امریکہ، اسلام اور ٹرمپ

امریکہ، اسلام اور ٹرمپ
 امریکہ، اسلام اور ٹرمپ

  



میَں امریکہ اور کینیڈاکا سفر ہر سال 1996ء سے کر رہا ہوں کیونکہ میرے بچے اِن ہی ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ اِتنے عرصے میں مجھے اِن دونوں ممالک کی چمک دمک معاشی خوشحالی ، نظم و ضبط اور ٹیکنالوجی کی کرامات دیکھنے کا کئی بار موقع مِلا۔

بلکہ میَں نے اپنی شائع شدہ کتاب’’سفر بیتی‘‘ میں امریکہ کی سیربینی کا مفصل تذکرہ بھی کیا ، لیکن میرے مضمون میں امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی سماجی، مذہبی معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ٹرمپ جیسے غیر محتاط اور متنازع صدر سے امریکی عوام کا ابھی واسطہ پڑا تھا۔

اپنے سابقہ Visits میں یہاں کے مسلمان گھرانوں سے میرا کافی مِلنا جلنا رہتا تھا اور اُنکی اولادوں کی تعلیمی ترقی دیکھ کر مجھے خوشی حاصل ہوتی تھی۔ دراصل امریکہ میں دو قسم کے پاکستانی آباد ہیں۔ زیادہ تر تو وہ ہیں جو امریکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے اور بعد میں اُن کی شادیاں ہوگئیں اور وہ وہیں کے ہو رہے ۔

اِن پاکستانیوں کی شادیاں زیادہ تر اپنے ہی ہم وطنوں سے ہوئیں۔ دوسری قسم کے وہ اَن پڑھ یا نیم ہنر مند پاکستا نی ہیں جو امریکہ قانونی یا غیر قانونی طور پر پہنچ گئے اور کچھ عرصے بعد لیگل ہو گئے۔

ایسے پاکستانی زیادہ تر امریکہ کے بڑے شہروں میں آباد ہوئے اور ان کاذریعہ روزگار، ٹیکسی ڈرائیوری، دیسی کریانے کے سٹور، پیٹرول پمپ اورپاکستانی کھانوں کے چھوٹے بڑے ڈھابے یا چھوٹے موٹے مستری کا کام کرنے پر منحصر ہے۔

وہ پاکستانی جو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ آئے وہ زیادہ تر میڈیکل، انجینئرنگ، مالیات، اکاؤنٹنسی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں سے منسلک ہو کر خوشحالی سے ہمکنار ہوئے۔

اس وقت یعنی 2017ء میں ہر دو اقسام کے پاکستانی جو 1960ء سے 1990ء تک آئے ظاہر ہے اب وہ صاحبِ اولاد ہو گئے اور اُن کے بچے پیدائشی امریکی ہونے کی وجہ سے امریکہ کے اعلیٰ اِداروں میں داخل ہونے کے اہل ہو گئے۔ بلکہ میَں اپنے ایک دوست کے پوتے کو جانتا ہوں جو امریکی فوج میں اس وقت بریگیڈ یر ہے۔ میَں ایسے پیدائشی امریکی پاکستانی نوجوانوں کو بھی جانتا ہوں جو NASA اور امریکہ کی Secret Service میں بھی ملازمت کر رہے ہیں۔

وہ اَن پڑھ پاکستانی جو امریکہ 60,50 اور 70 کی دھائیوں میں گئے تھے وہ اَب نا نا اور دادا بن گئے ہیں لیکن اِن کی تیسری نسلیں امریکہ کے ہر شعبہ میں کمالات دکھا رہی ہیں۔ یہ پاکستانی نژاد امریکی گورے کو بھی اپنی خاطر میں نہیں لاتے کیونکہ اُنہیں کسی قسم کا Complex نہیں ہے۔

یہ پاکستانی نسل گوروں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں کامیابی کی بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ایشیائی نوجوان نسل، تعلیم اور خوشحالی میں گورے نوجوانوں کو پیچھے چھوڑتی جا رہی ہے۔

کم پڑھے لکھے اور دیہاتی پس منظر کے گورے کو وہاں Red Necks کہتے ہیں اور یہ ہی طبقہ اس دفعہ کے صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کا بڑا حمائتی تھا۔ ٹرمپ کی نسلی متعصبانہ تقریروں نے اِن Trash گوروں میں ایشائی امریکیوں کیخلاف نفرت پیدا کر دی خاص طور سے مسلمان امریکیوں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ امریکی مسلمانوں کی تعداد سرکاری مردم شماری کے مطابق 33 لاکھ ہے لیکن ISNA اور مسلمان سفارت خانوں کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 70 لاکھ مسلمان ہیں۔

جس میں پاکستانیوں کی تعداد قریباً 6 لاکھ ہے۔ ٹرمپ کے منتخب ہونے سے پہلے بھی امریکی مسلمان دینِ اسلام کے عملی پیرو کار تھے۔ مسلمانوں کی فعال تنظمیں تھیں جو اب بھی موجود ہیں۔

اِن تنظیموں میں مسلکی اختلافات بہت کم ہیں حالانکہ عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عریبیہ نے کثیر رقم سے اسلامی مرکز اور مسجدیں امریکہ میں بنوائیں تاکہ وہ اپنے سلفی مسلک کو ترقی دے سکیں۔ اس وقت امریکہ میں3200اسلامی مرکز مسجدیں ہیں جن میں سے 500 کے لگے بھگ سعودی عریبیہ نے تحفتاًً دی ہیں۔ اس کے باوجود امریکی مسلمان کسی مخصوص مسلک کے پیرو کار نہیں بن سکے ہیں۔

یہ امریکی مسلمانوں کا بہت ہی مثبت کارنامہ ہے۔ کسی بھی شہر کی مسجدوں کی تعداد دیکھ کروہاں کی مسلمان آبادی کی تعداد کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ مثلاً نیو یارک میں 502 اسلامک سنٹر اور مساجد ہیں، لاس انیجلس میں 550 مراکز ہیں۔ اسی طرح شکاگو اور ہوسٹس میں 300 سے زائد مراکز ہیں، جبکہ Vermont ریاست میں صرف ایک مسجد ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 70 لاکھ مسلمانوں میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانی نژاد مسلمانوں کی ہے اور اُس کے بعد ایرانیوں کی۔

اس تعداد کو دیکھ کر ہم ایک اور دلچسپ تاریخی پس منظر کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ مسلمان ممالک میں سے زیادہ قربت ماضی میں پاکستانیوں اور ایرانیوں کی رہی ہے۔ اسی لئے اِن ہی دو ممالک کے مسلمان امریکہ میں زیادہ ہیں۔ہندوستانی نژاد مسلمانوں کی تعداد پاکستانیوں سے کم ہے۔

اس سال یعنی 2017ء میں میَں نے امریکہ اور کینڈا کی 5 مختلف اسلامی مراکز میں جمعہ کی نمازیں ادا کیں۔ میَں جاننا چاہتا تھا کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکی مسلمانوں کی دین کے بارے میں سوچ اور روّیوں میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

اسلامی مرکز مسجد تو میَں ٹرمپ کے آنے سے پہلے بھی جاتا تھا۔ امریکی مسلمانوں نے امریکی معاشرے میں رہتے ہوئے جس طرح اسلام کو ایک مکمل عملی دین بنایا ہے ، اس کا مجھے پہلے سے علم تھا۔ مثلاً امریکہ میں مسجد محض نماز ادا کرنے کے لئے ایک عمارت نہیں ہے بلکہ ہر مسجد ایک قسم کا اسلامی کلب ہے جہاں ہر نسل کے مسلمان( ایرانی نہیں کیونکہ اُن کا مخصوص مسلک ہے) اپنے اہل و عیال کے ساتھ اِتوار کی چھٹی کے روز ظہر کی نماز سے لے کر عصر کی نماز تک رہتے ہیں۔

نماز کی ادائیگی کے علاوہ اسلامی مرکز تقریبات (مثلاً شادی، عقیقہ، کھیل کود کے مقابلے)کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ عموماً ہر مرکز میں Indoor باسکٹ بال، والی بال، ٹیبل ٹینس وغیرہ کے لئے فل سائز کے ائیرکنڈیشنڈ ہا ل بنے ہوتے ہیں۔ اکثر مراکز میں خواتین اور مردوں کے لئے مکمل جم بھی ہوتے ہیں جو مسجد کی عمارت سے ملحقہ ہی ہوتے ہیں۔

نمازی اپنی جوتیاں لکڑی کے بنے ہوئے خانوں میں سلیقے سے رکھتے ہیں اور اگر خانے کم پڑجائیں تو جوتیوں کو نہائت قرینے سے فرش پر اُتار یں گے۔ ہماری مسجدوں کی طرح جوتیاں ہاتھ میں لے کر اندر نہیں جاتے اور نہ ہی اُن کو مسجد کے باہربے ڈھنگے طریقے سے اُتارتے ہیں۔

ایسے نمازی جو کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے اُنکے لئے کرسیاں ہیں جو اپنی جگہ پر ہی موجود ہونگی اور وہاں سے اِدھر اُدھر اُٹھائی نہیں جائیں گی۔ جمعہ کی نماز کا خطبہ کوئی پیشہ ور خطیب یا مولوی نہیں پڑھائے گا۔ عموماً نوجوان لڑکے جو سینیئر طالب علم ہو سکتے ہیں یا کوئی ڈاکٹر ، یونیورسٹی کا اُستاد یا تاجر وغیرہ ہو سکتے ہیں۔

جمعہ کی ہر نماز پر میَں نے نوجوانوں کو ہی خطبہ پڑھاتے دیکھا ۔ نمازیوں میں بھی زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہی ہوتی ہے۔ خطبہ انگریزی زبان میں ہوتا ہے اور کسی نہ کسی مخصوص موضوع کو پہلے ہی چُن لیا جاتا ہے جس کے لئے نوجوان خطیب تیاری کر کے آتا ہے تاکہ وہ پہلے ہی سے منتخب موضوع پر مدّلل بات کر سکے۔ میری جمعے کی نمازوں پر جن موضوعات پر خطبے دئیے گئے وہ تھے۔

السلام علیکم(1) As Muslims - We should greet Non Muslims with

(2) We should be loyal to America irrespective of TRUMP'S Anti Islam Speeches.

(3) What is Taharat and what is cleanliness.

مجھے مسجدوں کا یہ ماحول اور نمازیوں کی انٹیلیکچول پختگی بہت پسند آئی۔ خطبے کے دوران مجھے اپنی مسجدوں کے نظم و ضبط سے عاری ماحول کا خیال آیا جہاں فرسودہ ذہن کے امام اور نمازی بھی ہمارے دینِ اسلام کی معاشرتی، معاشی اور سماجی پالیسیوں کا ذکر بھونڈے طریقے سے کرتے ہیں۔ بلکہ درسِ نظامی یا غیر مصدقہ کتابی قصّے سنا کر اپنی دانست میں دین کی ترویج کرتے ہیں۔

امریکہ میں مسلمان تنظیمیں اِسلام کی نشاۃِ ثانیہ کر رہی ہیں۔ چونکہ مغربی ممالک میں جمعہ کے لئے خصوصی وقفہ نہیں ملتاِ اس لئے امریکی اور کینیڈین مسلمانوں نے اِتوار کی چھٹی کو اور ظہر کی نماز کو کثیر تعداد میں اکٹھے ہونے کا اِنتظام کر لیا۔

اتوار والے دن اسلامک سنٹر ایک قسم کا فیملی کلب بن جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے گھر سے کھانا لے کر آتا ہے اور نماز کے بعد تمام حاضرین لنچ مسجد کی بیس منٹ میں اکٹھے کرتے ہیں۔ لنچ کے بعد نوجوان لڑکے لڑکیاں میزوں اور فرش کو شیشے کی طرح صاف کر دیتے ہیں۔

امریکہ اورکینیڈا کے مسلمانوں نے خاص طور سے پاکستانی مسلمانوں نے اپنے نوجوان بچوں کی شادی کرنے کے لئے اِسلامی اور مغربی طریقے کے خوبصورت امتزاج سے Young Muslims Networks بنائے ہیں۔

شادی کے قابل لڑکے اور لڑکیاں اِن Networks کے رُکن بن سکتے ہیں۔ اِن کا اجتماع عموماً اسلامک سنٹرز میں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ مشترکہ Open House لنچ کا اِنتظام کرتے ہیں جس کا مقصد گپ شپ لگانا ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے واقفیت پیدا کرنا بھی۔ اس قسم کی Networking سے امریکی پاکستانی والدین کے بچوں کی شادیوں کی ذمہ داری بڑے احسن طریقے سے ادا ہو جاتی ہے۔

بچوں کے میل جول سے فریقین کے والدین بھی آگاہ رہتے ہیں اور اس طرح ماں باپ کی مرضی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ یعنی پسند کی شادی کے ساتھ Arranged شادی کی رسم بھی پوری ہو گئی۔

برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی ابھی اِتنے کشادہ ذہن نہیں ہوئے۔ وہاں اب بھی شادی کے لئے بَر پاکستان میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ کسی بہن یا بھائی کے بچے کو شادی کے ذریعے برطانیہ لا کر بَسا دیا جائے۔

برطانیہ کی ایسی شادیاں عموماً طلاق پر منتج ہوتی ہیں کیونکہ دولہا یا دولہن میں سے ایک ساتھی دیسی پس منظر کا ہو تو کلچرل اور تعلیمی بیک گراؤنڈ کی تفریق کی وجہ سے مشکل سے نباہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں اس وقت پاکستانی شادیاں 65% طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ میَں برطانیہ میں بینک کی ملازمت کے دوران ہی پاکستانی والدین کے اس سنگین مسئلے سے واقف ہو گیا تھا کیونکہ بینک منیجر جو پاکستانی بھی ہو، اُس سے والدین عموماً اپنے پرائیویٹ مسائل شیئر کر ہی لیتے ہیں۔

دراصل امریکی پاکستانی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اپنے مسائل کا حل نکال لیتے ہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں تارکِ پاکستانیوں کی پہلی کھیپ 1960ء اور1964ء کے درمیان پہنچی تھی۔ یہ لوگ محنت مزدوری کرنے کے لئے آئے تھے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہ لوگ معاشرتی اور سماجی لحاظ سے اپنے آپ کو ولائتی ماحول میں نہیں ڈھال سکے۔

ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے امریکہ کے مسلمانوں میں اتفاق اور Self-preservanceکا عنصر زیادہ نمایاں ہو گیا ۔ سیاہ فام امریکی جو پہلے اپنے آپ کو باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں سے الگ سمجھتے تھے اَب وہ بھی اپنی الگ مسجدوں میں نماز پڑھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

میَں امریکہ کے مشہور کُتب فروشوں اور لائبریریوں میں گیا۔ وہاں پورے پورے شیلف انگریزی زبان میں چھپی اسلامی کتابوں سے بھرے تھے۔ میرے پوچھنے پر ایک لائبریری اِسسٹنٹ جو کالی تھی لیکن کرسچن تھی، نے بتایا کہ اسلامی کتابوں کے پڑھنے والے زیادہ ترگورے ہوتے ہیں۔

یہاں آپ کوبتاتا چلوں کہ امریکی عوام زیادہ مذہب پسند ہیں۔ امریکہ کا آئین سیکولرضرور ہے لیکن وہاں کے لوگ بہ نسبت یورپی کرسچنز کے ، زیادہ تعداد میں چرچ میں جاتے ہیں اور زیادہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ امریکہ کے عیسائی تبلیغی (Evangalist )کے ارکان 8 کروڑ سے زائد ہیں۔

یہ لوگ اسرائیل کی مدد اپنے اس مذہبی مفروضے پر کرتے ہیں کہ جب اسرائیل عظیم ریاست بن جائے گا تو حضرت عیسٰی ؑ (یسوع مسیح)آسمان سے اُتریں گے۔صدر ٹرمپ بھی Evangalist ہے اور اِسی لئے وہ یہودیوں اور اسرائیل کی حمائت کر رہا ہے۔

یہ ہی چیز امریکی گوروں کو اسلامی کتابیں پڑھنے کی طرف کھنچتی ہے۔ ٹرمپ کا شکریہ کہ امریکی غیر مسلم اسلام میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...