فالتو گندم کا کیا کِیا جائے؟

فالتو گندم کا کیا کِیا جائے؟

  



ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پاسکو کے گوداموں میں ضرورت سے زیادہ گندم پڑی ہوئی ہے جسے خراب ہونے سے بچانے کے لئے حکومت نے مقامی سطح پر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے اِس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اِس پر عملدرآمد ہونے سے پنجاب سمیت تمام صوبوں کو نقصان ہو گا، جس سے بچنے کے لئے چاروں صوبوں میں پاسکو کی طرف سے فروخت کے لئے پیش کی جانے والی گندم کا یکساں نرخ مقرر کیا جائے ضرورت سے زائد گندم کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے پانچ لاکھ ٹن گندم فروخت کی جائے گی ،پاسکو کے گوداموں میں ہمیشہ لاکھوں ٹن گندم ضرورت سے زیادہ موجود رہتی ہے۔ بعض اوقات بوریاں دو تین سال تک ایک ہی جگہ پڑی ہونے سے گندم خراب ہو جاتی ہے۔ متعلقہ افسران اور اہلکار اپنی جان چھڑانے کے لئے راز داری سے خراب گندم فلور ملز مالکان کو ملاوٹ کر کے دیتے ہیں، تو آٹے کی کوالٹی خراب ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ کھلے آسمان تلے بارشوں اور سیلاب سے گندم بھیگ جانے کا عذر پیش کر کے حقیقت کو چھپا لیا جاتا ہے۔ مُلک میں جب بھی ضرورت سے زیادہ مقدار میں گندم حاصل ہوتی ہے تو گوداموں میں جگہ نہیں رہتی، جبکہ بعض مقامات پر گوداموں کی تعداد کم ہونے سے اُن میں معمول کا سٹاک رکھنے کی گنجائش نہیں ہوتی تو گندم کی ہزاروں بوریاں کھلے آسمان تلے رکھنا پڑتی ہیں۔ یہ گندم اگلے ایک دو سال میں خراب ہونے لگتی ہے۔ اسے آٹا بنانے کے لئے فوراً استعمال نہ کیا جائے تو یہ انسانی خوراک کے قابل نہیں رہتا۔ غالباً اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت نے پاسکو کے گوداموں میں پڑی ہوئی ضرورت سے زائد گندم کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اِس لحاظ سے یہ فیصلہ بہتر اور دانشمندانہ ہے، جہاں تک اس فیصلے کی مخالفت ہو رہی ہے، اسے گندم کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے برداشت کر لینا چاہئے تاکہ عوام کو ملاوٹ شدہ آٹا استعمال نہ کرنا پڑے اور محکمہ خوراک کے ملازمین اپنی جان بچانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اور حربے اختیار نہ کریں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...