میو ہسپتال پیڈز سرجری وارڈ میں 3سال سے پروفیسر تعینات نہ کیا جاسکا ، مہرین راجہ

میو ہسپتال پیڈز سرجری وارڈ میں 3سال سے پروفیسر تعینات نہ کیا جاسکا ، مہرین ...

  



لاہور(لیڈی رپورٹر) سابق وزیر مملکت انصاف و پارلیمانی امور مہرین انور راجہ نے کہا ہے کہ میو ہسپتال میں پیڈز سرجری وارڈ میں گزشتہ 3سال سے کوئی پروفیسر ہی تعینات نہ کیا جاسکا ،پیڈز سرجری وارڈ جونئیر ڈاکٹروں کے سہارے چل رہی ہے پیڈز سرجری وارڈ میں ایک پروفیسر،4اسسٹنٹ پروفیسر، سینئر رجسٹرار کی5سیٹیں عرصہ سے خالی پڑی ہیں،200بستروں پر مشتعمل پیڈز سرجری وارڈ میں صرف 5میڈیکل آفیسر اور6پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹر کام کررہے ہیں جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو سرجری کے حوالے سے2سال کا ٹائم دیا جارہا ہے ۔پیڈز سرجری کی ایمرجنسی میں کوئی ایک نونیٹل وینٹی لیٹر ہی موجود نہیں جبکہ200بیڈز کے واڈ میں صرف6وینٹی لیٹر ز دستیاب ہیں۔بچوں کو ایمرجنسی کی صورت میں ونیٹی لیٹر کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لاہور میں صرف میوہسپتال کے شعبہ اطفال میں جلے ہوئے چھوٹے بچوں کا برن یونٹ موجود ہے جس میں جلے ہوئے بچوں کو واش کرنے کیلئے ہائیڈرولنگ سسٹم ہی موجود نہیں،لاہور میں بچوں کے واحد برن یونٹ صرف40بستروں پر مشتمئل ہے اور ایک بستر پر دددو بچوں کو رکھا جارہا ہے جس سے ایک بچے کی انفیکشن دوسرے میں منتقل ہورہی ہے برن یونٹ میں ڈاکٹروں اور عملے کی بھی شدید کمی ہے عوام کو بتایا جائے کہ میوہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کب تک پوری ہوگی اور سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹوں کو کب تک دور کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...