ایک عجیب و غریب دوستی (7)

ایک عجیب و غریب دوستی (7)
ایک عجیب و غریب دوستی (7)

  



اگر اپنی زندگی میں تعلیم و تدریس کے کوئی دس برس فاسٹ فارورڈ کر دوں تو والد کے گھر میں دوبارہ جم کر رہنے کا موقع اُس وقت ملا جب مَیں بطور استاد ، گورنمنٹ کالج لاہور اور گورڈن کالج راولپنڈی کے راستے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پہنچنے والا تھا ۔

بیچ میں یونیورسٹی کالج نارتھ ویلز میں ایک سالہ تربیت کا دورانیہ بھی ہے جب یہ سمجھ میں آیا کہ زبان کہنے سننے کا وسیلہ ہی نہیں بلکہ شخصیت پہ اثر انداز ہونے والی ایک بھرپور تمدنی قوت بھی ہے ۔

بہرحال ، ابا کے ساتھ دوستی کے اِس دوسرے دور کی اہمیت بعض اور حوالوں سے ہے ۔ جیسے یہی کہ اب ایک رننگ کنڈیشن والی کار صبح و شام گھر کے گیٹ سے نکلتی اور داخل ہوتی ، جسے دیکھ کر دور سے پتا چلتا کہ حق حلال کی کمائی سے خریدی گئی ہے ۔

سب سے چھوٹے دانش کے سوا ، جو کنگ ایڈورڈ میں ایم بی بی ایس کر رہا تھا ، باقی بہن بھائی پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو چکے تھے ۔ ابا کے مزاج میں بھی قدرے ٹھہراؤ آ گیا تھا ، لیکن لفظ ’قدرے ‘ پہ نظر رہے ، مومنینِ کرام ۔

یہ اِس لئے کہ برطانیہ میں کورس کر کے جب مَیں لندن سے چکلالہ ائر پورٹ اور وہاں سے ٹیکسی پکڑ کر واہ کینٹ پہنچا تو ابا رمضان کی آٹھ تاریخ کو دفتر سے آکر گھر کے اندر بیٹھے ہوئے تھے ۔

آپ کہیں گے کہ ہر معقول روزہ دار کو سہ پہر کی دھوپ میں دفتر سے آ کر گھر ہی پہ ہونا چاہئیے ۔ مروجہ معیار سے دیکھیں تو بات ایسے ہی ہے ، لیکن ہم کسی اور آبائی طرزِ عمل کے عادی تھے ۔ محکمانہ ٹیم کی سطح تک بیڈ منٹن ، رہائشی علاقہ میں سٹار کلب قائم ہو جانے پہ والی بال ، اور کچھ نہیں تو بچوں کے ساتھ کرکٹ ۔

رمضان کی فضیلت اِس پہلو سے ہے کہ اِس مبارک مہنے میں ابا نے روزہ بہلانے کے لئے ماضی میں ہمارے ساتھ کئی بار گلی ڈنڈا کھیلا ۔ چونکہ ہفتہ کے چھ دن شام تک دفتر ہی کے لباس میں ہوتے ، اِس لئے تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک عینک پوش آدمی کا کھلی گراؤنڈ میں گلی ڈنڈا کھیلنا ایک منفرد نظارہ ہوتا ۔

یہ نہیں کہ میری واپسی سے پہلے اُن کے بلڈ پریشر کی تشخیص سے تمام معمولات بدل گئے ۔ بالکل نہیں ، بلکہ شام کی سیر تو اب بھی ایسی تھی کہ واہ جیسے چھوٹے شہر میں لوگ اُن کی باقاعدگی ، تیز رفتاری اور طویل مسافت کو ضرب المثل سمجھتے ۔

پہلی مرتبہ بیمار ہو کر مقامی اسپتال میں داخل ہوئے تو ابتدائی ایام میں انڈر آبزرویشن رکھا گیا۔رات کو تیماردار بھی ساتھ ہوتا،مگر بلڈ پریشر نارمل ہوتے ہی ہسپتال کے کڑے ڈسپلن کے باوجود آپ نے ایک غیر معمولی حرکت شروع کر دی ۔ وہ تھی ہر روز چپکے سے بلااجازت باہر نکل کر مال کی سیر ، جس کا گھر والوں کو بھی علم نہیں تھا ۔

ایک شام جب دو میل پیدل چل کر لوسر باؤلی کے پاس پہنچے ہیں تو کسی نے پیچھے سے آ کر دبوچ لیا ۔ مڑ کے دیکھا تو اسپتال کے کمانڈنٹ بریگیڈئر ثروت ، جو کافی فاصلہ سے پیچھے پیچھے چلتے آ رہے تھے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ آپ کی چوری پکڑی گئی ، اپنے ساتھ اسپتال واپس لے گئے ۔

اِس دور کے واقعات میں ہم چار بہن بھائیوں کی شادیاں بھی ہیں ، جو یکے بعد دیگرے تین سال سے کم مدت میں طے پا گئیں ۔ یہ خوش قسمتی کے کھیل ہیں ، وگرنہ یہ چاروں ایک عجیب آدمی کے بچے تھے ۔

ایک ایسا آدمی جس نے ہر رشتہ کا فیصلہ کرنے میں دو یا تین منٹ لگائے ہوں گے اور یہ سوچنے میں دو تین گھنٹے کہ شادی کے دن خود مَیں کونسا سوٹ پہنوں گا ۔ زاہد کی شادی تو ہماری پھوپھی زاد سے ہوئی جو واقعی اپنے گھر والی بات تھی ۔

میمونہ کی مرتبہ بھی بات پکی کرنے میں خاندانی مراسم کے پیشِ نظر تکلف کا شائبہ نہیں تھا ۔ مگر کمال تو اُن ’غیروں‘ کا تھا جنہوں نے ایک مشترکہ دوست کے توسط سے روبی کا رشتہ مانگا اور یہ کہہ کر ابا کا دل جیت لیا کہ ملک صاحب ، ہم تو انگریز کے زمانے میں ہی فوج میں چلے گئے اور وہ سب کچھ کیا جو اُس زمانے میں ہوتا تھا ، مگر ہمارا مُنا ایسا نہیں ۔

اسی طرح کا قصہ میرا اپنا رشتہ طے ہونے کا ہے ، جسے مَیں تو پسند کی شادی سمجھتا رہا مگر بیگم صاحبہ نے شروع میں ناپسند کی شادی جانا ، کیونکہ انہیں گمان گزرا کہ یہ نوجوان اسسٹنٹ پروفیسر اسٹوڈنٹس کو ، جن میں محترمہ کا چھوٹا بھائی بھی شامل تھا ، زندگی میں باغیانہ روش اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے ۔

ترغیب صرف اِس حد تک تھی جیسے پنڈی کلب گراؤنڈ میں کرکٹ کے ماہرین کہہ دیا کرتے ہیں کہ اِن سونگ پھینکنے والے کو کلب اینڈ کی بجائے چرچ اینڈ سے بولنگ کرنی چاہئیے ۔

یا پھر بھلے زمانوں میں ہمارے گورڈن کالج کے استاد نصراللہ ملک جو کالج یونین کے انتخابی معرکے میں اسلامی جمعیت اور لیفٹ اینڈ لبرل دونوں کے امیدواروں میں سے بعض کو ڈانٹ دیتے کہ بیٹا ، اس بار تم بیٹھ جاؤ ، اگلے سال تمہیں جتوا دیں گے ۔ پھر خود ہی کہتے ’’بچوں کا خیال رکھتا ہوں ، یہ سیاست تو نہ ہوئی‘‘۔

کرکٹ میچ اور انتخابی مقابلے میں فتح خواہ کسی کی ہو ، جس ازدواجی فیصلے کا اشارہ دے رہا ہوں اُس کی منظوری میں کوئی تاخیر نہ ہوئی ۔ واہ والے سرکاری گھر کے گیٹ پر ، جہاں رات کے جھٹپٹے میں میری بہنیں اور مَیں کبھی کبھی پُلیا پہ بیٹھ کر چائے پیا کرتے ، دونوں میں سے چھوٹی ، میمونہ نے اُس روز سفارت کارانہ مہارت کے ساتھ مکالمے کی گیند لڑھکا ئی تھی : ’’آپ سب سے بڑے ہیں مگر زاہد بھائی کے بعد روبی باجی کی شا دی بھی ہو چکی ہے اور اگلے مہینے میری رخصتی ہونے والی ہے ۔ آپ تو بالکل اکیلے رہ جائیں گے ۔ یا تو سوچ لیں کہ اِس کام میں کبھی نہیں پڑنا اور اگر پڑنا ہے تو مزید وقت ضائع نہ کیا جائے ‘ ‘ ۔

میں نے کہا کہ اصولی فیصلہ تو کر لیا ہے کہ وہی کروں گا جو لوگوں کی اکثریت کرتی ہے ۔ پوچھا ’’کسی کو جانتے تو ہوں گے نا؟‘‘ کہا ’’کچھ کچھ جانتا ہوں‘‘ اور ایک نام بتا دیا ۔

یہ تھے اوسلو طرز کے مذاکرات ۔ اگلے دن والدین میری بہن اور بھائی کے ساتھ جب اپنی کہنہ مشق فوکسی پہ اسلام آباد گئے تو رشتہ پکا کرنے کے عمل میں وہ غیر انسانی مناظر دیکھنے میں نہ آیا جن کا مشاہدہ عیدِ قربان سے پہلے دنبے خریدتے وقت ہوتا ہے ۔

حیرت اس پہ ہے کہ بات بات پہ قرآن و سنت کا حوالہ دینے والے متمول و معزز بزرگ اور بزرگنیاں ابھی تک اُن عورت دشمن رواجوں کے اسیر ہیں جن میں اجنبیوں کے سامنے چائے کی ٹرالی پھدکانے کی رسم بھی شامل ہے ۔

اسلام آباد سے واپسی پر والد نے میرے سسر کی تعریف کی کہ اپنی شرافت کی بدولت صحافی لگتے ہی نہیں۔امی اِس لئے خوش ہوئیں کہ ڈاکٹر نبیلہ نے میک اپ نہیں کیا ہوا تھا بلکہ ڈیوٹی سے گھر آکر روٹی پہ ڈائرکٹ بھنڈی ڈال کر کھا رہی تھیں ۔ بھائی زاہد نے یہ کہہ کر مہر لگا دی کہ یار ، ہر لحاظ سے ہم سے بہتر لوگ ہیں ۔

ریکارڈ کی درستی کے لئے کہتا چلوں کہ ماڈرن زمانے کی ڈگر کے برعکس ہماری شادی شدہ زندگی میں ابا کے سارے خاندان کو جوڑے رکھنے کا کریڈٹ اِسی بھنڈی والی خاتون کو جاتا ہے ۔

اشارے تو اُسی دن ملنے لگے تھے جب ایک سہ پہر میری یونیورسٹی سے واپسی پر نبیلہ نے اِترا کر کہا کہ آج مَیں اور ابا جان اسلم مارکیٹ گئے تھے ۔ ’’تو اِس میں خاص بات کیا ہے؟‘‘ ’’خاص بات یہ کہ ہم نے خان کی دکان کے باہر کھڑے ہوکر کوک پیا اور آئس کریم کھائی ‘‘ ۔

یہ ویسے ہی تھا جیسے کوئی کہہ دے کہ ہم نے ایک روز قائد اعظم کو تندور پہ روٹیاں لگواتے ہوئے دیکھا ۔ مجھے یوں لگا کہ اصل چیز تو زندہ رہنے کی ترنگ ہے ، ورنہ رمضان میں روزہ بہلانے کے لئے کرکٹ یا بیڈمنٹن کی بجائے گلی ڈنڈا ، اور سلور گرِل کی چائے کی جگہ خان کی آئس کریم،یہ تو محض زندگی کی علامتیں ہیں ، تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔

آئندہ برسوں میں اَور جو کچھ بدلا اُس میں ابا کے مستقل ایڈریس کی دو مرتبہ تبدیلی بھی شامل ہے ۔ مگر مجال ہے جو انہوں نے اِس فیصلے میں بھی دیر لگائی ہو ۔ بھنڈی والی خاتون ، جو راولپنڈی میڈیکل کالج میں ڈیمانسٹریٹر تھیں ، ایک شام گھر کے نواح میں چہل قدمی کرتے ہوئے پوچھنے لگیں کہ ابا جان ، ریٹائرمنٹ کے بعد کہاں رہنے کا ارادہ ہے ۔

’’بیٹا ، ابھی تک سوچا ہی نہیں ‘‘ ۔ ’’تو کیوں نہ واہ کی بجائے اسلام آباد یا پنڈی میں گھر بنا لیں ؟‘‘ ’’ ٹھیک ہے ، راولپنڈی کینٹ میں زاہد کو بھی آسانی رہے گی‘‘ ۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی برق رفتاری پہ کہا کرتے تھے ’’عوامی فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں‘‘ ۔

کچھ عرصہ بعد مجھے بی بی سی سے نوکری کی پیشکش پہ دوسرا عوامی فیصلہ نبیلہ کا تھا کہ ہمیں لندن میں مستقل نہیں رہنا بلکہ چند سال گزار کر والدین کے پاس واپس آ جائیں گے ۔ اُس وقت ابا سمیت ہم تینوں کو علم نہیں تھا کہ عوامی فیصلے اپنی جگہ ، مگر خدائی فیصلے عوامی فیصلوں سے بڑے ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...