پرویز مشرف، ہمت کریں، واپس آئیں

پرویز مشرف، ہمت کریں، واپس آئیں
پرویز مشرف، ہمت کریں، واپس آئیں

  



شریف برادران کوا ین آر او ملتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف بڑی شدت سے کسی این آر او جیسے معجزے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اُس کے بعد پاکستان واپس آ سکیں۔اب تو ملک واپس نہ آنے کی بنا پر اُن کی اچھی خاصی بے عزتی ہونے لگی ہے۔

اُن کے کمانڈو ہونے کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ یہ مذاق بھی کوئی عام تام لوگ نہیں اڑا رہے، بلکہ آصف علی زرداری اور نواز شریف انہیں مختلف نوعیت کے طعنے دے رہے ہیں، جن کا بنیادی ماخذ پرویز مشرف کی بزدلی ہے کہ وہ قانون کا سامنا کرنے کی بجائے بیرون ملک چھپے بیٹھے ہیں۔

پاکستان میں جو حالات بن چکے ہیں، اُن میں اب شاید ہی کسی کو این آر او کے ذریعے کلین چٹ مل سکے۔ سب کو قانون کی چھلنی سے گزرنا پڑے گا، اس کے سوا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ پرویز مشرف خود سوچیں کہ شریف برادران آج بھی اقتدار میں ہیں، مگر انہیں عدالتوں میں پیش ہونا پڑ رہا ہے۔

وہ بہت کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح بالا بالا یہ مسائل حل ہو جائیں،لیکن کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی،اب ایسے میں پرویز مشرف کو ریلیف کیسے مل سکتا ہے؟اُنہیں تو ہمت کر کے پاکستان واپس آنا ہی پڑے گا،یا پھر وہ پاکستان کو بھول جائیں اور کسی دوسرے ملک کی شہریت لے کر سکون کی ریٹائرمنٹ لائف گزاریں۔

پاکستان میں تو انہیں میڈیا نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ اگر دو چار دن بعد کوئی چینل ان کا انٹرویو نہ دکھائے تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔

لیڈری واحد شوق ہے جو شیدے ریڑھی والے کے دِل میں بھی مچلتا ہے،لیکن اس کے لئے کبھی کبھار جو سختیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں، اُن سے سب کی جان جاتی ہے۔ ہمارے اکثر لیڈر تھوڑی سی بھی مشکل آ جائے تو سیدھے بسترِ علالت پر جا لیٹتے ہیں۔اس کے سوا انہیں جان بچانے کا اور کوئی راستہ ہی نظر نہیں آتا۔

مَیں حیران ہوں کہ کل اسحاق ڈار انتہائی صحت مند اور ہشاش بشاش ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئے اور انہوں نے عمران خان کے الزامات کا جواب دیا۔ یہ وہی اسحاق ڈار ہیں جن کی بستر علالت پر تصویر اس وقت تک گردش کرتی رہی، جب تک انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب عدالت سے ریلیف نہیں دے دیا۔ اسحاق ڈار کا ہدایت کار کوئی اچھا آدمی نہیں،کم از کم وہ انہیں یہی مشورہ دیتا کہ صاحب وضاحت کرنی ہے تو کسی بستر پر لیٹ جائیں اور سر پر پٹی باندھ لیں، کم از کم اس ڈرامے کا بھرم تو رہ جائے، جو انہوں نے احتساب عدالت سے غیر حاضر رہنے کے ئے بنایا ہے۔

یہی غلطی پرویز مشرف سے بھی ہوئی تھی، موصوف جب کمر کے علاج کا بہانا بنا کر ملک سے باہر گئے تو جاتے ہی ایک ڈسکو پارٹی میں ڈانس کرتے پکڑ میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری نے طنز کیا ہے کہ کمانڈو کمر درد کا بہانا کر کے ملک سے باہر جاتا ہے اور اُسی کمر کے ساتھ ڈانس بھی کرتا ہے۔

یہ کیسی لیڈر شپ ہمارے پلے پڑی گئی ہے جو فلمی اداکاروں سے بھی دو ہاتھ آگے کی چیز ہے۔ اب پرویز مشرف لاکھ کہیں کہ بلاول بچہ ہے،اُسے اپنی والدہ کے قتل کا الزام اُن پر لگانے کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ اُن کے قتل کا فائدہ کسے ہوا؟۔۔۔اُن کی مراد آصف علی زرداری سے ہے،جو ملک کے صدر بن گئے تھے،لیکن اس طرح تو بات نہیں بنے گی، انہیں واپس آ کر اس لزام کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کو یہ اعتراض ہے کہ پرویز مشرف کو اشتہاری کیوں قرار دیا گیا، سزا کیوں نہیں سنائی گئی؟ کون سی عدالت انہیں سزا سناتی، وہ تو اب بھی خود کو فوج کا کمانڈر سمجھتے ہیں۔ علی الاعلان کہتے ہیں، فوج اُن کی پشت پر کھڑی ہے ، وہ بدلے ہوئے حالات کا ادراک نہیں کر پا رہے۔

اس طرح تو نواز شریف بھی کہتے ہیں کہ پارلیمینٹ اُن کی حمایت کر رہی ہے،پھر انہیں وزارتِ عظمیٰ سے کیوں نکالا گیا ہے۔ دیکھنا تو یہ چاہئے کہ آئین کیا کہتا ہے۔آئین کسی جرم میں ملوث ہونے پر کسی کو ماورائے قانون نہیں سمجھتا۔

عہدہ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قانون شکنی کے مرتکب بھی ہوں،پھر تو آپ کو مزید احتیاط کرنا پڑتی ہے کہ کسی بھی عمل سے آئین یا قانون شکنی کا تاثر نہ اُبھرے۔

فوج آج کل بالکل مختلف انداز سے سوچ رہی ہے۔موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوری اداروں اور عدلیہ کے احترام میں آخری حد تک چلے گئے ہیں، ایسے میں پرویز مشرف کو چاہئے کہ خواہ مخواہ فوج کا جھانسہ دے کر خود کو قانون سے بالا تر کرنے کی کوشش نہ کریں۔

جب وہ خود فوج کے سپہ سالار تھے تو انہیں پکا پکایا اقتدار مل گیا تھا،لیکن اب اگر وہ سیاست کے ذریعے اقتدارمیں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو انہیں چھپنے کی بجائے حالات کا سامنا کرنے کی راہ اختیار کرنا پڑے گی،اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

ملک میں کوئی بھی نگران سیٹ اَپ آ جائے، انہیں ریلیف صرف عدالتوں سے ملنا ہے۔ اب کسی کی جرأت نہیں کہ عدالتی معاملات میں ڈکٹیشن دے سکے۔یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے لئے کسی این آر او کے امکان کو بھی ہر باشعور پاکستانی رد کر رہا ہے،کیونکہ سپریم کورٹ اُن کے بارے میں حتمی فیصلہ دے کر اُن کی سیاسی زندگی کا باب بند کر چکی ہے۔

پرویز مشرف جب نواز شریف پر یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ وہ خواہ مخواہ سپریم کورٹ کو متنازع بنا رہے ہیں،انہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہئے، تو مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے۔

ایک طرف وہ نواز شریف کو عدالتوں کے احترام کا مشورہ دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ وہ ملک اِس لئے واپس نہیں آ رہے کہ انہیں عدلیہ سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔

اِس قسم کی دوعملی سے کوئی کب تک اپنا بھرم قائم رکھ سکتا ہے۔ پرویز مشرف مان جائیں کہ جب تک انہوں نے وردی پہن رکھی تھی، وہ ایک کمانڈو تھے، مگر وردی اُتار کر وہ ایک بزدل جیسا موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔

نواز شریف نے ایک عرصے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اصل میں وہ پرویز مشرف کے فرار کو بھی اپنے اس بیانیہ سے جوڑنا چاہتے ہیں،جو انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اختیار کر رکھا ہے اور جس میں اُن کا استدلال یہ ہے کہ عدلیہ نے ہمیشہ منتخب وزرائے اعظم کا احتساب کیا ہے اور آمروں کو ہمیشہ چھوٹ دی ہے،حالانکہ وزارتِ داخلہ حکومت کے پاس ہے اور وہ چاہے تو انٹر پول کے ذریعے پرویز مشرف کو واپس لانے کی کارروائی شروع کر سکتی ہے،مگر اُس میں اتنی جرأت کہاں؟اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ پرویز مشرف کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔

گویا بال اِس وقت پرویز مشرف کی کورٹ میں ہے کہ وہ عدلیہ کو تنقید سے بچانے کے لئے وطن واپس آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں۔موجودہ عدلیہ سے ہر شخص انصاف کی توقع کر سکتا ہے۔

پرویز مشرف کے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں، وہ اچھے سے اچھا وکیل کر سکتے ہیں، اس طرح باہر بیٹھ کر اپنی شخصیت کو نقصان پہنچانا اور سیاسی مخالفین کے طعنے سننا اُن کے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں۔

بہتر تو یہی ہوتا کہ فوج کی آشیر باد سے پرویز مشرف اگر ملک سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے تو گوشۂ گمنامی میں زندگی گزارتے اور اس راز پر پردہ پڑا رہنے دیتے انہوں نے اربوں روپے کے جو اثاثے بنائے ہیں، اُن کی دیکھ بھال پر ہی اُن کا سارا وقت صرف ہو سکتا ہے۔ہر جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نوکری کر لیتا ہے، وہ بھی وقت گزارنے کے لئے ایسا کرتے اور پاکستانی سیاست سے دور ہو جاتے، مگر لگتا ہے کہ انہیں اقتدار کے دن بھولے نہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ قوم کو اب بھی اُن کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایک سیاسی جماعت بنائی اور اس میں بھی ’’مسلم لیگ‘‘ کے حوالے کو شامل رکھا۔اللہ کے بندے کسی آمر کا مسلم لیگ سے کیا تعلق؟ یہ توایک جمہوری جماعت تھی اور اس نے جمہوریت کے ذریعے ہی پاکستان حاصل کیا تھا۔ ماضی کے ہر آمر کی طرح پرویز مشرف کو بھی یہ خوش فہمی تھی کہ لوگ اُن کے نام پر جوق در جوق اس جماعت میں شامل ہوں گے اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر پھر اقتدار میں آ جائیں گے،اُن کی خوش فہمی کے غبارے سے تو اُسی دن ہوا نکل گئی تھی، جب وہ وطن واپس آئے تھے اور کراچی ایئر پورٹ پر اُن کا استقبال کرنے والوں کو تلاش کرنا پڑ رہا تھا۔ہاں اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا تھا اگر وہ ثابت قدم رہ کر مقدمات کا سامنا کرتے،جیل جانا پڑتا تو جیل جاتے، مکر و فریب کے ساتھ ہسپتال میں داخل نہ ہوتے۔

انہیں کم از کم اتنی احتیاط تو کرنی چاہئے تھی کہ وہ کمر درد کے مریض تھے،مگر داخل دِل کے ہسپتال میں ہوئے،کیونکہ وہاں سیکیورٹی بہت سخت تھی۔پرویز مشرف اقتدار سے ہٹنے کے بعد منظر سے بھی ہٹ گئے ہوتے تو آج شاید اُن کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوتا اور وہ اپنے اور فوج کے لئے ہزیمت کا باعث نہ بنتے۔اب اُن کا نام شاید اِس لئے بھی لیا جاتا ہے کہ اُن پر سیاسی قوتوں کو شبہ ہے کہ وہ باہر بیٹھ کر فوج میں اپنے رابطوں کے ذریعے سازش کر رہے ہیں،حالانکہ ایسا ہر گز ممکن نہیں۔فوج اپنے موجودہ سپہ سالار کو مانتی ہے، ماضی کے کسی کمانڈو سے اُس کا کوئی ایسا تعلق نہیں رہ جاتا۔

پرویز مشرف اگر تو یہ سمجھتے ہیں کہ صبح وہ سو کر اٹھیں گے تو انہیں یہ خبر ملے گی کہ پاکستان میں اُن کے خلاف سب کیس ختم کر دیئے گئے ہیں اور اُن کے لئے فضا ساز گار ہو چکی ہے کہ وہ وطن واپس آئیں اور ایک بارپھر ملک کی باگ ڈور سنبھالیں تو یہ خواب تا ابد پورا ہونے والا نہیں۔

آئین توڑنے والے باقی سب جرنیل دُنیا سے رخصت ہو گئے، صرف وہی بچے ہیں،گویا بالواسطہ طور پر وہ سیاسی حلقوں کی طرف سے فوجی مداخلت پر تنقید کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

اِن حالات میں اُن کی پہلی ذمہ داری تو یہی بنتی ہے کہ ہمت سے کام لیں اور پاکستان آ کر مردانہ وار مقدمات کا سامنا کریں۔ اگر ایسا کرنا اُن کے بس میں نہیں تو پھر سیاست سے کنارہ کش ہو کر اپنی دُنیا میں مست ہو جائیں۔

یہ دو ہی آبرو مندانہ راستے ہیں۔ تیسرا راستہ وہی ہے جس پر وہ اِس وقت گامزن ہیں اور جو اُن کی شخصیت کو ہی نہیں، بلکہ ایک بہادر فوجی کمانڈو کے تصور کو بھی سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...