکلا کی فیسوں اور دوسرے اخراجات پر خرچ کر کے جائیداد پر قابض رہتا ہے،جبکہ اصل مالک اپنی جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کے لئے ایک عدالت سے دوسری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے کھٹکھٹاتے اِس دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے،اگر اُس کے ورثا اِس قابل ہوں تو وہ مقدمے کو آگے چلاتے ہیں ورنہ تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں،اِس طرح ایک فریق سے صریحاً زیادتی ہوتی ہے،لیکن وہ بے بس ہوتا ہے، وکلا کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا موکل جائیداد پر ناجائز قابض ہے، اِس لئے وہ مقدمے کو طول دینے کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں،ایسے ہی مقدمات میں اگر وکلا کو پسند کی تاریخ نہ ملے تو عدالتوں میں ہنگامے ہوتے ہیں اور نوبت لڑائی مار کٹائی تک پہنچتی ہے۔

مقدمے بازی کا رجحان نہ صرف فروغ پذیر ہے،بلکہ جھوٹے مقدمات بھی بڑی تعداد میں عدالتوں کے روبرو پیش ہوتے ہیں جن میں تفتیشی افسر کسی ایک فریق کے حق میں اور دوسرے کے خلاف جانبدارانہ تفتیش کر کے مقدمے کا رُخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں،بسا اوقات فاضل ججوں کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں ایف آئی آر تک ایک منصوبہ بندی کے تحت درج کی جاتی ہے تاکہ اوپر تک مقدمے کا ایک رُخ متعین ہو جائے جو کوئی فریق چاہتا ہے،ایسے مقدمات میں پولیس اہلکار باقاعدہ طور پر ملوث ہوتے ہیں، ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف تو اپیلیں اعلیٰ عدالتوں تک جاتی ہیں،لیکن اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر بھی کمزور فریق کو بااثر مخالف فریق کے ساتھ سودے بازی کرنا پڑتی ہے، مختلف شہروں کے ترقیاتی اداروں کے خلاف جو مقدمات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اگر اُن کا تفصیل اور گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ان مقدمات کے پسِ منظر میں بدعنوانی کا ایک بھیانک چکر ہی نظر آئے گا۔

مقدمات کی بھرمار سے نمٹنے کے لئے جتنی بڑی تعداد میں ججوں کی ضرورت ہے اتنی تعداد میں ججوں کی آسامیاں ہی موجود نہیں اور اگر ہیں تو خالی پڑی رہتی ہیں،ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت اگر ایک ہفتے کے مقدمات پر ہی نظر ڈال لی جائے تو آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنے زیادہ مقدمات کی سماعت ایک جج کی بساط سے باہر ہی ہو گی۔ظاہر ہے عدالت کا وقت گزرنے کے بعد بھی جو مقدمات زیر سماعت نہ آ پائیں ان میں تاریخیں ہی دینا پڑتی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز ایسے مقدمات طول پکڑتے ہیں، جس کا فائدہ اُس فریق کو ہوتا ہے جو غلط ہو، جبکہ جائز حق دار فریق ہمیشہ نقصان میں رہتا ہے۔مقدمہ جتنا طول کھینچے گا اُس کے لئے آزمائش کا وقت بھی اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ گزشتہ دِنوں مصالحتی نظام پر بہت زور دیتے رہے ہیں،مصالحتی عدالتوں کی تعداد اور دائرہ کار بڑھا کر بھی روایتی نظام عدالت پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے،لیکن یہ کام ایک منصوبہ بندی کے تحت ہونا چاہئے،اِس سے پہلے ضروری ہے کہ جن ممالک میں اس قسم کا نظام پہلے سے مروج ہے اور مفید نتائج دے رہا ہے اِس کا باقاعدہ مطالعہ کیا جائے اور اِس سے حاصل شدہ نتائج کی روشنی میں کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے، جس سے عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ کم ہو سکے۔

جہاں تک وکلا کی ہڑہتالوں اور عدالتوں کے بائیکاٹ کا معاملہ ہے فاضل جج صاحبان اکثر و بیشتر اِس موضوع پراظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں اور وکلاء کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں اور اپنے موکلوں کی خاطر مقدمات کو التوا میں نہ جانے دیں،لیکن جنابِ چیف جسٹس نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف نو ماہ میں پنجاب میں 11لاکھ مقدمات کی سماعت ان سے متاثر ہوئی،یہ صرف ایک صوبے کا حال ہے اس پر اگر پورے ملک کو قیاس کر لیا جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعداد کہاں تک پہنچ جائے گی،صرف پنجاب میں جن11لاکھ مقدمات کی سماعت وکلا کی ہڑتالوں کی وجہ سے نہیں ہو سکی، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُن میں کتنے ایسے مقدمات ہوں گے، جن میں ملوث لوگ رہا ہونے کے حق دار ہوں گے اور محض مقدمے کی سماعت میں تاخیر کی وجہ سے اُنہیں اپنی زندگی کے بہترین ایام زنداں کی نذر کرنے پڑے ہوں گے۔وکلا اگر اِس پہلو سے سوچیں تو وہ بھی بالواسطہ طور پر اس میں قصور وار ٹھہرتے ہیں،لیکن اُنہیں شاید اِن خطوط پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں،کیونکہ وہ ہڑتالوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور ماضی میں انہوں نے اپنا یہ ’’حق‘‘ استعمال کر کے چونکہ کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں،اِس لئے وہ چیف جسٹس صاحبان کی وعظ و تلقین کے باوجود اپنا رویہ بدلنے کے لئے تیار نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ہڑتالوں کا کلچر فروغ پذیر ہے، ایسے میں فاضل چیف جسٹس نظامِ عدل کی اصلاح کی جو کوششیں کر رہے ہیں، وہ بہت بڑی خدمت ہے ، لیکن یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے۔اگر سپریم کورٹ اور مُلک بھر کے ہائی کورٹوں کی مشاورت سے کوئی ایسا نظام وضع کر لیا جائے، جس سے مقدمات کے فیصلے جلد ہوں اور انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے تو خلقِ خدا دُعائیں دے گی، موجودہ نظام اگر چلتا رہا تو معاشرے میں بے چینی بڑھتی رہے گی، جس کاعملی اظہار ہم عدالتوں کے اندر اکثر دیکھتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...